26

کرتارپور راہداری کا فیصلہ ذہن، سوچ کی تبدیلی ہے: شاہ محمود

پاکستان میں کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھے جانے کے موقع پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس راہداری کی تعمیر کا فیصلہ ذہن اور سوچ میں آنے والے تبدیلی کا عکاس ہے۔

بدھ کے روز ہونے والی تقریب سے پہلے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ راہداری انڈیا اور پاکستان کے درمیان ’مذاکرات کا، مل بیٹھنے کا، دوریاں کم کرنے اور فاصلے مٹانے کا راستہ ہے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بدھ کو کرتارپور میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان پہلی ’ویزا فری‘ راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ رہے ہیں جبکہ انڈیا میں دو دن قبل ملک کے نائب صدر نے ایک تقریب میں یہ عمل سرانجام دیا ہے۔

اس تقریب میں پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ بھی شرکت کر رہے ہیں جبکہ انڈیا نے اپنے دو وزرا کو بھی تقریب میں نمائندگی کے لیے بھیجا ہے۔

کرتارپور میں واقع سکھ مذہب کے بانی بابا گُرو نانک سے منسوب گرودوارہ ڈیرہ بابا صاحب سکھ برادری کے لیے انتہائی مقدس ہے اور دنیا بھر کے سکھ اس پیشرفت کے حوالے سے خوش اور پر جوش نظر آتے ہیں۔

کرتارپور راہداری پر حالیہ بات چیت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں آئے انڈین کرکٹر نوجوت سدھو نے اس بارے میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بات چیت کی۔ پھر وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اس بات کا باضابطہ اعلان کر کے انڈیا میں بسنے والے سکھوں کے ارمان جگا دیے۔

یہ فیصلہ سوچ کی تبدیلی ہے
بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان پر کرتارپور راہداری بنانے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’پہلے دن سے وزیرعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ ہمارے خطے میں امن ہو۔ ان کی سوچ ہے کہ ٹھیک ہے کہ ہمارے (انڈیا سے) تنازعات ہیں، تاریخی تنازعات ہیں، تو ان کا حل کیا ہے؟ جنگ تو حل نہیں ہے۔ دو ایٹمی طاقتیں ہیں، لڑائی کرنا تو خوکشی کے مترادف ہوگا، لڑائی کی تو گنجائش نہیں ہے، تو پھر راستہ کیا ہے؟‘

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’کرتارپور راہداری فاصلہ مٹانے کی ایک زبردست کاوش ہے۔ آپ دیکھیں لوگ آیا کرتے تھے، واہگہ کے ذریعے آیا کرتے تھے، جو چار سو کلومیٹر کا راستہ تھا وہ ہم چار کلومیٹر پر لے آئے ہیں۔ تو راستے کم ہوگئے ہیں۔ جب راستے کم ہوں گے اور آمد و رفت میں اضافہ ہوگا، تو تعلقات میں بہتری آئے گی!‘

انھوں نے کہا کہ ’جب لوگوں سے لوگوں کے روابط بڑھتے ہیں، جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو تاثرات تبدیل ہوتے ہیں، یہ خطہ غربت میں جکڑا ہوا ہے، یہ خطہ جہالت کی نذر ہوا ہے۔ ہم نے یہاں تبدیلی لانی ہے، اور تبدیلی کہاں سے آتی ہے، ذہنوں سے آتی ہے، رویوں سے آتی ہے، تو کرتارپور کا یہ جو فیصلہ ہے، یہ ذہن کی تبدیلی ہے۔ یہ سوچ کی تبدیلی ہے، جو کہ دوریوں کو کم کرتی ہے اور قربت میں اضافہ کرتی ہے، اور کہتی ہے ہاں آئیے مل بیٹھیں۔ تنوع میں بھی اتحاد ہو سکتا ہے، مل کر رہ سکتے ہیں۔‘

