48

کوہ پیما کی ساتھیوں سے لڑائی، کے ٹو اکیلے سر کرنے کا فیصلہ

دنیا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ کے ٹو کو سر کرنے والے پولش کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کہا ہے کہ ان کا ایک ساتھی گروپ کا ساتھ چھوڑ کر اکیلے پہاڑ سر کرنے نکل پڑا ہے۔

قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع کے ٹو کو آج تک موسم سرما میں کسی بھی کوہ پیما نے سر نہیں کیا ہے۔

بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ 44 سالہ روسی پولش نژاد کوہ پیما ڈینس اروبکو نے ہفتے کے روز اپنے ساتھیوں سے بحث مباحثہ ہونے کے بعد ٹیم سے علیحدہ ہو گئے اور اپنے مشن پر نکل پڑے۔

ایک کوہ پیما نے موسم سرما میں کے ٹو کو اکیلے سر کرنے کی کوشش کو ‘خود کشی’ کے مترادف قرار دیا۔

کوہ پیمائی کے ماہر مائیکل لیک سنسکی نے کہا کہ ان کے خیال میں ڈینس اروبکو کی کوشش ہے کہ وہ فروری کے مہینے میں ہی چوٹی سر کر لیے تاکہ ان کی کوشش موسم سرما میں گنی جائے۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگلے 48 گھنٹے نہایت اہم ہوں گے اور وہ اروبکو پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ خود کو اور اپنی ٹیم کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔

لڑائی کیوں ہوئی؟
خبروں کے مطابق اروبکو ریڈیو کے بغیر ہی چلے گئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک پورٹر نے بتایا کہ ‘اروبکو اپنے گروپ کو فروری میں ہی چوٹی سر کرنے پر زور دے رہے تھے اور ان کی گروپ کے سربراہ کے ساتھ کافی گرما گرمی بھی ہوئی تھی جس کے بعد وہ بغیر کوئی بات کیے گروپ چھوڑ گئے۔’

اکیلے کے ٹو عبور کرنا کتنا خطرناک ہے؟

کوہ پیمائی کے دیگر ماہرین نے اروبکو کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسا کرنا پاگل پن ہے۔

پاکستانی کوہ پیما مرزا علی بیگ نے کہا کہ ‘سردیوں میں کے ٹو اکیلے سر کرنے کی کوشش کرنا بالکل خود کشی کرنے کے جیسا ہے۔’

ایک اور کوہ پیما کریم شاہ نے کہا کہ اروبکو بہت زبردست اور ماہر کوہ پیما ہیں اور انھیں کوہ پیمائی کے حلقوں کے ‘ہمالیہ کا ماہر’ سمجھا جاتا ہے لیکن ان کا یہ فیصلہ غلط ہے۔’

ڈینس اروبکو کتنے ماہر ہیں؟

روسی پولش کوہ پیما ڈینس اروبکو کو بہت قابل کوہ پیما سمجھا جاتا ہے جنھوں نے 8000 میٹر سے اونچی دنیا کی تمام چوٹیاں عبور کی ہوئی ہیں۔

گذشتہ ماہ ڈینس اروبکو اور ان کے ساتھیوں کا نام خبروں کی زینت بنا تھا جب اپنے تین اور ساتھیوں کے ہمراہ انھوں نے حیران کن بہادری اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نانگا پربت پر فرانسیسی کوہ پیما الزبتھ ریول کو بچایا تھا۔

واضح رہے کہ کے ٹو کو دنیا کا مشکل ترین پہاڑ سمجھا جاتا ہے اور ان مشکلات کی وجہ سے اسی ‘وحشی پہاڑ’ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی ساڑھ آٹھ ہزار میٹر سے بھی زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.