19

کالا باغ ڈیم سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔ عدالت نے سابق چیئرمین واپڈا شمس المک اور ظفر محمود کو کیس میں عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ پانی کی قلت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کے منشور میں پانی کا ذکر نہیں۔

سپریم کورٹ میں پانی کی قلت اور نئے ڈیمز کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت پیر کو اسلام آباد میں ہوئی۔

درخواست گزار جسٹس (ر) سردار طارق نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پانی کی قلت اور ڈیمز کی تعمیر کسی سیاسی جماعت کی ترجیح نہیں۔ بیس سال سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے کیس لڑ رہا ہوں۔ ہر سیاسی جماعت کے لیے الیکشن سے قبل ڈیمز کی تعمیر کا وعدہ لازمی قرار دیا جائے۔ الیکشن میں ووٹ کے ساتھ کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم کی پرچی بھی شامل کی جائے۔ اڑتالیس سال سے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا۔

پیر کو جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کی اب اولین ترجیح پانی کے مسئلے کا حل ہے۔ پانی کی قلت ملک کے لیے سب سے بڑا ناسور ہے۔ کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں لیکن الیکشن کو کنفیوز نہ کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔ بچوں کو پانی نہیں دیا، تو کچھ نہیں دیا۔ کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم خشک ہوجائے گا۔ پاکستان کی بقا پانی پر منحصر ہے۔ پانی کے مسئلے کے حل کے لیے جو بھی ہوسکا، کروں گا۔

سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق درخواست آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے عدالتی عملے کو پانی کی کمی اور ڈیمز کی تعمیر سے متعلق دیگر مقدمات بھی سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی سے متعلق تمام مقدمات ہفتے کو کراچی رجسٹری میں سنے جائیں گے۔

پاکستان دنیا کے ان 17 ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ پاکستان کے قیام کے وقت ملک میں ہر شہری کے لیے 5600 کیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر 1000 کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور سال 2025ء تک یہ 800 کیوبک میٹر رہ جائے گا۔

پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی ذخائر (پی سی آر ڈبلیو آر) کے مطابق سال 2025ء تک پاکستان میں پانی کی شدید قلت واقع ہوجائے گی۔

یہ کونسل وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت کام کرتی ہے جو آبی ذخائر کے مختلف امور اور تحقیق کی ذمہ دار ہے۔

کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے فوری طور پر اس کا حل تلاش کرنے کی ضروت ہے۔

میانوالی کے علاقے کالاباغ میں ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ 1953ء سے زیرۃ غور ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے جس پر چاروں صوبوں کا اپنا اپنا مؤقف ہے۔ پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبے اس ڈیم کی تعمیر کے سخت مخالف ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف نے 2005ء میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ لیکن سیاسی مخالفت کے باعث وہ بھی اس منصوبے پر کام شروع نہیں کراسکے تھے جس کے بعد 2008ء میں اس وقت کے وزیرِ پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے اس منصوبے کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.