22

کتنا رنگیلا تھا محمد شاہ رنگیلا؟

12 مئی 1739 کی شام۔ دہلی میں زبردست چہل پہل، شاہجہان آباد میں چراغاں اور لال قلعے میں جشن کا سماں ہے۔ غریبوں میں شربت، پان اور کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے، فقیروں، گداؤں کو جھولی بھر بھر کر روپے عطا ہو رہے ہیں۔

آج دربار میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ کے سامنے مغلیہ سلطنت کے 13ویں تاجدار محمد شاہ بیٹھے ہیں، لیکن اس وقت ان کے سر پر شاہی تاج نہیں ہے، کیوں نادر شاہ نے ڈھائی ماہ قبل ان سے سلطنت چھین لی تھی۔ 56 دن دہلی میں رہنے کے بعد اب نادر شاہ کے واپس ایران لوٹنے کا وقت آ گیا ہے اور وہ ہندوستان کی باگ ڈور دوبارہ سے محمد شاہ کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔

نادر شاہ نے صدیوں سے جمع کردہ مغل خزانے میں جھاڑو پھیر دی ہے اور شہر کے تمام امرا و روسا کی جیبیں الٹا لی ہیں، لیکن اسے دہلی کی ایک طوائف نور بائی نے، جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا، خفیہ طور پر بتا دیا ہے کہ یہ سب کچھ جو تم نے حاصل کیا ہے، وہ ایسی چیز کے آگے ہیچ ہے جسے محمد شاہ نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھا ہے۔

نادر شاہ گھاگ سیاستدان اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے تھا۔ اس موقعے پر وہ چال چلی جسے نہلے پہ دہلا کہا جاتا ہے۔ اس نے محمد شاہ سے کہا، ‘ایران میں رسم چلی آتی ہے کہ بھائی خوشی کے موقعے پر آپس میں پگڑیاں بدل دیتے ہیں، آج سے ہم بھائی بھائی بن گئے ہیں، تو کیوں نہ اسی رسم کا اعادہ کیا جائے؟’

محمد شاہ کے پاس سر جھکانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ نادر شاہ نے اپنی پگڑی اتار کر اس کے سر رکھی، اور اس کی پگڑی اپنے سر، اور یوں دنیا کا مشہور ترین ہیرا کوہِ نور ہندوستان سے نکل کر ایران پہنچ گیا۔

رنگیلا بادشاہ
اس ہیرے کے مالک محمد شاہ اپنے پڑدادا اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت میں 1702 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا پیدائشی نام تو روشن اختر تھا، تاہم 29 ستمبر 1719 کو بادشاہ گر سید برادران نے انھیں صرف 17 برس کی عمر میں سلطنتِ تیموریہ کے تخت پر بٹھانے کے بعد ابوالفتح نصیر الدین روشن اختر محمد شاہ کا خطاب دیا۔ خود ان کا تخلص ‘سدا رنگیلا’ تھا۔ اتنا لمبا نام کون یاد رکھتا، چنانچہ عوام نے دونوں کو ملا کر محمد شاہ رنگیلا کر دیا اور وہ آج تک ہندوستان کے طول و عرض میں اسی نام سے جانے اور مانے جاتے ہیں۔

محمد شاہ کی پیدائش کے وقت اورنگزیب عالمگیر نے ہندوستان میں ایک خاص قسم کا کٹر اسلام نافذ کر رکھا تھا اس کا سب سے پہلا نشانہ وہ فنونِ لطیفہ بنے جن کے بارے میں تصور تھا کہ وہ اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اس کی ایک دلچسپ مثال اطالوی سیاح نکولو منوچی نے لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اورنگزیبی دور میں جب موسیقی پر پابندی لگی تو گویوں اور موسیقاروں کی روٹی روزی بند ہو گئی۔ آخر تنگ آ کر ایک ہزار فنکاروں نے جمعے کے دن دہلی کی جامع مسجد سے ایک جلوس نکالا اور آلاتِ موسیقی کو جنازوں کی شکل میں لے کر روتے پیٹتے گزرنے لگے۔ اورنگزیب نے دیکھا تو حیرت زدہ ہو کر پچھوایا، ‘یہ کس کا جنازہ لیے جا رہے ہو جس کی خاطر اس قدر آہ و بکا کیا جا رہا ہے؟’ انھوں نے کہا: ‘آپ نے موسیقی قتل کر دی ہے اسے دفنانے جا رہے ہیں۔’

اورنگزیب نے جواب دیا، ‘قبر ذرا گہری کھودنا!’

