170

کیا سرفراز کی ٹیم ڈوپلیسی الیون سے بہتر ہے؟

ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ٹیم جس طرح ڈوپلیسی کی ٹیم کے سامنے یکسر بے جوڑ سی دکھائی دی، اس کے بعد بہت کم شائقین ہوں گے جو بے تابی سے ون ڈے سیریز کے منتظر ہوں۔ مگر بہرحال پانچ ون ڈے میچز تو پاکستان کو کھیلنا ہی ہیں۔

پچھلی بار جب پاکستان اور جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز میں مدِمقابل ہوئے تھے تو پاکستان نے پہلی بار ایسی کوئی دوطرفہ سیریز جیت کر تاریخ رقم کر دی تھی۔ یہی نہیں، مصباح کی ٹیم پہلی ایشین ٹیم تھی جو جنوبی افریقہ کے ہوم گراونڈز پہ ون ڈے سیریز جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

مگر دلچسپ بات یہ کہ وہ ون ڈے ٹیم شاید پاکستانی تاریخ کی کمزور ترین ٹیم تھی۔ سرفراز کی ٹیم اس کے برعکس کہیں زیادہ متوازن اور بہتر مقابلے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں بیٹنگ کی بھی ورائٹی ہے اور بولنگ آپشنز میں بھی بہت تنوع ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ فاف ڈوپلیسی بھی کہنے پہ مجبور ہوئے کہ پاکستان کی ون ڈے ٹیم جنوبی افریقہ سے بہتر ہے۔ یہ بات جب اس کپتان کے منہ سے سامنے آتی ہے جو ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کر چکا ہو تو اس کی وقعت اور بڑھ جاتی ہے۔

اس سے یقیناً سرفراز احمد کے ڈریسنگ روم کو حوصلہ ملا ہو گا جہاں کلین سویپ کے زخم ابھی ہرے ہی ہیں۔

اور ایسے میں زیادہ اہم یہ ہو گا کہ پاکستان کس اپروچ کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ کیا اپنی بہتر ون ڈے فارم کا تسلسل برقرار رکھنا اس کے پیشِ نظر ہو گا یا پھر ٹیسٹ سیریز کے ردِ عمل میں کوئی غیر ضروری جارحیت دکھانا مقصود ہو گا؟

دوسری جانب جنوبی افریقہ کے لیے ون ڈے فارمیٹ میں مشکلات کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ فاف ڈوپلیسی کا تھنک ٹینک ابھی تک اسی گومگو میں ہے کہ آمدہ ورلڈ کپ کے لیے بہترین الیون کیا ہو سکتی ہے۔ اب جبکہ پہلے دو میچز کے لیے ڈیل سٹین اور کوئنٹن ڈی کاک دستیاب نہیں ہوں گے تو یہ دیکھنا مزید دلچسپ ہو گا کہ یہ اہم ترین پوزیشنز کس کے حصے آتی ہیں۔

ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی بنیادی مشکلات بیٹنگ سے متعلق ہی رہی ہیں۔ اب جبکہ ون ڈے سائیڈ میں شعیب ملک اور محمد حفیظ واپس آ گئے ہیں تو فارم اور تجربے کا امتزاج شامل ہونے سے بیٹنگ یونٹ کی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

ویسے تو تاریخی طور پہ دیکھا جائے تو دو طرفہ مقابلوں میں جنوبی افریقہ کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ مگر پچھلی دو طرفہ سیریز کے بعد کوئی پانچ سال ہونے کو ہیں کہ دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی ون ڈے سیریز تو نہیں ہوئی مگر آئی سی سی مقابلوں میں دو بار مقابلہ ضرور ہوا ہے۔

اور ورلڈکپ ہی نہیں، چیمپئینز ٹرافی کے میچ میں بھی خاصے دلچسپ مقابلے کے بعد فتح پاکستان کے نام رہی۔ سو، بادی النظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے پانچ سال میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف کوئی ون ڈے میچ نہیں جیتا۔

مگر پھر بھی ٹیسٹ میں کلین سویپ کے بعد جو مورال ڈوپلیسی کی ٹیم کا ہو گا اور جس طرح سے ہوم گراونڈز کی نفسیاتی برتری انھیں حاصل ہو گی، ایسے میں یہ دیکھنا واقعی دلچسپ ہو گا کہ آیا سرفراز کی ٹیم واقعی ڈوپلیسی کی الیون سے بہتر ہے یا ایں خیال است و محال است و جنوں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.