17

کیک کی مٹھاس

فلم ’کیک‘ کی ریلیز سے کچھ دن پہلے ایک دوست نے جو خود بھی فلمساز ہے، مجھ سے پوچھا کہ میرے خیال میں ’کیک‘ سینیما کے باکس آفس پر کامیاب ہو پاۓ گی کہ نہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں سو فیصد گارنٹی کر سکتا ہوں کہ فلم پاکستان میں کامیاب نہیں ہو گی۔

اس کی وجوہ میں نے تین بتائیں۔ پہلی تو یہ کہ عام تاثر میں یہ فلم ایک ’آرٹ ہاؤز‘ فلم ہے یعنی کہ اس میں ’کمرشل‘ فلموں کا مسالہ نہیں ہے۔ دوسری یہ کہ اس کے مرکزی اداکار، یعنی آمنہ شیخ، صنم سعید اور عدنان ملک ایسے اداکار نہیں جو صرف اپنے سٹار پاور پر فلم بینوں کو سینیما کی طرف راغب کر سکیں اور تیسری وجہ یہ کہ جس وقت ’کیک‘ ریلیز ہو رہی تھی، اس وقت پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ سیریز کھیلی جا رہی تھی اور ہم ٹی وی کا منظم کردہ ’پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ بھی چل رہا تھا، جس سے یقیناً سینیما گھروں میں آنے والوں کی تعداد پر منفی اثر پڑے گا۔

’کیک‘ کو اس کے پریمیئر پر دیکھنے کے بعد، اگرچہ میں اپنے تجزیے پر قائم رہا لیکن میری بڑی خواہش تھی کہ میری پیشنگوئی غلط ثابت ہو جائے کیونکہ باکس آفس کی جھنجھٹ ایک طرف، ’کیک‘ ایک خوبصورت فلم ہے جس کے ہدایتکار کی مہارت اور جس کے اداکاروں کے عمدہ کام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر پاکستانی سینیما کے حوالے سے، ’کیک‘ اُن دو تین فلموں میں سے ایک ہے جن کا تشخّص خالصتاً پاکستانی ہے اور جو پاکستانی فلموں کے لیے نئی راہیں کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

’کیک‘ کی کہانی سطحی طور پر بہت سیدھی سادی ہے۔ زرین (آمنہ شیخ) کراچی میں اپنے بوڑھے ماں باپ (بیو ظفر اور محمد احمد) کا خیال رکھتی ہے۔ گھر کے کام اور سندھ میں باپ کی زمینوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے۔ لیکن جب باپ اچانک ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو اُس کی بہن زارا (صنم سعید) اور کچھ دنوں بعد، بڑا بھائی زین (فارس خالد) جو دونوں ملک سے باہر رہتے ہیں، کراچی واپس آجاتے ہیں، جس سے زرین کی ان کے بارے میں سرد مہری باہر نکل آتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی باپ کی ہسپتال سے واپسی پر، ماں میل نرس رومیو کو ان کی دیکھ بھال کے لیے گھر میں رہنے کے لیے بلا لیتی ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ زرین اور رومیو میں پہلے سے کوئی چھپا ہوا رشتہ ہے۔ جس کی ٹینشن اس ماحول میں زیادہ کھل کر ظاہر ہو جاتی ہے۔

’کیک‘ کا نام سطح در سطح ان احساسات اور خواہشات کی طرف اشارہ ہے جو اس خاندان اور اس کے رشتوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ زرین اپنے بھائی اور بہن کی خود غرضی سے نالاں ہے جس کی وجہ سے اس نے خود اپنی زندگی کی امیدوں کو ایک طرف رکھ دیا اور اکیلے گھر کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ ماں اور باپ اپنے ’گلوبل بچوں‘ کی طرح خود بھی اپنی اصل دھرتی، یعنی اپنے گاؤں، سے دور رہتے ہیں اور اس کو یاد کرتے رہتے ہیں۔

ان میں آپس میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے لیکن ان کو بھی معلوم ہے کہ ان کے پاس اپنا اکیلا پن مٹانے کے لیے ایک دوسرے کے سوا اور کوئی نہیں اور پھر زرین اور رومیو کا پراسرار رشتہ، جو مذہب اور طبقات کی حدیں پھلانگتا ہے اور جس کے پیچھے خاندان کا ایک راز چھپا ہوا ہے۔

’کیک‘میں اداکاری کا معیار بہت اونچا ہے اور تقریباً سب نے ہی بہت عمدہ کام کیا ہے لیکن آمنہ شیخ کی فطری اداکاری کسی انکشاف سے کم نہیں۔ آمنہ ٹی وی کے ڈراموں میں پہلے بھی اچھی اداکاری کرچکی ہیں لیکن یہاں جس طرح وہ اپنے رول میں اتری ہیں، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

فلم اردو میں ہے لیکن جہاں انھیں سندھی بولنی پڑتی ہے وہاں بھی وہ آزمائش پر پوری اُترتی ہیں۔ اتنی کمال کی پرفارمنس دینے میں ضرور اس بات کا بھی ہاتھ ہے کہ ان کے سامنے والے اداکار بھی نہایت ہی فطری طور پر اپنے کرداروں کو نبھاتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر صنم سعید اور محمد احمد کا ذکر ضروری ہے۔