طبیعیات کا اصول ہے کہ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ یہی اصول تاریخ اور انسانی معاشرت پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ جس چیز کو جتنی سختی سے دبایا جائے، وہ اتنی ہی قوت سے ابھر کر سامنے آتی ہے۔ چنانچہ اورنگزیب کے بعد بھی یہی کچھ ہوا اور محمد شاہ کے دور میں وہ تمام فنون پوری آب و تاب سے سامنے آ گئے جو اس سے پہلے دب گئے تھے۔

دو انتہائیں
اس کی سب سے دلچسپ گواہی ‘مرقعِ دہلی’ سے ملتی ہے۔ یہ ایک کتاب ہے جسے محمد شاہ کے درباری درگاہ قلی خاں نے لکھا تھا اور اس میں انھوں نے لفظوں سے وہ تصویریں کھینچی ہیں کہ اس زمانے کی جیتی جاگتی سانس لیتی دہلی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔

اس کتاب کے مطالعے سے ایک عجیب بات سامنے آتی ہے کہ صرف بادشاہ ہی نہیں، اہلِ دہلی کی زندگی دو انتہاؤں کے درمیان پینڈولم کی طرح سفر کرتی تھی۔ ایک طرف تو وہ عیش و عشرت سے لبریز زندگی بسر کرتے تھے، جب اکتا جاتے تو سیدھے اولیا کے آستانوں کا رخ کرتے تھے۔ جب وہاں سے دل بھر جاتا تو دوبارہ طاؤس و رباب کی آغوش میں پناہ لیتے تھے۔

مرقعِ دہلی میں آنحضور کے قدم شریف، قدم گاہ حضرت علی، نظام الدین اولیا کا مقبرہ، قطب صاحب کی درگاہ اور درجنوں دوسرے مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں عقیدت مندوں کی بھیڑ رہتی ہے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ یہاں ‘اولیائے کرام کی اتنی قبریں ہیں کہ ان پر بہشت بھی رشک کرتی ہے۔’ ایک طرف یہاں گیارہویں شریف ‘ساری دہلی میں بڑی دھوم دھام سے ہوتی ہے، جھاڑ فانوس سجائے جاتے ہیں اور سماع کی پرکیف محفلیں ہوتی ہیں۔

دوسری جانب اسی دوران موسیقی کو بھی خوب فروغ حاصل ہوا۔ درگاہ نے ایسے کئی موسیقاروں کا ذکر کیا ہے جو شاہی دربار سے وابستہ تھے۔ ان میں ادا رنگ اور سدا رنگ سب سے نمایاں ہیں جنھوں نے خیال طرزِ گائیکی کو نیا آہنگ عطا کیا جو آج بھی مقبول ہے۔

بقول مرقع سدا رنگ ‘جیسے ہی اپنے ناخن کے مضراب سے ساز کے تار چھیڑتا ہے دلوں سے بےاختیار ہوک نکلتی ہے اور جیسے ہی اس کے گلے سے آواز نکلتی ہے، لگتا ہے بدن سے جان نکل گئی۔’

اسی دور کی ایک بندش آج بھی گائی جاتی ہے: ‘محمد شاہ رنگیلے سجنا تم بن کاری بدریا، نت نہ سہاوے۔’

محمد شاہ رنگیلے سجنا، تمھارے بنا کالے بادل دل کو نہیں بھاتے۔

انھی پر موقوف نہیں، درگاہ قلی نے درجنوں قوالوں، ڈھولک نوازوں، پکھاوجیوں، دھمدھی نوازوں، سبوچہ نوازوں، نقالوں، حتیٰ کہ بھانڈوں تک کا ذکر کیا ہے جو شاہی دربار سے وابستہ تھے۔

ہاتھیوں کا ٹریفک جام
اس عالم میں رقص کیوں پیچھے رہتا؟ نور بائی کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔ اس کے بالاخانے کے آگے امرا و روسا کے ہاتھیوں کا وہ ہجوم ہوتا تھا کہ ٹریفک جام ہو جاتا۔ بقول مرقعِ دہلی:

‘جس کسی کو اس کی محفل کا چسکا لگا اس کا گھر برباد ہوا اور جس دماغ میں اس کی دوستی کا نشہ سمایا وہ بگولے کی طرح چکر کاٹتا رہا۔ ایک دنیا نے اپنی پونجی کھپا دی اور ان گنت لوگوں نے اس کافر کی خاطر سارا سرمایہ لٹا دیا۔’

نور بائی نے نے نادر شاہ سے بھی تعلقات قائم کر لیے تھے اور ممکنہ طور پر ایسی ہی کسی خلوت کی محفل میں اس نے کوہِ نور کا راز نادر شاہ پر کھول دیا۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ یہ واقعہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے مورخ تھیو مٹکاف نے کوہِ نور کے بارے میں کتاب میں رقم کیا ہے، تاہم بعض مورخین اس کی صحت پر شکوک و شبہات ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ اس قدر مشہور ہے کہ ہندوستان کی اجتماعی یاددادشت کا حصہ بن گیا ہے۔

درگاہ قلی خاں ایک اور طوائف اد بیگم کا حیرت انگیز احوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

‘اد بیگم: دہلی کی مشہور بیگم ہیں جو پائجامہ نہیں پہنتیں، بلکہ اپنے بدن کے نچلے حصے پر پائجامہ کی طرح گل بوٹے بنا لیتی ہیں۔ بعینہ ایسے گل بوٹے بناتی ہیں جو رومی کمخواب کے تھان میں ہوتے ہیں اس طرح وہ امرا کی محفلوں میں جاتی ہیں اور کمال یہ ہے کہ پائجامہ اور اس نقاشی میں کوئی امتیاز نہیں کر پاتا۔ جب تک اس راز سے پردہ نہ اٹھے کوئی ان کی کاریگری کو نہیں بھانپ سکتا۔’

یہ میر تقی میر کی جوانی کا زمانہ تھا۔ کیا عجب کہ یہ شعر انھوں نے اد بیگم ہی سے متاثر ہو کر کہا ہو:

جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے

کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ

اس دوران محمد شاہ کے شب و روز کا معمول یہ تھا: صبح کے وقت جھروکۂ درشن میں جا کر بٹیروں یا ہاتھیوں کے لڑائیوں سے دل بہلانا۔ اس دوران کبھی کوئی فریادی آ گیا تو اس کی بپتا بھی سن لینا۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں، نٹوں، نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے حظ اٹھانا، شامیں رقص و موسیقی سے اور راتیں۔۔۔

بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔ البتہ کتابوں میں لکھا ہے کہ نادر شاہ کے حملے کے بعد وہ زیادہ تر سفید لباس پر اکتفا کرنے لگے تھے۔

مغل فنِ مصوری جو اورنگزیب کے دور میں مرجھا گیا تھا، اب پوری آب و تاب سے کھل کر سامنے آیا۔ اس دور کے نمایاں مصوروں میں ندھا مل اور چترمن کے نام شامل ہیں جن کی تصاویر مغلیہ مصوری کے سنہرے دور کے فن پاروں کے مقابلے پر رکھی جا سکتی ہیں۔

