33

کیا عمران خان نے مزار پر سجدہ کیا؟

دی بنوں : اس وقت پاکستان کے لئے ایک مخلص ، ایماندار اور سچا انسان چاہیے جو خود چور اور کرپٹ نہ ہوں اور نہ ہی چوروں اور کرپٹوں کا ساتھی ہو۔ چونکہ پاکستان میں سیاست مسلک کی بنیاد پر نہیں ہوتی ۔ کیونکہ یہ مغربی جمہوریت اسلامی خلافت کے بالکل متزاد نظام ہے۔ اور اسلامی تاریخ میں کوئی اس موجودہ مغربی نظام کوپیش کر سکتا ہے۔ اور اس نظام میں ہم سب ننگے ہیں مذہب کو بنیاد بنا کر سیاست کرنے والوں کو میرا ایک ہی جواب ہےکہ ھم عمران کو ایک سیاستدان کے طورپر سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ وہ نظام بہتر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اسکو مذہبی پیشوا نہیں مانتےاور نہ ھی اسکی تقلید اور پیروی کرتےہیں۔

عمران خان نے کم علمی یا پیرنی کی تقلید اور پیروی میں جو بھی کیا انتہائی غلط کیا، غیر شرعی کام اور دین اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں،جس کی جتنی مذمت کی جاسکے کم ھے۔ لیکن ہم سب کو پتہ ہے کہ ایم ایم اے اور جے یو آئی کے اتحادیوں میں یہ سب جائز ہیں۔

باہر کیف عمران خان کافرید باب کے چوکٹ کا بوسہ لینے کا ایک فائدہ یہ ضرور ھوا۔ کہ آج پورا ملک جاگ گیا کہ مزاروں پر ایسی خرافات کرنا شرک ھے۔ ورنہ علماء کرام اور خاص کر اہلحدیث ، جماعت اسلامی ، جماعت داعہ اور تبلیغی حضرات تو تھک گئے ہیں یہ تبلیغ کرتے کرتے۔ ابھی بھی درباروں پر خواتین کی ڈھول پہ دھمالیں، قبریں پر چھاڑاویں کرنے ، پیروں ملنگوں کو سجدے ھو رھے، اللہ کو چھوڑ کے بابوں کے نام کے چڑھاوے معمول بن چکا ہے۔ اور ایسی جگہوں پر بریلوی یا سنی مسلک کا کوئی ایک عالم لوگوں کو ان بدعات سے روکنے والا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.