53

کراچی 30 برس بعد پھر بدل گیا ہے

کراچی کے تازہ انتخابی نتائج نے ویسے ہی بھونچکا کیا ہے جیسے 30 برس پہلے سنہ 1988 میں جب متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کے شہری علاقوں میں سنہ 1970 کے انتخابات کے بعد جمنے والا سٹیٹس کو اٹھا کے پھینک دیا اور جن لڑکوں بالوں کو کوئی سیاسی جماعت سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں تھا انھوں نے اگلے 28 برس تک کسی کو شہری علاقوں کی سیاست میں گھسنے نہ دیا۔

لیکن ہر عروج کا زوال ہے۔ اب سے دو برس پہلے 22 اگست کی سہہ پہر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنی تقریر کے خنجر سے سیاسی ہارا کاری کر لی اور پارٹی کا ووٹ بینک جو قومی سطح پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے بعد تیسرے نمبر پر تھا (25 لاکھ سے زائد) وہ گرتے گرتے 25 جولائی کے دن تک ساڑھے سات لاکھ تک آ گیا۔

وہ جماعت جس نے سنہ 2013 کے انتخاب میں کراچی سے قومی اسمبلی کی 20 میں سے 17 نشستیں جیتی تھیں آج اس کی 21 میں سے چار اور صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں میں سے 13 ہیں (جو 2013 میں 36 تھیں۔)

جیسے 30 برس پہلے ایم کیو ایم نے روایتی جماعتوں کو ایک طرف لپیٹ کے رکھ دیا۔ کچھ یہی کام تحریکِ انصاف نے ایم کیو ایم کے ساتھ اس بار کر دکھایا۔ کہاں 2013 میں کراچی سے تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتی تھی اب وہ بڑھ کے 14 ہو گئی ہیں اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں بڑھ کر 21 تک جا پہنچی ہیں۔

پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلسِ عمل کو اگست 2016 کے بعد شہری سیاست کے دروازے کھلنے سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کھل کے کہہ رہی تھی کہ اس بار کراچی سے وہ قومی اسمبلی کی چھ سے آٹھ نشستیں نکال لے گی جبکہ متحدہ مجلسِ عمل کم ازکم چار نشستوں کی آس لگائے بیٹھی تھی مگر کراچی کے ووٹروں نے ایم کیو ایم کو بائی بائی کر کے ماضی میں لوٹنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا پسند کیا اور ’سب کو موقع دے دیا اب اسے بھی دیکھ لیں‘ کی سوچ کے تحت تحریکِ انصاف کو دھڑا دھڑ ووٹ دیا۔

سنہ 1970 کے انتخاب میں جس جوان ووٹ نے بھٹو کو، سنہ 1988 میں جس جوان نسل نے ایم کیو ایم کو سیاسی سٹیٹس کو توڑنے کے لیے آزمایا اسی جوان نسل کی اگلی پیڑھی نے طویل عرصے سے چھائے سیاسی جمود کو توڑنے کے لیے تحریکِ انصاف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ نتائج سامنے ہیں۔

تحریکِ انصاف کو اگرچہ ٹھیک ٹھاک ووٹ پڑے لیکن اگر کوئی کہے کہ یہ لہر کا نتیجہ ہے تو اس بارے میں اعداد و شمار کی روشنی میں بات ہو سکتی ہے۔

مثلاً کراچی کی 21 قومی جنرل نشستوں کے لیے رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد لگ بھگ 82 لاکھ ہے۔ ان میں سے لگ بھگ 32 لاکھ نے ووٹ ڈالا۔ ساڑھے 48 لاکھ نے ووٹ ہی نہیں ڈالا۔ 2013 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم کو کراچی کی 20 نشستوں پر لگ بھگ 20 لاکھ ووٹ پڑا مگر اس بار ایم کیو ایم کو چھ لاکھ 14 ہزار ووٹ ملا۔

یعنی ایم کیو ایم کا 12 سے 14 لاکھ ووٹ یا تو پارٹی کے اندرونی نفاق کے سبب موبلائیز نہ ہونے کے نتیجے میں گھر بیٹھا رہا یا پھر مصطفی کمال کی پاک سرزمین پارٹی کے بجائے تحریکِ انصاف اور تحریک لبیک کی طرف شفٹ ہو گیا۔ پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ دوہرا ہاتھ ہو گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مبینہ پشت پناہی کا ٹھپہ بھی لگا اور مصطفیٰ کمال سمیت (تقریباً ساڑھے 12 ہزار ووٹ) کوئی نشست بھی ہاتھ نہ آئی۔

کراچی میں جتنے بھی ووٹ پڑے (32 لاکھ ) اس کا 33 فیصد (ساڑھے دس لاکھ ) تحریکِ انصاف کو ملا اور باقی دیگر پارٹیوں میں بٹ گیا۔

مگر تحریکِ انصاف کے ساتھ ساتھ ایک اور نیا طاقت ور سیاسی مہمان بھی شہر میں آ چکا ہے۔ اس کی آمد سے کیا لیفٹ کیا رائٹ سب ہی پریشان ہیں۔ اور یہ مہمان ہے علامہ خادم حسین رضوی کی تحریکِ لبیک جو ملک گیر ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر ہے (22 لاکھ 31 ہزار 700) لیکن کراچی میں یہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے بعد تیسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے (اسے کراچی میں تین لاکھ 78 ہزار سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔)

اگر کراچی میں متحدہ مجلسِ عمل (تین لاکھ 82) سابق سپاہِ صحابہ کے حامیوں کی جماعت راہِ حق پارٹی ( 27 ہزار 40)، حافظ سعید کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک ( 5300) اور سنی تحریک ( 2395 ) کے ووٹ جمع کر لیے جائیں تب بھی مجموعی تعداد تحریکِ لبیک کو پڑنے والے ووٹوں سے کم ہے۔

کراچی میں تحریکِ لبیک کو نہ صرف دیگر مذہبی جماعتوں کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ بلکہ پیپلز پارٹی ( تین لاکھ 70 ہزار) اور مسلم لیگ نواز ( دو لاکھ 61 ہزار) سے بھی زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

متحدہِ مجلسِ عمل اور تحریکِ لبیک نے کراچی کے قومی اسمبلی کے 21 میں سے 20 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے لیکن تحریکِ لبیک کے ہر امیدوار نے ہر حلقے میں دوسرے سے چوتھے نمبر کے درمیان ووٹ لیے اور ایم ایم اے کی ناکامی کے برعکس کراچی سے صوبائی اسمبلی کی دو سیٹیں بھی جیت لیں۔

مگر لبیک کے ووٹ بینک نے سب سے بڑا جھٹکا کراچی میں لیاری کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 246 کو دیا۔ یہاں سے تحریکِ انصاف کے امیدوار شکور شاد 52 ہزار 750 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ دوسرے نمبر پر لبیک کے امیدوار احمد بخش کو 42 ہزار 345 ووٹ ملے اور تیسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے امیدوار بلاول بھٹو زرداری کو 39 ہزار 325 ووٹ ملے۔

لیاری 48 برس پہلے بھٹو صاحب نے ہارون خاندان سے چھینا تھا۔ تب سے ابھی کچھ عرصے پہلے تک لیاری والے بھٹو کے جیالے اور پیپلز پارٹی کے عاشق تھے۔ مگر پیپلز پارٹی نے بھی ان عاشقوں کے ساتھ وہی کیا جو تاریخ میں ہوتا آیا ہے۔ مگر پارٹی بھول گئی کہ جب عاشق پلٹتا ہے تو معشوق کہیں کا نہیں رہتا۔ سوائے پیپلز پارٹی کے کسی کو اس نتیجے پر نہ صدمہ ہے نہ حیرت کیونکہ یہ تو پچھلے پانچ برس سے لیاری کی ہر دیوار پر لکھا ہوا تھا کہ ’ظالمو لیاری جا رہا ہے۔‘

کہا جاتا ہے کراچی آبادی کے اعتبار سے پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ پچھلے دس برس میں فوجی آپریشنز کے سبب فاٹا اور بالائی علاقوں سے پشتونوں کی نقل مکانی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی میں اس وقت 25 سے 30 لاکھ آبادی پشتو بولتی ہے۔ اب سے پہلے زیادہ تر پشتون عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کو ووٹ دیتے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سنہ 2008 کی سندھ اسمبلی میں کراچی سے دو ارکان منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد طالبان کی زور زبردستی کے نتیجے میں اے این پی کراچی سے ایسے اکھڑی کہ اب تک قدم نہ جما سکی۔

25 جولائی کو اے این پی نے کراچی سے قومی اسمبلی کے 11 حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے اور کل ملا کر 21 ہزار 130 ووٹ حاصل کیے۔ ان میں سے ساڑھے 12 ہزار ووٹ صرف شاہی سید کو پڑے۔ پھر بھی وہ اپنے حلقے میں چوتھے نمبر پر آئے۔ سوال یہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں پشتونوں کا ووٹ کہاں گیا؟ لگتا ہے خیبر پختونخوا کی طرح تحریکِ انصاف کی جانب شفٹ ہو گیا۔

کراچی 30 برس بعد پھر بدل گیا ہے۔ اگر یہی سیاسی نقشہ رہا تو سنہ 2023 میں یہاں تحریکِ انصاف، ایم کیو ایم اور تحریک لبیک کے درمیان نشستیں بٹ جائیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگلے پانچ برس کے دوران غیر بریلوی مکتبِ فکر کی جماعتوں اور پیپلز پارٹی کو کچھ اور سوچنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.