شاہجہان کے بعد پہلی بار دہلی میں مغل مصوری کا دبستان دوبارہ جاری ہوا ۔ اس طرز کی نمایاں خصوصیات میں ہلکے رنگوں کا استعمال اہم ہے۔ ا س کے علاوہ پہلے دور کی مغلیہ تصاویر میں پورا فریم کھچاکھچ بھر دیا جاتا تھا، محمد شاہی عہد کے دوران منظر میں سادگی پیدا کرنے اور خالی جگہیں رکھنے کا رجحان پیدا ہوا جہاں نظر ادھر ادھر گھوم پھر سکے۔

اسی دور کی ایک مشہور تصویر وہ ہے جس میں خود محمد شاہ رنگیلا کو ایک کنیز سے دادِ عیش دیتے دکھایا گیا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ دہلی میں افواہ پھیل گئی تھی کہ بادشاہ نامرد ہے، جسے زائل کرنے کے لیے اس تصویر کا سہارا لیا گیا جسے آج لوگ ‘پورن آرٹ’ کے زمرے میں رکھیں گے۔

سونے کی چڑیا
ایسے میں کاروبار حکومت کیسے چلتا اور کون چلاتا؟ اودھ، بنگال اور دکن جیسے زرخیز اور مالدار صوبوں کے نواب عملاً اپنے اپنے علاقوں کے بادشاہ بن بیٹھے۔ ادھر جنوب میں مرہٹوں نے دامن کھینچنا شروع کر دیا اور سلطنتِ تیموریہ کے بخیے ادھڑنا شروع ہو گئے لیکن سلطنت کے لیے سب سے بڑا خطرہ مغرب سے نادر شاہ کی شکل میں شامتِ اعمال کی طرح نمودار ہوا اور سب کچھ تار تار کر گیا۔

نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیوں کیا؟ شفیق الرحمٰن نے اپنی شاہکار تحریر ‘تزکِ نادری’ میں اس کی کئی وجوہات بیان کی ہیں، مثلاۙ ‘ہندوستان کے گویے ‘نادرنا دھیم دھیم’ کر کے ہمارا مذاق اڑاتے ہیں،’ یا پھر یہ کہ ‘ہم تو حملہ کرنے نہیں بلکہ اپنی پھوپھی جان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔’ مزاح اپنی جگہ، اصل سبب صرف دو تھے۔

اول: ہندوستان فوجی لحاظ سے کمزور تھا۔ دوم: مال و دولت سے لبریز تھا۔

انحطاط کے باوجود اب بھی کابل سے لے کر بنگال تک مغل شہنشاہ کا سکہ چلتا تھا اور اس کا دارالحکومت دہلی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا جس کی 20 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی لندن اور پیرس کی مشترکہ آبادی سے زیادہ تھی، اور اس کا شمار دنیا کے امیر ترین شہروں میں کیا جا سکتا تھا۔

چنانچہ نادر شاہ 1739 کے اوائل میں فاتحینِ ہند کی مشہور گزرگاہ درۂ خیبر عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ کو جب بھی بتایا جاتا کہ نادر شاہ کی فوجیں آگے بڑھ رہی ہیں تو وہ یہی کہتا: ‘ہنوز دلی دور است،’ یعنی، ابھی دلی بہت دور ہے، ابھی سے فکر کی کیا بات ہے۔

جب نادر شاہ دلی سے سو میل دور پہنچ گیا تو طوعاً و کرہاً مغل شہنشاہ کو زندگی میں پہلی بار اپنی فوجوں کی قیادت خود کرنا پڑی۔ یہاں بھی کروفر کا یہ عالم کہ اس کے لشکر کی کل تعداد لاکھوں میں تھی، تاہم اس کا بڑا حصہ باورچیوں، ماشکیوں، قلیوں، خدمت گاروں، خزانچیوں اور دوسرے سویلین عملے پر مشتمل تھا، جب کہ لڑاکا فوجی ایک لاکھ سے کچھ ہی اوپر تھے۔

اس کے مقابلے پر ایرانی فوجی صرف 55 ہزار تھے، لیکن کہاں جنگوں کے پالے نادر شاہی لڑاکا دستے، اور کہاں لہو و لعب میں دھت مغل سپاہی۔ کرنال کے میدان میں صرف تین گھنٹے میں فیصلہ ہو گیا اور نادر شاہ محمد شاہ کو قیدی بنا کر دہلی کے فاتح کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوا۔