’سکھوں کی تو جیسے عید ہو گئی ہے‘
انھوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری کے فیصلے پر سکھ برادری کا ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فیصلہ کتنا مقبول ہے۔

’آپ دیکھیں کہ پاکستان میں جو سکھ برادری تھی، ہندوستان کے اندر جو سکھ برادری ہے، اور جنوبی ایشیا کے باہر جو سکھ برادری ہے، آپ ان کا ردعمل تو دیکھیں، پھولے نہیں سما رہے، عید ہو گئی ہے ان کی، عید کی خوشیاں ہیں، اور آپ دیکھیں گے اس سے ایک خوش آئند تبدیلی آئے گی اور میرے خیال میں سرحد کے دونوں طرف سمجھ دار لوگ رہتے ہیں۔‘

انڈیا کی نیت پر شک نہیں
ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف اور عمران خان کی حکومت کی ترجیح ہے کہ وہ پاکستان کو مالی طور پر معاشی طور پر مستحکم کریں، گورننس اور کرپشن کے مسائل حل کریں

’یہ تب ہی ہوگا جب یہاں امن ہوگا۔ ہماری مشرقی اور مغربی سرحدیں محفوظ ہوں گی۔ تب ہی تو ہم امن کا راگ گا رہے ہیں، تب ہی تو ہم کابل اور دلی سے کہہ رہے ہیں آؤ بیٹھو، ملو اور مل کر مسائل کو حل کرتے ہیں۔‘

انڈیا کی طرف سے وزیر خارجہ سشما سوراج اور انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت سے معذرت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کہ انھوں نے دعوت دی، لیکن ان کے ہم منصب کی بھی کوئی مصروفیات ہو سکتی ہیں۔

’میں ان کی نیت پر شبہ نہیں کروں گا، میں سمجھتا تو کہ جو انھوں نے اپنے دو وزرا کو بھیجا ہے، میں اس کو ایک مثبت قدم سمجھتا ہوں۔ مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے ردعمل کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا: ’بدقسمتی سے ان کا رویہ جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں تھا۔ جملے بازی کرنا بہت آسان ہے، مگر ہم اس معاملے کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہتے۔‘

راہداری کی شکل کیسی ہوگی؟
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ’سکیورٹی اور احتیاط‘ کے لیے راہداری کے دونوں طرف باڑ لگائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہیں گے جو آئیں خیر و خیریت سے آئیں اور خیریت سے واپس جائیں، انھیں کوئی پاسپورٹ کی کسی ویزہ کی ضرورت نہیں ہوگی، آئیں گے اپنا اندراج کروائیں گے انھیں پرمٹ ملے گا، جو چھوٹی موٹی فیس ہوگی ادا کریں گے، اپنا درشن کریں گے، اپنی زیارت کریں گے، وہاں کھائیں گے، پیئیں گے، رہیں گے۔‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس خطے میں بے پناہ مواقع ہیں جنھیں ہم استعمال نہیں کر سکے ہیں۔

’ہماری تو کوشش ہوگی کہ اگر تعداد بڑھ جاتی ہے، اور حالات اور بہتر ہوتے ہیں تو اس کے گرد و نواح میں بازار بنیں گے، خرید و فروخت ہوگی، ہوٹل بنیں گے،کاروبار چلے گا۔‘

مستقبل کے بارے میں وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے لوگوں کی آمد و رفت بڑھے۔

’آج اگر حالات بہتر ہوں، تو یہاں سے بھی بہت سے لوگ اجمیر شریف جانا چاہیں گے، بہت سی کشمیری فیملیز ہیں جو آزاد کشمیر آنا چاہیں گی، اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے گلے ملنے کے لیے شادی غمی میں شامل ہونے کے لیے تو اس سے ماحول تبدیل ہو سکتا ہے۔

’ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ممکنات ہیں، اگر سیاسی قیادت کی سوچ میں وسعت ہے، اور ارادہ پختہ ہے، سب کچھ ہو سکتا ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.