70

کراچی میں تبدیلی کے آثار

پاکستان کے کسی اور حصے میں تبدیلی کے آثاردکھائی دئیے ہیں، دکھائی نہیں دئیے ہیں، میں نہیں جانتا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے رمضان کا چاند کہیں دکھائی دیتا ہے، کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔ بحث چل نکلتی ہے۔ بات لڑائی جھگڑوں تک جا پہنچتی ہے۔ عیسائی کیلنڈر کی طرح اسلامی کیلنڈر میں بھی بارہ مہینے ہوتے ہیں۔ ہم کسی اور مہینے کے لیے اس قدر جذباتی نہیں ہوتے ، جس قدر ماہ رمضان کے چاند دکھائی دینے ، دکھائی نہ دینے کے بارے میں جذباتی ہوتے ہیں۔ عمران خان کی وعدہ تبدیلی یعنیpromised changeکے بارے میں بھی ہمارا رویہ رمضان کا چاند دکھائی دینے ، دکھائی نہ دینے والی ہماری قومی کیفیت جیسا ہوتا جارہا ہے۔ کسی کو تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، کسی کو متوقع تبدیلی کے آثار تک دکھائی نہیں دیتے ۔ بحث چھڑی ہوئی ہے۔ مگر ہم کراچی والے، خاص طور پر پرانے ، کھڑوس ، اور بڈھے کراچی کے باسی ، کراچی میں تبدیلی کے واضح آثار دیکھ رہے ہیں۔ یہ اسی تبدیلی کے آثار ہیں، جس تبدیلی کا وعدہ عمران خان پچھلے بائیس برس سے کرتے چلے آرہے ہیں۔

سب سے زیادہ نمایاں تبدیلی کراچی والوں کے رویے اور عادات میں آتی ہوئی دیکھ رہا ہوں اور حیران ہورہا ہوں۔ میں عمر کے آخری حصہ میں نا ممکن کو ممکن ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ کراچی والوں نے جگہ جگہ منہ سے پان کی پچکاری ڈالنے سے گریز کرنا شروع کردیا ہے ۔ انہوں نے عمارتوں کی سیڑھیوں پر پان کی پیک ڈالنا کم کردیا ہے۔ باتھ روم کے کموڈوں، واش بیسن اور فرش پر تھوکنا کم کردیا ہے۔ تبدیلی کی یہ اچھی نشانیاں ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے۔تبدیلی اچانک نہیں آتی۔ اچانک آنے والی تبدیلی دیر پا نہیں ہوتی ۔ ہم کراچی والوں نے تازہ توانا درختوں کے تنوں اور جڑوں میں اس قدر پان کی پیک ڈالی کہ ہرے بھرے درخت سوکھ گئے ۔ برگد، پیپل اور نیم کے درخت جوکہ کراچی کی شان ہوتے تھے ، کراچی سے غائب ہوگئے ۔ بندر روڈ جو کہ کیماڑی، بولٹن مارکیٹ سے ہوتا ہوا ٹکری پر ختم ہوتا تھا ، اس کے دونوں اطراف فٹ پاتھ پر بیس پچیس گز کی دوری پر نیم، پیپل اور برگد کے پیڑ لگے ہوئے ہوتے تھے۔ ان کے درمیاں خوبصورت بینچ رکھے ہوتے تھے۔ بندر روڈ کودینے والوں نے محمد علی جناح روڈ کا نام دیا ٹکری پر قائد اعظم محمد علی جناح کا مقبرا بنا۔ بندر روڈ یعنی ایم اے جناح روڈ سے بینچ غائب ہونا شروع ہوئے ۔ غائب ہوتے ہوتے، تمام بینچ غائب ہوگئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے درخت کٹنے لگے۔ اور پھر درخت ایسے کٹے کہ کراچی سے برگد ،پیپل اور نیم کے درختوں کا نام ونشاں گم ہوگیا ۔

تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔ تبدیلی آچکی ہے۔ آپ دیکھتے جائیے گا ۔ بندر روڈ یعنی ایم اے جناح روڈ کے دونوں اطراف فٹ پاتھ پر پندرہ بیس گز کے فاصلے پر پھر سے نیم ، برگد اور پیپل کے درخت لگانے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ درختوں کے درمیاں خوبصورت بینچ رکھے جائیں گے ۔ بینچ بنانے کے لیے ٹینڈر منگوائے گئے ہیں۔ آپ دل تھام کربیٹھیں۔ بندر روڈ یعنی ایم اے جناح روڈ کے بیچوں بیچ ٹرام چلا کرتی تھی ۔ کیماڑی سے شروع ہوتی تھی اور پھر پورے شہر میں پھیل جاتی تھی ۔ سولجر بازار ، صدر ، چاکیواڑہ، بھیم پورہ، کینٹ اسٹیشن، لارنس روڈ ، گاندھی گارڈن یعنی کراچی کا چڑیا گھرتک ٹرام کی پٹریاں بچھی ہوئی ہوتی تھیں۔کراچی کواس کی عظمت رفتہ، شان وشوکت واپس دلوانے کے لیے ایم اے جناح روڈ پر پھر سے ٹرام چلانے کا اصولی فیصلہ کردیاکیا ہے۔ یہ سب تبدیلی کا ثمر ہے۔ بٹوارے سے پہلے شہر کراچی یورپ کا کوئی شہر لگتا تھا ۔ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ پھر سے کراچی یورپ کا کوئی شہر لگنے لگے۔

کراچی میں تقریباً اٹھارہ ایسی عمارتیں تھیں جن پر بڑے بڑے کلاک یعنی گھڑیال لگے ہوئے تھے۔عمارتیں اپنی جگہ موجود ہیں گوکہ بری حالت میں ہیں، ان کے کلاک یعنی گھڑیال غائب ہیں، سوائے دوچار عمارتوں کے۔ ان دوچار عمارتوں پر لگے گھڑیالوں میں سے صرف ایک گھڑیال وقت دکھاتا ہے اور باقی عمارتوں پر لگے ہوئے گھڑیال بند ہیں۔ صرف میونسپل کارپوریشن کا گھڑیال چل رہا ہے۔ میری ویدر ٹاور اور ایمپریس مارکیٹ کے کلاک بند ہیں۔

آپ تصور کیجئے کہ جب ان اٹھارہ عمارتوں پر پھر سے کلاک ، یا گھڑیال لگ جائیں گے تب ہمارا شہر کراچی کیسا لگے گا؟ انگریزوں کے دور میں میونسپل کارپوریشن، ڈی جے سائنس کالج، موہٹہ پیلس سندھ ہائی کورٹ، سندھ اسمبلی بلڈنگ گورنر ہائوس اور فلیگ ہائوس جیسی کئی دیدہ زیب اور خوبصورت عمارتیں تعمیر ہوئی تھیں۔

بندر روڈ پر، سعید منزل کے قریب این جے وی ہائی اسکول کی خوبصورت عمارت انگریز کے دور کی آخری عمارت تھی جو انیس سو چھیالیس یعنی پاکستان کے وجود میں آنے سے ایک سال پہلے بن کر تیار ہوئی تھی ۔ وہ عمارت سفید پوش قبضہ گروپوں کے قبضے میں ہے۔ آج سے نہیں، روز اول سے ۔ سب سے پہلے سندھ اسمبلی نے این جے وی ہائی اسکول کی تیسری منزل پر قبضہ کرلیا۔ گرائونڈ فلور کے ایک حصہ پر سندھی ادبی بورڈ نے ڈیرے ڈالے ۔ اسکول کے مغربی حصے کے گرائونڈ فلور پر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے قبضہ کیا ۔ آج تک یہی روایت چلی آرہی ہے کہ ایک قبضہ گروپ قبضے سے دست بردار ہوتا ہے تو دوسرا قبضہ گروپ این جے وی ہائی اسکول کی خوبصورت عمارت کے کسی حصہ پر قبضہ کرلیتا ہے۔ ایک مولوی صاحب نے اسکول کے پلے گرائونڈ کے حصہ پر قبضہ کرلیا اور وہاں مسجد بناڈالی۔ قدیم وکٹ کیپر ہونے کے ناتے میں نے معتبر اور محترم فاسٹ بالر سےگزارش کی ہے کہ کراچی کو پھر سے شان وشوکت دلوانے کے لیے این جے وی ہائی اسکول کو قبضہ گروپوں کے چنگل سے چھڑایا جائے۔

امر جلیل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.