دونوں ہی اپنے کریئر کا بہترین کام پیش کرتے ہیں۔ زرین، زارا اور ان کے باپ کا رشتہ کبھی بناوٹی نہیں لگتا۔ عدنان ملک کے رومیو کے کردار کی قوت اس بات میں ہے کہ وہ شوخ کردار نہیں ہے اور زیادہ تر دھیما ہی رہتا ہے۔ دوسری طرف بیو ظفر کا ماں کا کردار مزیدار حد تک شوخ ہے جس سے فلم میں کچھ ہنسی کے لمحے بھی میّسر ہوتے ہیں۔

لیکن میرے خیال میں اس فلم کا اصل سٹار اس کے ہدایتکار اور لکھاری عاصم عباسی ہیں، جنھوں نے نہ صرف انتہائی نیچرل جملے لکھے ہیں بلکہ اپنے سارے اداکاروں سے نہایت ہی فطری پرفارمنسز کروائی ہیں۔ اس طرح کی فلم میں بہت آسان ہوتا کہ ٹی وی ڈراموں کی طرح اداکار رک رک کر، کیمرے کی آنکھ کو متاثر کرنے کے لیے اور دیکھنے والوں سے داد حاصل کرنے کے لیے، دکھاوے کی ’اداکاری‘ کرتے لیکن عباسی ایسا کبھی نہیں ہونے دیتے۔

’کیک‘ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی کہانی کا ’فلو‘ یا بہاؤ کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیتا کہ آپ فلم دیکھ رہے ہیں۔ عاصم عباسی کی بطور ہدایتکار یہ پہلی فلم ہے لیکن ان کی مہارت سے آپ کو ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوتا۔

فلم کے بہاؤ کے حوالے سے تین اور چیزوں کا ذکر ضروری ہے۔ ایک تو اس کی عکاسی، جو مو اعظمی نے کی ہے (وہ اس سے پہلے’021’ اور ’جلیبی‘ کی عکسبندی بھی کر چکے ہیں) اور جو دنیا میں کسی بھی لیول پر پرکھی جا سکتی ہے۔

خاص طور پر اس سین پر نظر ڈالیں جس میں کیمرہ بغیر کسی کٹ کے کئی منٹ تک گھر کے اندر سے باہر گھومتا ہے۔ دوسری اس کی تدوین کی، جو مایا ناز انڈین ایڈیٹر آرتی بجاج نے کی ہے (وہ ’پان سنگھ تومار‘، ’اُڑان‘ اور ’راک سٹار‘ جیسی فلموں کی تدوین بھی کر چُکی ہیں) اور جس کی وجہ سے کوئی سین ضرورت سے زیادہ لمبا نہیں ہو پاتا۔ تیسری چیز اس کی موسیقی کی، جس کی نگرانی سیف سمیجو نے کی ہے۔

فلم میں عام دیسی فلموں کی طرز پر کوئی گانا نہیں ہے لیکن اس کی بیک گراؤنڈ موسیقی نہ صرف متاثرکن ہے بلکہ ہر سین کے حوالے سے بہت اچھی طرح کہانی اور سِچوُایشن کا ساتھ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ساؤنڈ ڈپارٹمنٹ کی بھی داد دینی چاہیے۔ اگرچہ اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے لیکن پاکستانی فلموں میں اکثر یہ ایک کمزور شعبہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ’کیک‘ کی پروڈکشن ویلیوز اعلیٰ درجے کی ہیں۔

اگر مجھے ’کیک‘ میں کوئی نُقص نظر آیا تو وہ دو باتوں میں تھا۔ ایک تو یہ کہ میرے خیال میں فلم کو 10 سے 15 منٹ مختصر ہونا چاہیے تھا۔ اس کا تعلق صرف فلم کے دورانیے سے ہے، سچ بات یہ ہے کہ مجھے نہیں پتا کہ اس میں سے کس حصّے کو نکال دیا جا سکتا ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب کہانی کا بڑا راز فاش ہوتا ہے تو وہ مجھے تھوڑا کمزور لگا۔ کچھ ناقدین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ کہانی ایک خاص طبقے کی ہی ترجمانی کرتی ہے۔ یعنی ایک ایسا خاندان جو امیر ہے اور جس کے مسئلے مسائل کوئی ایسے خاص توجہ طلب نہیں ہیں۔

میرے خیال میں اس فلم میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ یہ پورے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک خاندان کی کہانی ہے اور جہاں تک اس کا تعلق ہے خاندان کے مسائل ان کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ ہاں، اس دائرے میں رہتے ہوۓ بھی، کہانی کے بڑے کلائمیکس میں زیادہ جان ہوتی تو اس کا اثر یقیناً گہرا ہوتا۔

بہر کیف، ’کیک‘ دیکھنے کے عین قابل ہے اور وہ پاکستانی جو ہر وقت پاکستانی فلموں کی کوالٹی اور اُن کی غیر قابلِ یقین کہانیوں کو کوستے رہتے ہیں، اُن کو ضرور سینیما کا رخ کرنا چاہیے۔

رہا سوال باکس آفس کا، تو میں نے فلم دیکھنے کے بعد اپنے فلمساز دوست سے یہ ضرور کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ’کیک‘ پاکستان سے کم کمائی کی تلافی دنیا بھر کی کمائی سے کر لے۔ کیونکہ اس کی پذیرائی یقیناً ہوگی اور وہ اِس کی حق دار بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں