48

کاملہ شمسی نے 2018 کا ویمن پرائز فار فکشن جیت لیا

پاکستانی نژاد برطانوی مصنفہ کاملہ شمسی نے اپنے ناول ہوم فائر کے لیے 2018 کا ویمن پرائز فار فکشن جیت لیا ہے۔ یہ کاملہ کا ساتواں ناول ہے اور یہ تیسری بار ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی مصنفہ کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے انھیں بیلز پرائز اور اورنج پرائز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

ہوم فائر سوفوکلیز کے یونانی المیے کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ ناول بنیاد پرستی اور خاندانی وفاداریوں کے بارے میں ہے۔

ججوں میں شامل سارہ سینڈز کا کہنا تھا کہ پینل نے اس کتاب کو اس لیے چنا کیونکہ یہ ہمارے وقت کے بارے میں بات کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہوم فائر شناخت، وفاداریوں میں تصادم، محبت اور سیاست کے بارے میں ہے۔ اور اس نے اپنی مہارت کو برقرار رکھا ہے۔

’یہ ایک زبردست کتاب ہے اور ہم اسے پرجوش طریقے سےتجویز کرتے ہیں۔‘

ایوارڈ کی میزبانی اس کی بانی مصنفہ کیٹ موسی نے سینٹرل لندن میں کی۔

ویمنز پرائز فور فکشن ہے کیا؟
یہ ایوارڈ ہر سال ایسی مصنفہ کو دیا جاتا ہے جن کے بارے میں ججز سمجھتے ہیں کہ ان کا ناول انگریزی زبان میں اس سال کا سب سے بہترین ناول ہے۔

اس ایوارڈ کو دیے جانے کا آغاز سنہ 1996 میں ہوا۔ اس کی بانی کیٹ کا خیال تھا کہ بڑے ادبی انعامات میں خواتین لکھاری نظر انداز ہو جاتی ہیں۔

اس مقابلے کو جیتنے والی مصنفہ کو 30 ہزار برطانوی پاؤنڈ ملتے ہیں۔

کاملہ جن کی پیدائش پاکستان کے شہر کراچی میں ہوئی اور انھوں نے ابتدائی تعلیم بھی کراچی ہی حاصل کی اور اب وہ لندن میں مقیم ہیں کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایوارڈ حاصل کرنے پر مبارکباد دی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.