27

’کس قانون کے تحت بحریہ کو زمین دی گئی‘

سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کو محکمہ جنگلات کی زمین نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کو فروخت کرنے کے معاملے پر ذاتی حثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے چوہدری پرویز الہی کو 4 دسمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے راولپنڈی کے علاقے موضع تخت پڑی اور موضع سلکھیتر میں بحریہ ٹاؤن ناجائز قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہی کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں کس قانون کے تحت بحریہ کو زمین دی گئی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کیسے اس زمین کا کچھ حصہ سابق وزیر اعظم اور چوہدری پرویز الہی کے کزن چوہدری شجاعت حسین ان کے بیٹے سالک اور بیوی کے نام منتقل ہوا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ کیسے زمین اس وقت وزیر اعلی کے بھائیوں کو چلی گئی۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سروے جنرل کو جنگلات کی زمین کی حدود کے تعین کا حکم دیا تھا اور اس بارے میں رپورٹ ایک ہفتے میں آ جائے گی جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد تو اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ جنگلات کا رقبہ طے ہو چکا صرف حدود کا تعین ہونا باقی ہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ جنگلات کا رقبہ 2210 ایکٹر تھا۔ بینچ کے سربراہ نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وہ جنگلات کے رقبے کے حوالے سے پہلے بحث نہیں کر چکے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دعوے کے مطابق یہ رقبہ 1741 ایکٹر تھا جبکہ سپریم کورٹ اس دعوے کو مسترد کر چکی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان موضعوں میں جتنا جنگل کاٹا گیا غلط کاٹا گیا اس لیے عدالت ذمہ داروں کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی پر غور کرے گی۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی نے محکمہ جنگلات کی سمری منظور کی تھی جبکہ قانون کے تحت وزیر اعلی کا حد بندی میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ موضع تخت پڑی میں بحریہ ٹاؤن کے لیے زمین کی حد بندی پرویز الہی کے احکامات پر کی گئی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ بتائیں کہ اس غیر قانونی اقدام کا مجرم بحریہ ٹاؤن ہے یا اس وقت کی صوبائی حکومت۔ اُنھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی زمین بحریہ ٹاؤن کو چلی گئی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جنوبی پنجاب میں واقع صوفی بزرگ بابا فرید کے مزار کے گرد ونواح میں واقع سرکاری آراضی کی فروخت کے معاملے پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی چار دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔

سابق وزیر اعظم اگر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو وہ پہلی مرتبہ موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

موجودہ چیف جسٹس سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں سیکریٹری قانون تھے اور میاں نواز شریف کی سفارش پر ہی اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے میاں ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.