قتلِ عام
اگلے دن عید الضحیٰ تھی۔ دہلی کی مسجدوں میں نادر شاہ کے نام کا خطبہ پڑھا گیا اور ٹکسالوں میں اس کے نام سکے ڈھالے جانے لگے۔ ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ایک طوائف نے نادر شاہ کو قتل کر دیا ہے۔ دہلی کے باسیوں نے اس سے شہ پا کر شہر میں تعینات ایرانی فوجیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کے صفحات پر کچھ یوں رقم ہے:

‘سورج کی کرنیں ابھی ابھی مشرقی افق سے نمودار ہوئی تھیں کہ نادر شاہ درانی اپنے گھوڑے پر سوار لال قلعے سے نکل آیا۔ اس کا بدن زرہ بکتر سے ڈھکا ہوا، سر پر آہنی خود اور کمر پر شمشیر بندھی ہوئی تھی اور کماندار اور جرنیل ہمراہ تھے۔ اس کا رخ نصف میل دور چاندنی چوک میں واقع روشن الدولہ مسجد کی جانب تھا۔ مسجد کے بلند صحن میں کھڑے ہو کر اس نے تلوار نیام سے نکال لی۔’

یہ اس کی سپاہ کے لیے اشارہ تھا۔ صبح کے نو بجے قتلِ عام شروع ہوا۔ قزلباش سپاہیوں نے گھر گھر جا کر جو ملا اسے تہِ تیغ کرنا شروع کر دیا۔ اتنا خون بہا کہ نالیوں کے اوپر سے بہنے لگا، لاہوری دروازہ، فیض بازار، کابلی دروازہ، اجمیری دروازہ، حوض قاضی اور جوہری بازار کے گنجان علاقے لاشوں سے اٹ گئے، ہزاروں عورتوں کو ریپ کیا گیا، سینکڑوں نے کنوؤں میں گر کر خودکشی کو ترجیح دی۔ کئی لوگوں نے خود اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو قتل کر دیا کہ وہ ایرانی سپاہیوں کے ہتھے نہ چڑھیں۔

اکثر تاریخی حوالوں کے مطابق اس دن 30 ہزار دہلی والے تلوار کے گھاٹ اترے۔ آخر محمد شاہ نے اپنے وزیرِ اعظم نظامِ المک کو نادر شاہ کے پاس بھیجا۔ روایت ہے کہ نظام الملک ننگے پاؤں، ننگے سر نادر شاہ کے سامنے حاضر ہوا اور یہ شعر پڑھا:

دگر نمانده کسی تا به تیغ ناز کشی … مگر که زنده کنی مرده را و باز کشی

(اور کوئی نہیں بچا جسے تو اپنی تیغِ ناز سے قتل کرے ۔۔۔ سوائے اس کے کہ مردوں کو زندہ کرے اور دوبارہ قتل کرے)

اس پر کہیں جا کر نادر شاہ نے تلوار دوبارہ نیام میں ڈالی، تب کہیں جا کر اس کے سپاہیوں نے ہاتھ روکا۔

قتلِ عام بند ہوا تو لوٹ مار کا بازار کھل گیا۔ شہر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور فوج کی ڈیوٹی لگا دی گئی کہ وہ وہاں سے جس قدر ہو سکے، مال و زر اکٹھا کریں۔ جس شخص نے اپنی دولت چھپانے کی کوشش کی، اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جب شہر کی صفائی ہو گئی تو نادر شاہ نے شاہی محل کی جانب توجہ کی۔ اس کی تفصیل نادر شاہ کے درباری تاریخ نویس مرزا مہدی استرآبادی نے کچھ یوں بیان کی ہے:

