40

کیا جنسی مناظر بالی وڈ میں کامیابی کی ضمانت ہیں؟

کیا خوبصورت گانے، رومانی اور گدگداتے مناظر اور بے باک پروموشن فلم کی کامیابی کی ضمانت ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہاں بھی ہے اور نہیں بھی۔

سنہ 1990 کی دہائی میں جب ’آستھا‘ اور ’کاما سوترا‘ جیسی بولڈ فلمیں بنائی گئی تھیں تو ان کا مقصد سنسنی پھیلانا نہیں بلکہ انسانی فطرت کے دوسرے، یا یوں کہیں کہ مختلف پہلوؤں کی تلاش تھی تاکہ انسان کی ان ضروریات کا جائزہ لیا جا سکے جن کے بارے میں بات کرنا ممنوع تصور کیا جاتا تھا۔

لیکن مہیش بھٹ اور ان کے بھائی مکیش بھٹ نے اس نظریے کو پوری طرح سے تبدیل کر کے رکھ دیا۔

بھٹ کیمپ نے سنہ 2001 میں فلم ‘قصور’ کے ساتھ اس نظریے کو ایک نئے روپ میں پیش کیا اور ان کا یہ فارمولا فلم ’راز‘ کی سیریز کے ساتھ ساتھ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔

اس سے پہلے فلسماز اس طرح کی فلموں کے پروموشن کرتے ہوئے کتراتے تھے لیکن بھٹ کیمپ نے بغیر جھجک کے ان فلموں کا نہ صرف پروموشن شروع کیا بلکہ ٹریلرز میں ضرورت سے زیادہ مسالا ڈال کر پیش کیا۔

پھر کیا تھا دوسرے فلسمازوں نے بھی اس آزمائے ہوئے فارمولے پر کام شروع کر دیا اور ’جسم‘، ’مرڈر‘، ’راگنی ایم ایم ایس‘ اور ’ہیٹ سٹوری‘ کی سیریز شروع ہو گئی۔

اس کی بڑی مثال سنہ 2004 کی فلم ’مرڈر‘ ہے جس نے اس وقت شاہ رخ اور پریتی زنٹا کی فلم ’ویر زارا‘ کا کڑا مقابلہ کیا۔ اس فلم نے ملکہ شیراوت اور عمران ہاشمی کو زبردست کامیابی دلوائی۔

ایسی ہی ایک سیریز ہیٹ سٹوری کے ہدایت کار وشال پانڈے کا کہنا ہے کہ وہ زبردستی ایسے ماظر فلموں میں نہیں ڈالتے ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ آڈیینس سے کچھ نہیں چھپاتے۔ اس طرح کی فلمیں ہمیشہ کامیاب ہوتی ہیں ایسا بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی فلموں کے اپنے ناظرین ہوتے ہیں ورنہ ’گینگز آف واسع پور‘، ’کہانی‘ اور ’کوین‘ جیسی فلمیں کہاں کامیاب ہوتیں؟

دوسری بات ٹرینڈ کی بھی ہے۔ آج بالی وڈ میں بڑے بڑے نام نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے شہروں کی انتہائی بنیادی مسائل کی کہانیاں فروخت ہو رہی ہیں، جس کی مثال سنہ 2005 کی فلم ’بنٹی اور ببلی‘، ’بریلی کی برفی‘، ’کوین‘ اور پچھلے ہفتے ریلیز ہونے والی فلم ’سونو کے ٹیٹو کی سویٹی‘ ہو سکتی ہے جس نے ایک ہفتے میں مجموعی طور پر 100 کروڑ سے زیادہ کا بزنس کیا ہے۔

اس ہفتے وشال پانڈے کی ایک اور سنسنی خیز فلم ’ہیٹ سٹوری فور‘ ریلیز ہوئی ہے۔ اس فلم کی ہیروئن اوروشی راؤٹیلا نے خواتین کو بااختیار بنانے کا نعرہ بلند کرتے ہوئے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ یہ فلم خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر پیش کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.