51

کون ہے یہ ٹپی؟ کہاں ہے؟ اسے کل پیش کیا جائے

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران ایک شہری نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اویس مظفر ٹپی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا کہ شاہ لطیف ٹاؤن میں بڑے پیمانے پر ناجائز قبضہ ہے، بیوائیں روتی ہیں اور یہ قبضے اویس مظفر ٹپی نے کرائے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کون ہے یہ ٹپی ؟ کہاں ہے یہ ٹپی؟ اسے کل پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے ایمپریس مارکیٹ کو ماڈل بنانے کا کہا تھا، تجاوزات کے خلاف کارروائی میئر کراچی نے خود شروع کی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم نے گھر توڑنے کا حکم نہیں دیا،فٹ پاتھ اور سڑکیں کلیئر کرانے کا حکم واضح تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہاں سرکاری مکانوں پر لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، کیا اس طرح غیر قانونی قابضین کو چھوڑ دیں، ہم نے خالی کرانے کاحکم دیا تو یہاں ہنگامہ شروع ہوگیا۔

چیف جسٹس نے مزید کہ کہ لوگ احتجاج شروع کر دیں اور ہم ریاست کی رٹ ختم کر دیں، ہم کراچی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگوں کی مصلحت آڑے آ رہی ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے عدالت سے استدعا کی کہ میئر کراچی بہت تیزی سے تجاوزات گرا رہے ہیں،میئر کراچی کو چار ہفتوں کے لیے آپریشن سے روکا جائے، چار ہفتے کا وقت دے دیں مسئلے کا حل نکالیں گے، ہم کراچی والے ہیں ہم بھی بہتری چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ ہم کیوں روکیں؟ آپ مل بیٹھیں خود طے کریں، قانون پر عمل درآمد ہورہا ہے اور آپ کو اور وفاقی حکومت کو پریشانی لگ گئی ہے، آپ کو اندازہ نہیں میئر کراچی نے اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، ہمیں ہرحال میں قانون کی بالادستی چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہم کراچی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگوں کی مصلحت آڑے آرہی ہے۔ ہمیں ہرحال میں قانون کی بالا دستی چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں بڑے مسائل ہیں، سرکاری مکانوں پر لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، ہم نے خالی کرانے کا حکم دیا تو یہاں ہنگامہ شروع ہوگیا، گورنر صاحب نے کال کرکے کہا کہ یہاں امن و امان کی صورت حال خراب ہوگئی، کیا اس طرح غیر قانونی قابضین کو چھوڑدیں ؟

انہوں نے کہا کہ لوگ احتجاج شروع کردیں اور ہم ریاست کی رٹ ختم کردیں، کیا قبضہ مافیا کے سامنے سرجھکا دیں؟ کراچی کو اسی طرح چھوڑدیں ؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم کارروائی روک دیں گے تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، متاثرین کی بحالی اور متبادل جگہ کا انتظام حکومت خود کرے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت میں کہا کہ ہم عمل درآمد کررہے ہیں بس گھروں کو نہ توڑا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے گھروں کو توڑنے کا حکم تو نہیں دیا، آپ خود کررہے ہیں تو ہمارا مسئلہ نہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے دیکھا تھا نالے پر عمارت بنی ہوئی ہے، اس کا کیا ہوا؟

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی نے کہا کہ نہرِ خیام پر ایک عمارت بنی ہوئی ہے۔

میئر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ باغ ابنِ قاسم میں ایک عمارت ہے، وہاں مسلح لوگ بیٹھے ہیں اور شاید معاملہ ہائی کورٹ میں ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میئر صاحب آپ کو کسی نے نہیں روکا کام جاری رکھیں، کون ہے قبضہ کرنے والا بتائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی ہائی کورٹ سے فائل منگواتے ہیں، اچھی طرح سن لیں غیر قانونی عمارت اور قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور میئر کراچی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ میئر کراچی وسیم اختر کو فٹ پاتھوں اور پارکوں کا ٹاسک ملا لیکن وہ دکانوں سے کہیں آگے جا چکے ہیں، پہلے متبادل کا سوچنا ہوگا، دو ہفتے میں منصوبہ بنالیں گے، آپ مئیر کراچی کو 4 ہفتوں کے لیے آپریشن سے روکیں۔

وسیم اختر نے استفسار کیا کہ میں خود مانیٹر کررہا ہوں کوئی ایک مکان بتا دیں جو توڑا گیا ہو؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کیوں روکیں، آپ مل کر بیٹھیں اور خود طے کریں، میئر کہہ رہے ہیں انہوں نے کوئی گھر نہیں توڑا، وہ چھجے اور غیرقانونی دکانیں توڑ رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے وفاقی و صوبائی حکومت اور مئیر کراچی کو مل بیٹھ کر جائزہ لینے کا حکم دے دیا، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کل صبح ہم تھر جا رہے ہیں، ہم رات یہیں بیٹھے ہیں، آج رات12 بجے یہاں آجائیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ کارروائی جاری رہنی چاہیے، اگر تسلسل ٹوٹ گیا تو پھر کام ہونا مشکل ہے، تینوں حکام ٹھنڈے دل سے فیصلہ کرکے آئیں۔

’’گھر توڑ رہا ہوں، نہ توڑنے دوں گا‘‘

انہوں نے وسیم اختر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میئر صاحب آپ بھی کان کھول کرسن لیں دو دن میں کسی رہنما یا کسی نے قبضہ کیا ہے تو خالی کردے، آپ صفائی گھر سے شروع کریں اور لوگوں کیلئے مثال بنائیں، کسی کے قبضے کی نشاندہی ہوگئی تو ہم نہیں چھوڑیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب کی حکومت یا کسی وزیر نے کہیں قبضہ کیا ہوا ہے تو فوری خالی کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.