‘چند دنوں کے اندر اندر عمال کو شاہی خزانہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہاں موتیوں اور مونگوں کے سمندر تھے، ہیرے، جواہرات، سونے چاندی کی کانیں تھیں، جو انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھیں۔ ہمارے دہلی میں قیام کے دوران شاہی خزانے سے کروڑوں روپے نادر شاہ کے خزانے میں منتقل کیے گئے۔ دربار کے امرا، نوابوں اور راجاؤں نے مزید کئی کروڑ سونے اور جواہرات کی شکل میں بطور تاوان دیے۔’

ایک مہینے تک سینکڑوں مزدور سونے چاندی کے زیورات، برتنوں اور دوسرے ساز و سامان کو پگھلا کر اینٹیں ڈھالتے رہے تاکہ انھیں ایران ڈھونے میں آسانی ہو۔

شفیق الرحمٰن ‘تزکِ نادری’ میں اس عمل کی قہقہہ بار تفصیل بیان کی ہے: ‘ہم نے ازراہِ مروت محمد شاہ کو اجازت دے دی کہ اگر اس کی نظر میں کوئی ایسی شے ہو جس کو ہم بطور تحفہ لے جا سکتے ہوں اور غلطی سے یاد نہ رہی ہو تو بیشک ساتھ باندھ دے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور بار بار کہتے تھے کہ ہمارے بغیر لال قلعہ خالی خالی سا لگے گا۔ یہ حقیقت تھی کہ لال قلعہ ہمیں بھی کافی خالی خالی لگ رہا تھا۔’

نادر شاہ نے کل کتنی دولت لوٹی؟ تاریخ دانوں کے ایک تخمینے کے مطابق اس کی مالیت اس وقت کے 70 کروڑ روپے تھی جو آج کے حساب سے 156 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یعنی پاکستان کے تین بجٹوں کے برابر!یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی مسلح ڈکیتی تھی۔

اردو شاعری کا سنہرا دور
مغلوں کی درباری اور سرکاری زبان فارسی تھی، لیکن جیسے جیسے دربار کی گرفت عوامی زندگی پر ڈھیلی پڑتی گئی، عوام کی زبان یعنی اردو ابھر کر اوپر آنے لگی۔ بالکل ایسے ہی جیسے برگد کی شاخیں کاٹ دی جائیں تو اس کے نیچے دوسرے پودوں کو پھلنے پھولنے کا موقع مل جاتا ہے۔ چنانچہ محمد شاہ رنگیلا کے دور کو اردو شاعری کا سنہرا دور کہا جا سکتا ہے۔

اس دور کی ابتدا خود محمد شاہ کے تخت پر بیٹھتے ہی ہو گئی تھی جب بادشاہ کے سالِ جلوس یعنی 1719 میں ہی ولی دکنی کا دیوان دکن سے دہلی پہنچا۔ اس دیوان نے دہلی کے ٹھہرے ہوئے ادبی جھیل میں زبردست تلاطم پیدا کر دیا اور یہاں کے لوگوں پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ اردو (جسے اس زمانے میں ریختہ، ہندی یا دکنی کہا جاتا تھا) میں یوں بھی شاعری ہو سکتی ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے اردو شاعروں کی پنیری تیار ہو گئی، جن میں شاکر ناجی، نجم الدین آبرو، شرف الدین مضمون اور شاہ حاتم وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

انھی شاہ حاتم کے شاگرد مرزا رفیع سودا ہیں، جن سے بہتر قصیدہ نگار اردو آج تک پیدا نہیں کر سکی۔ سودا ہی کے ہم عصر میر تقی میر کی غزل کا مثیل آج تک نہیں ملا۔ اسی دور کی دہلی میں ایک طرف میر درد کی خانقاہ ہے، وہی میر در جنھیں آج بھی اردو کا سب سے بڑا صوفی شاعر مانا جاتا ہے۔ اسی عہد میں میر حسن پروان چڑھے جن کی مثنوی ‘سحرالبیان’ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس دوران پنپنے والے ‘دوسرے درجے’ کے شاعروں میں بھی ایسے نام شامل ہیں جو اس زمانے میں دھندلا گئے لیکن کسی دوسرے دور میں ہوتے تو چاند بن کر چمکتے۔ ان میں میر سوز، قائم چاند پوری، مرزا تاباں، اور میر ضاحک وغیرہ شامل ہیں۔

