50

کمرے میں ایسا کیا ہوا کہ گمبھیر نے کپتانی چھوڑ دی؟

گوتم گمبھیر کے فیصلے کے بعد یہ قیاس آرائی شروع ہو گئی کہ ان سے کپتانی چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا اور اس میں کوچ رکی پونٹنگ کا ہاتھ تھا لیکن وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں
اگر دلی ڈیئر ڈیولز کے کپتان گوتم گمبھیر کو پوری شدت سے اے سی چلانے کی عادت نہ ہوتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ آج بھی ٹیم کے کپتان ہوتے اور انھیں اپنا ہوٹل ’سوئیٹ‘ خالی نہ کرنا پڑتا جو ان کے مطابق صرف کپتان کو ہی ملتا ہے۔

آئی پی ایل میں دلی ڈیئر ڈیولز کی ٹیم آخری نمبر پر چل رہی ہے اور گوتم گمبھیر کو لگتا ہے کہ ٹیم کی خراب کارکردگی میں ان کا بھی کردار ہے کیونکہ انھوں نے پہلے چھ میچوں میں صرف 85 رنز بنائے ہیں۔

کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کوئی بھی کھلاڑی آسانی سے نہیں کرتا لیکن گمبھیر نے کن حالات میں یہ فیصلہ کیا؟ اس کے پیچھے ایک فلمی کہانی ہے جو خود گمبھیر نے ایک انگریزی اخبار میں چھپنے والے اپنے ایک کالم میں بیان کی ہے۔

گمبھیر کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے جس ’سوئیٹ‘ میں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں اس میں شیشے کی بڑی بڑی کھڑکیاں ہیں جن پر بلائنڈز (ایک طرح کے پردے) پڑے ہوئے ہیں۔ بلائنڈز کو سیدھا رکھنے کے لیے ان کے نچلے حصے میں پلاسٹک کی ’راڈز‘ لگی ہوئی ہیں۔

سوئیٹ بنیادی طور پر ہوٹل کے نارمل کمروں سے کچھ زیادہ ہوتا ہے: زیادہ آرام دہ، زیادہ کشادہ، زیادہ سہولیات سے آراستہ اور ظاہر ہے کہ زیادہ کرایہ بھی۔ گمبھیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سوئیٹ کو بہت ٹھنڈا رکھتے ہیں۔

’پیر کی شب جب میں کنگز الیون پنجاب کے ہاتھوں اپنی ٹیم کی شکست کے بعد کمرے میں لوٹا تو ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈی ہوا پوری شدت کے ساتھ بلائنڈز سے ٹکرا رہی تھی۔ رات کا ایک بج رہا تھا اور کمرے میں خاموشی تھی جو صرف راڈز کے دیوار سے ٹکرانے سے ٹوٹ رہی تھی، مجھے نہیں معلوم کہ یہ محض اتفاق تھا یا اوپر والا مجھے اپنے انداز میں کوئی پیغام دے رہا تھا لیکن راڈز کی دیوار سے ٹکرانے کی آواز بالکل ویسی تھی جیسی کرکٹ بال کے وکٹ پر لگنے سے آتی ہے۔ کیا یہ (آواز) پیغام تھا کہ (کھیل) ختم ہو چکا ہے؟‘

’جتنی بار راڈ دیوار سے ٹکراتا مجھے یہ یاد آتا کہ میں کس طرح آؤٹ ہوا تھا، مجھے یاد آتا کہ میری ٹیم ٹیبل میں سب سے نیچے ہے۔ مجھے لگتا کہ میرا ضمیر مجھے جھنجھوڑ رہا ہے کہ میں دلی ڈیئر ڈیولز کی کپتانی جاری نہیں رکھ سکتا۔‘

اس کے بعد گوتم گمبھیر نے کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کے دوستوں نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے کیونکہ ماضی میں انھوں نے ایک دو میچوں میں خراب کارکردگی کی وجہ سے امت مشرا اور کولن منرو جیسے کھلاڑیوں کو ڈریسنگ روم میں بٹھایا تھا۔

گوتم گمبھیر کے فیصلے کے بعد یہ قیاس آرائی شروع ہو گئی کہ ان سے کپتانی چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا اور اس میں کوچ رکی پونٹنگ کا ہاتھ تھا لیکن وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

یہ بحث تو جاری رہے گی لیکن انھوں نے جس انداز میں کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا اس سے دوسرے کپتان کچھ سبق ضرور سیکھ سکتے ہیں۔

کھیل کے میدان پر کارکردگی تو صرف اپنے ہاتھوں میں نہیں ہوتی، آپ کتنے بھی عظیم کھلاڑی ہوں، ہو سکتا ہے کہ سامنے والی ٹیم ’آن فائر‘ ہو یا آپ کی قسمت میں ایسی بال آ جائے جیسی عمران خان نے سنہ 1982 کی سیریز میں گنڈپہ وشو ناتھ کو کی تھی یا سنہ 1993 میں شین وارن نے مائیک گیٹنگ کو کی تھی۔

شین وارن کی بال کو صدی کی بہترین گیند مانا جاتا ہے اور گنڈپہ وشوناتھ نے خود یہ کہا تھا کہ جس بال پر انھیں عمران خان نے بولڈ کیا تھا، اپنے پورے کریئر میں انھوں نے اس معیار کی صرف ایک اور بال کا سامنا کیا جو ویسٹ انڈیز کے وینبرن ہولڈر نے پھینکی تھی۔

یعنی کھیلتے وقت تو بھلے ہی سب کچھ آپ کے کنٹرول میں نہ ہو لیکن ایئر کنڈیشن کا ریموٹ تو ہمیشہ آپ ہی کے پاس ہوتا ہے۔

اس لیے اگر کپتانی برقرار رکھنی ہے تو اے سی کی رفتار کم رکھیں، یہ آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا رہے گا اور آب و ہوا کے لیے بھی، بلائنڈز کی راڈز کو دیوار سے نہ ٹکرانے دیں، اگر پھر بھی ٹکرائے تو کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ تصدیق ضرور کر لیں کہ اس میں ٹیم کے کسی کھلاڑی کا تو ہاتھ نہیں ہے؟ پھر بھی دل نہ مانے تو کسی سے مشورہ ضرور کر لیں ہو سکتا ہے کہ (غیبی) پیغام صرف یہ ہو کہ اے سی زیادہ تیز چل رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.