21

’کرتارپور راہداری نے مثبت سیاست کی بنیاد رکھ دی‘

انڈیا کی بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے جمعے کو ایک فوجی تقریب میں کہا کہ اگر پاکستان انڈیا کے ساتھ آنا چاہتا ہے، اس سے دوستی کرنا چاہتا ہے تو وہ پہلے خود کو ایک سیکولر ملک میں تبدیل کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس میں بقول ان کے کسی اور مذہب کے ماننے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے بر عکس انڈیا ایک سیکولر ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنا اندورنی جائزہ لے اور انڈیا کے ساتھ آنے کے لیے خود کو ایک سیکولر ملک بنائے‘۔

کرتارپور: بابا گُرو نانک کی آخری آرام گاہ
جنرل بپن راوت نے یہ بیان پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے حوالے سے دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ماضی میں جرمنی اور فرانس کئی جنگیں لڑ چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان گہری دشمنی تھی اور آج وہ نہ صرف دوست ہیں بلکہ ان کی سرحدیں ایک دوسرے کے لیے کھلی ہوئی ہیں۔ اگر فرانس اور جرمنی ساتھ آ سکتے ہیں تو انڈیا اور پاکستان کیوں نہیں۔

انڈیا میں فوج کے جرنیل سیاسی تعلقات پرعموماً بیانات دینے سے گریز کرتے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں جنرل راوت نے پاکستان کے بارے میں کئی بار بیانات دیے ہیں۔

گذشتہ دنوں کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے پر بھی انہوں نے ایک بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک علیحدہ معاملہ ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہو جائیں گے اور کہا تھا کہ تعلقات بہتر کرنے کے لیے پاکستان پہلے انڈیا میں دہشت گرد سرگرمیوں پر قابو پائے۔

کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے پر پاکستان کے وزیر اعظم کا لب و لہجہ مصالحتانہ اور دوستی کے لیے آگے بڑھنے کا تھا۔ حکومت سنبھالنے کے بعد عمران خان پہلی بار انڈیا سے براہ راست روبرو تھے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی سکھوں کے اس مقدس مقام کو انڈین زائرین کے لیے کھولنے کے اعلان کے موقع پر مذہبی ہم آہنگی کی بات کی اور تمام مذاہب کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس موقع پر بانی پاکستان کی تاریخی تقریر کا حوالہ دے کر پاکستان کے عوام کو بھی مذہبی مساوات کا پیغام یاد دلایا۔ اس تقریب میں پاکستان کے بری فوج کے سربراہ بھی شریک تھے۔

کرتار پور راہداری کا پیغام یقیناً ایک مثبت پیغام تھا۔ اس کا فیصلہ پاکستان کے اپنے حالات کے پیش نظر ایک انتہائی اہم اور بڑا قدم تھا۔ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے حالیہ برسوں میں یکطرفہ لیا گیا بہت بڑا فیصلہ تھا۔ انڈین حکومت واضح طور پر پاکستان کی جانب سے اتنی جلدی اور اتنے بڑے فیصلے کی توقع نہیں کر رہی تھی اور نہ ہی وہ اس کے لیے تیار تھی۔ تقریب سے پہلے ہی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک سخت بیان دے کر حکومت کی پوزیشن واضح کر دی تھی۔

کرتارپور راہداری ماحول میں کچھ نرمی پیدا کرنے کے لیے انڈیا کے لیے ایک بہترین موقع تھا جو اس نے کھو دیا۔ مودی حکومت کے تقریباً پانچ برس بات چیت کے بغیر تلخیوں میں گزر گئے۔

کرتار پور اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ عوام کے لیے اٹھایا گیا بہت بڑا قدم ہے۔ اس قدم سے انڈین پنجاب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ راہداری آنے والے دنوں میں رشتوں میں مثبت تبدیلی کی ضامن بنے گی۔

دونوں ملکوں کی تلخیوں کی سب سے بھاری قیت عوام ادا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے عوامی رشتوں میں بدترین مشکلات کھڑی کر رکھی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایک حکومت نے آگے بڑھ کر ایک انتہائی مثبت قدم اٹھایا ہے۔ مثبت فیصلے کبھی ضائع نہیں جاتے۔ دنیا کے اس بدلتے ہوئے دور میں تلخیوں کی سیاست بہت دنوں تک جاری نہیں رہ سکتی۔ کرتار پور راہداری اس حقیقت کی طرف پہلا بڑا قدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.