انجام
کثرتِ شراب نوشی اور افیم کی لت نے محمد شاہ کو اپنی سلطنت ہی کی طرح اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ اسی لیے ان کی عمر مختصر ہی ثابت ہوئی۔ ابھی سِن 46 ہی کو پہنچا تھا کہ ایک دن اچانک غشی کا دورہ پڑا۔ طبیبوں نے ہر نسخہ آزما لیا۔ انھیں اٹھا کر حیات بخش باغ منتقل کر دیا گیا، لیکن یہ باغ بھی بادشاہ کی حیات کی گھڑیاں کچھ زیادہ طویل نہیں کر سکا اور وہ ساری رات بےہوش رہنے کے بعد اگلے دن چل بسے۔ انھیں نظام الدین اولیا کے مزار میں امیر خسرو کے پہلو بہ پہلو دفن کیا گیا۔

یہ اپریل کی 15 تاریخ تھی اور سال تھا 1748۔ ایک لحاظ سے یہ محمد شاہ کے لیے اچھا ہی ہوا کیوں کہ اسی سال نادر شاہ ہی کے ایک جرنیل احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر حملوں کی ابتدا کر دی تھی۔ظاہر ہے کہ بابر، اکبر یا اورنگ زیب کے برعکس محمد شاہ کوئی فوجی جرنیل نہیں تھا، اور نادر شاہ کے خلاف کرنال کے علاوہ اس نے کسی جنگ کی قیادت نہیں کی۔ نہ ہی ان میں جہاں بانی و جہاں گیری کی وہ قوت اور توانائی موجود تھی جو پہلے مغلوں کا خاصہ تھی۔ وہ مردِ عمل نہیں بلکہ مردِ محفل تھے اور اپنے پردادا اورنگ زیب کے برعکس فنونِ حرب سے زیادہ فنونِ لطیفہ کے شیدائی تھے۔

کیا مغل سلطنت کے انہدام کی ساری ذمہ داری محمد شاہ پر ڈالنا درست ہے؟ ہمارے خیال سے ایسا نہیں ہے۔ خود اورنگ زیب نے اپنی انتہا پسندی، سخت گیری اور بلاوجہ لشکر کشی سے تخت کےپایوں کو دیمک لگانا شروع کر دی تھی۔ جس طرح صحت مند جسم کو متوازن غذا کی ضرورت پڑتی ہے، ویسے ہی صحت مند معاشرے کے لیے زندہ دلی اور خوش طبعی اتنے ہی ضروری ہیں جتنی طاقتور فوج ۔ اورنگ زیب نے شمشیر و سناں والے پلڑے پر زور ڈالا، تو پڑپوتے نے طاؤس و رباب والے۔ نتیجہ وہی نکلنا تھا جو سب کے سامنے ہے۔

یہ سب کہنے کے باوجودنامساعد حالات ،بیرونی حملوں اور طاقتور امرا کی ریشہ دوانیوں کے دوران مغل سلطنت کا شیرازہ سنبھالے رکھنا ہی محمد شاہ کی سیاسی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ان سے پہلے صرف دو مغل حکمران اکبر اور اورنگ زیب ہی گزرے ہیں جنھوں نے محمد شاہ سے زیادہ عرصہ حکومت کی۔دوسری طرف محمد شاہ کو آخری بااختیار مغل شہنشاہ بھی کہا جا سکتا ہے، ورنہ اس کے بعد آنے والے بادشاہوں کی حیثیت امرائے دربار، روہیلوں، مرہٹوں اور بالآخر انگریزوں کے کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔

ساری رنگینیاں اور رنگ رلیاں اپنی جگہ، محمد شاہ رنگیلا نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور فنون کی ترویج میں جو کردار ادا کیا اسے نظرانداز کرنا ناانصافی ہو گی۔

ظفر سید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں