20

کتاب میں کیا کچھ ہے؟ ریحام نے بتا دیا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی مطلقہ ریحام خان نے دعوی ٰکیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لئےجنسیت (سیکس) کو استعمال کیا۔ طاقت ور عہدے دینے کے لئے جنسی تعلقات کو بروئے کار لایا جاتا۔ جون پاکستان میں موسم کا گرم ترین مہینہ ہوتا ہے۔ جب درجہ حرارت40ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔
پاکستان کے صف اول کے سیاست دانوں کے لئے یہ جون معمول سے زائد گرم ہے۔ انہیں عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ہے۔ آئندہ عام انتخابات کے لئے ان کے کاغذات نامزدگی کی کڑی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ تاہم تحریک انصاف اور اس کی مقناطیسی شخصیت کے حامل رہنما عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو مختلف نوعیت کی’’ گرمی ‘‘کا سامنا ہے۔ ر یحا م خان جو دس ماہ کے لئے عمران خان کی بیوی رہیں، 25جولائی کو وہ آئندہ عام انتخابات سے قبل اپنی آپ بیتی کی رونمائی کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔ ایسی علامات ہیں کہ ان کی کتاب اکثر کے خیال سے کہیں زیادہ ’’واضح ‘‘ ہو گی۔ ٹی وی پر کتاب کے مبینہ مواد پر بحث عمران خان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان صریح الزامات اور جوابی الزامات کی صورت اختیار کر لی ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام نمایاں چینلز پر بات کرنے کے بعد ریحام خان نے گزشتہ روز سی این این ،نیوز18جو ایک بھارتی چینل ہے، اس سے خصوصی بات کی اور پارٹی قیادت پر سیاسی مقاصد کے لئے جنسی حربے، دبائو اور ہراسا ں کئے جانے کو استعمال کیا ۔اپنے کتاب لکھنے کےحوالے سے فیصلے کو جائز قرار دیتے ہوئے ریحام خان نے چینل کو بتایا کہ پاکستان کے ووٹرز کو عمران خان ووٹ دینے سے قبل معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کسے ووٹ دینے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کا مہرہ ہونے کے الزامات کو بکواس قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کا مقصد عمران خان کو بدنام کرنا ہو، انہوں نے کہا کہ کتاب ان کے ذاتی مشاہدے اور ذاتی تعلقات کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے اس کا احاطہ کیا ہے۔
ریحام نے یہ بھی کہا کہ کتاب میں عمران خان سے متعلق براہ راست جنسی دبائو اور حربوں کے واقعات کا بھی ذکر موجود ہے۔ انہوں نے کہا 2013میں تو تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، تاہم اب وہ ایسا نہیں کریں گی۔ تحریک انصاف نے خیر پختون خوا میں کچھ نہیں کیا۔ اپنے قریبی نکتہ نظر کے مطایق ریحام کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام میں اور نجی طور پر بڑے مختلف ہیں، میں نے جو پایا ہے اس کے تحت عمران اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا عمران خان موقع پرست ہیں، ریحام نے اثبات میں جواب دیتےہوئے کہا کہ لوگ تو اب انہیں مسلسل ’’مسٹر یو ٹرن‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں، یہ میرے لئے نہایت پریشان کن تھا کیونکہ کتاب میں سے ایک سطر یہ بھی موجود ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں عمران خان کو ووٹ نہیں دیں گی۔ ریحام کے مطابق یہ بات انہوں نے عمران خان سے اس وقت کہی تھی جب وہ ان کی بیوی تھیں۔ جس پر عمران خان ہنس پڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تبدیلی یا نئے پاکستان کی مہم چلا رہے تھے جو قطعی مصنوعی تھی، پارٹی میں ایسے لوگ بھی شامل کئے گئے جن پر گینگ ریپ کے الزامات ہیں، لہٰذا جب تبدیلی کے لئے ووٹ دے رہی ہوں تو مجھے تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی۔ عمران خان کی حمایت کا مقصد ان کا جمود کے خلاف ہونا تھا۔لیکن وہ خود ہی اس کا گھٹیا نمونہ بن گئے۔
اس وقت یہ افسوس ناک ہے کہ مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف کے مقابلے میں شفاف اور صاف دکھائی دیتی ہیں۔ جب انٹرویو لینے والے نے ریحام خان پر کتاب کے ابواب ’’ بوائز اینڈ گرلز ‘ اینڈ سیکسی اینڈ ڈرگز‘‘ ،راک این رول، ہیروئن اور کوکین کے بارے میں استفسار کیا اور کہا اس حوالے سے کیا عمران خان کی کوئی ذمہ داری بنتی ہے؟ ریحام خان کا جواب تھا کہ انہوں نے کتاب میں اخلاقیات اور اقربا پروری پر بات کی ہے۔ میں نے جنسی ہراساں کئے جانے اور جنسی دبائو کس طرح استعمال کیا جاتا تھا، اس پر بات کی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا آیا یہ معاملات عمران خان تک جاتے ہیں تو ریحام کا موقف تھا کہ ٹاپ پر جو لوگ ہوتے ہیں، انہیں ذمہ داری قبول کرنا چاہئے کہ ان کے گھر اور پارٹی کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ پھر پوچھا گیا کہ مذکورہ بالا واقعات میں کیا عمران خان براہ راست ملوث ہیں، پوزیشن یا اقربا پروری میں براہ راست ملوث ہونا اور میرٹ سے ہٹ کر حمایت کرنا، ایسا اقرباء پروری اور میرٹ کی نفی سے ہوتا ہے۔ چینل نے پھر پوچھا ہم اس سے کہیں زیادہ کی بات کر رہے ہیں، جنسیت اور منشیات کے بارے میں،جنسی دبائو اور ہراساں کیا جانا، اس کا کیسے ذکر ہو؟ ریحام نےجواب دیا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی بات کی ہے۔ درج جرائم کے واقعات پر جن کا ذکر کتاب میں ہے۔ ریحام نے کہا کہ کچھ مخصوص واقعات ہیں جن کا کتاب میں کھل کر ذکر نہیں کیا گیا۔ جنہیں لکھا نہیں جا سکتا کیونکہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔ لیکن جنسی ہراساں کئے جانے کے واقعات ہیں، میں نے ان واقعات کا ذکر کیا جو اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ہیں۔ دوسری جانب ریحام خان کے دعوئوں کی سختی سے مذمت اور تحریک انصاف کے عہدیداروں کی جانب سے ٹی وی ٹاک شوز میں چیلنج کیا جارہا ہے۔ پارٹی ترجمان فواد چوہدری نے کہاکہ ریحام خان کے کھلے بیانات ان تمام خواتین کی تضحیک ہے جو سیاست میں آنایا کوئی پروفیشن اختیار کرنا چاہتی ہوں۔ تحریک انصاف جنسی بے راہ روی کے ریحام خان کے دعوئوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ پاکستان کی سیاست خواتین کے لئے آسان نہیں ہے اور ایسے ریمارکس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریحام خان کا بیانیہ تحریک انصاف کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے بیانیہ سے مماثل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.