40

‘گرودوارہ تیار ہے اور ہم بھی، گیند انڈیا کے کورٹ میں ہے’

سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کا سنہ 1539 میں جب انتقال ہوا تو روایت ہے کہ مقامی مسلمان، سکھ اور ہندو آبادی میں ان کی آخری رسومات کے حوالے سے تفرقہ پڑ گیا۔

دونوں اپنی اپنی مذہبی روایات کے مطابق ان کی میت کو دفنانا اور آڑہتی کو جلانا چاہتے تھے۔ آگے کیا ہوا، اس پر آرا مختلف ہیں، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ بابا گُرو نانک کی میت چادر کے نیچے سے غائب ہو گئی اور اس کی جگہ مقامی افراد کو محض پھول پڑے ملے۔

ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک حصہ مسلمانوں نے اپنی روایت کے مطابق دفنایا تو پاس ہی دوسرا ہندوؤں اور سکھوں نے احتراق کیا۔ لگ بھگ اسی مقام پر آج گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی عمارت کھڑی ہے۔

یہ مقام سکھ برادری کے لیے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ تاہم دنیا میں بسنے والے تقریباً تین کروڑ سکھوں کی اکثریت گذشتہ 71 برس سے اس کی زیارت سے محروم ہے۔

سنہ 1947 میں بٹوارے کے وقت گردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ایک لمبے عرصے تک یہ گردوارہ بند رہا۔

جب تقریباً اٹھارہ برس قبل کھلا تو بھی انڈیا میں بسنے والے سکھ برادری کے تقریباً دو کروڑ افراد کو یہاں آنے کا ویزہ نہیں ملتا تھا۔

معاہدے کے تحت ہر سال بابا گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کی زیارت پر پاکستان آنے والے چند سکھ یاتریوں کو کرتارپور کا ویزہ حال ہی میں ملنا شروع ہوا، تاہم ان کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں رہی۔

کئی ناکام کوششوں کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان انڈیا کے درمیان کرتارپور کے مقام پر سرحد کھولنے کی بات چل نکلی ہے۔

کم از کم پاکستانی حکومت نے اس بات کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے بعد انڈیا میں مقیم سکھ برادری کو یہ امید ہو چلی ہے کہ شاید عنقریب وہ اپنے مقدس ترین مذہبی مقام کی زیارت کر پائیں گے۔

مگر کیا ایسا ممکن ہے؟ اس میں کتنا وقت درکار ہو گا؟ زائرین کی آمد سے قبل کن انتظامات کی ضرورت ہے؟ اور سکھ برادری اس قدر پُر جوش کیوں ہے؟

چار کلو میٹر کا پُل
انڈیا میں مقیم دربار صاحب کرتارپور کے درشن کے خواہش مند افراد اب بھی اس کو دیکھ ضرور سکتے ہیں مگر چار کلومیٹر دور سرحد کے اُس پار سے۔

انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے ایسے دید کے خواہش مندوں کے لیے سرحد پر ایک ‘درشن استھل’ قائم کر رکھا ہے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے دربار صاحب کا دیدار کرتے ہوئے اپنی عبادت کرتے ہیں۔

وہاں سے یہ گرودوارہ کتنا اور کیسا نظر آتا ہے یہ معلوم نہیں تاہم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال میں شہر سے تحصیل شکر گڑھ کی جانب جاتی شاہراہ سے دربار صاحب کی عمارت میلوں دور سے نمایاں نظر آتی ہے۔

شاہراہ سے اس کی جانب کچی سڑک پر مڑتے، چند فرلانگ کا فاصلہ طے کرتے ہی لہلہاتے دھان کے کھیتوں میں کھڑی گردوارہ کی سفید عمارت کے خدوخال مزید واضح ہوتے ہیں۔

سیلابوں سے متاثر ہونے کے بعد سنہ 1920 سے 1929 کے درمیان تعمیر کی جانے والی موجودہ عمارت کی چھت سے انڈین سرحد پر لگی باڑ کے ساتھ چلتے اونچے درختوں کے جھُنڈ صاف دکھائی دیتے ہیں۔

دربار صاحب کے گرانتی گوبند سنگھ کو معلوم ہے کہ درشن استھل انڈین سرحد پر عین کس مقام پر واقع ہے۔ یہاں درختوں کا جھنڈ قدرے تراشا ہوا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ‘گردوارے سے وہاں تک تقریباً چار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ راستے میں دریائے راوی اور نالہ بئیں پڑتے ہیں۔

گرداورے سے ایک کچی سڑک پر اس جانب بڑھیں تو آدھ کلو میٹر پر پہلے نالہ بئیں آتا ہے۔ اس کے پار دو کلو میٹر پر دریائے راوی کا کنارہ ہے۔

دریا کے اُس پار قریباً ایک کلو میٹر بعد سرحد ہے۔ نالہ بئیں دریائے راوی سے نکل کر چند کلو میٹر بعد دوبارہ دریا میں گر جاتا ہے۔ راوی میں سیلاب آنے کی صورت میں نالے اور دریا کے درمیان واقع میدان بھی زیرِ آب آ جاتا ہے۔ اس طرح تقریباٌ تین کلو میٹر کا علاقہ پانی کے نیچے ہوتا ہے۔

کئی فٹ چوڑے بئیں نالہ کو عبور کرنے کے لیے مقامی لوگ بیڑے کا استعمال کرتے ہیں جبکہ دریائے راوی پر بھی پُل موجود نہیں۔

اگر پاکستان اور انڈیا کرتارپور سرحد کھولنے پر راضی ہو جاتے ہیں تو زائرین کی آمد سے قبل ان کی بلا تعطل آمدورفت کے لیے اس گزرگاہ پر تقریباً چار کلو میٹر لمبا پُل تعمیر کرنے کے ضرورت ہو گی۔ ساتھ ہی پکی سڑک بھی بنانا ہو گی۔

گرنتھی گوبند سنگھ کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جب کرتارپور کھولنے کی بات چلی تھی ‘تو اس سڑک پر بئیں نالے پتھر تک ڈال دیا گیا تھا۔ وہ آج تک موجود ہے مگر سرحد کھلنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی۔’

سکھ برادری بیتاب کیوں؟
کرتارپور سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔ گرو نانک نے اپنی 70 برس اور چار ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا۔ گوبند سنگھ کے مطابق کرتارپور میں انھوں نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے لمبا عرصہ ہے۔

‘کرتارپور کا نام بھی انھوں نے خود تجویز کیا تھا۔ کرتار کا مطلب ہے ‘کرنے والا’ اور سکھوں کے دوسرے گرو گُرو انگد نے بھی سات برس کا عرصہ یہیں گزارا۔ انھیں گرو نانک نے اپنی زندگی ہی میں دوسرا گرو مقرر کیا تھا۔’

اس وقت کے برصغیر کے اس علاقے میں کرتارپور کے مقام پر گُرو نانک کی رہائش تھی اور چلِے یا مراقبے کے لیے وہ دریائے راوی کے پار اس مقام پر جایا کرتے تھے جہاں آج سرحد سے ایک کلو میٹر پر انڈیا میں ضلع گرداس پور میں گردوارہ ڈیرہ بابا نانک واقع ہے۔

کرتارپور کے گردوارے کے داخلی دروازے سے چند قدم پہلے بائیں جانب ایک کنواں ‘سری کھو صاحب’ واقع ہے جو بابا گرو نانک سے منصوب ہے۔ گوبند سنگھ کے مطابق اس کنویں کا پانی کبھی خشک نہیں ہوا۔ آج بھی جاری ہے۔

گردوارے میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب ایک احاطہ ہے۔ پاؤں دھو کر اس داخل ہوتے ہی ایک چھتری کے نیچے درگاہ صاحب آتا ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں مسلمانوں نے بابا گرو نانک کے پھول اور چادر کا ٹکڑا دفنایا تھا۔ گرو نانک مسلمان نہیں تھے تاہم ان کی تعلیمات مقامی مسلمانوں کے عقائد سے خاصی مطابقت رکھتیں تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان انھیں ایک بزرگ کی حیثیت دیتے تھے۔ گرو نانک معاشرے میں رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔ گوبند سنگھ کے مطابق اس کو عملی طور پر ثابت کرنے کے لیے انھوں نے مکہ کا سفر بھی کیا تھا۔

آج بھی پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً صوبہ سندھ سے آئے مسلمان زائرین درگاہ صاحب پر فاتح خوانی کرتے اور گردوراے کے لنگر سے پرشاد کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

درگاہ صاحب سے آگے بائیں جانب گردوارے کی عمارت کے اندر ‘سمادھی’ واقع ہے۔ یہاں ہندوؤں اور سکھوں نے اپنے حصے کے گرو نانک کے پھولوں کو جلایا تھا۔

سکھوں کے لیے اس مقام کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرتارپور کے کھلنے کے امکانات کا ذکر ہی ان کے جذبات کو ابھارنے کے لیے کافی ہے۔

دربار صاحب گردوارہ کے گرانتی گوبند سنگھ کہتے ہیں ‘گرودوارہ بھی تیار ہے اور ہم بھی، اب بس گیند انڈین حکومت کے کورٹ میں ہے۔’

گردوارے کے باہر پہلو میں چند کمرے بھی واقع ہیں۔ تاہم سرحد کھلنے کی صورت میں کیا یہ یاتریوں کی رہائش کے لیے کافی ہوں گے؟

کتنا وقت لگ سکتا ہے؟
پاکستان کے نئے وزیرِ اعظم عمران خان کے حلف اٹھانے کی بعد ہی سے اس حوالے سے باتیں ہو رہی ہیں۔

عمران خان کی تقریبِ حلف برداری سے واپسی پر سابق انڈین کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو کا بیان سامنے آیا تھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ نے ان سے کرتارپور سرحد کھولنے کے امکانات کے حوالے سے بات کی تھی۔

اس کے بعد چند روز بعد پاکستان میں انڈیا کے سفیر نے کرتارپور کا دورہ بھی کیا۔ حال ہی میں پاکستانی حکومت کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں بھی اس بات کا عندیہ دیا کہ ان کی حکومت کرتارپور سرحد کھولنے کے لیے آمادہ ہے۔

اس حوالے سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ سکھوں کو کرتارپور تک رسائی دینے کے لیے ایک ویزہ فری کاریڈور تعمیر کیا جائے۔ یعنی سکھ یاتری صرف دربار صاحب تک آ پائیں گے اور انھیں اس کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

تاہم پاکستان اور انڈیا کی حکومتیں اس پر راضی ہوتی ہیں یا نہیں اور اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے تاہم اگر ایسا ہو بھی جائے تو زائرین کے سفر کو ممکن بنانے کے لیے درکار سہولتوں کی تعمیر پر وقت ضرور لگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.