65

ڈیم فنڈ اور چند تلخ حقائق

شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور اب وزیر اعظم پاکستان نے پانی کے بحران جیسے مسئلہ پر نوٹس لیا ہے اور اپنے طور پر ایک فنڈ بھی قائم کر دیا ہے جس میں بیرون ملک پاکستانیوں ، پاکستانی عوام اور مختلف اداروں کی جانب سے فنڈ جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہے.

ڈیم فنڈ کے لئے چند دن پہلے جب عمران خان نے بیرون ملک پاکستانیوں سے ڈیم فنڈ کے لئے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی . توسوشل میڈیا پر بعض نادان لوگوں نے اور خاص کر عمران خان کے مخالفین نے اس نازک مسئلہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا کر مخالفت شروع کر دی. اس سلسلے میں ان لوگوں میں سے بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈیم فنڈ کے لئے قرضہ لیا جائے . جب کہ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ باہر کا جو کالا پیسہ آف شوز کمپنیوں کی مد میں پاکستانی کرپٹ لوگوں کا پڑا ہے، وہ لا کر اس پر ڈیم بنا دیئے جائیں یعنی ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور ریاست مل کر کرپٹ لوگوں سے وصول شدہ رقم کو بھی ملک کے وسیع تر مفاد میں ڈیم کی تعمیر کے لیئے استعمال کر سکتے ہیں.

قدردانوں و مہربانوں جیسے کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان پہلے سے قرضوں تلے ڈوبے ہوا ہے ۔ ایک ڈیم تو نہیں کہ اس کے لئے قرضہ لیا جائے۔ جو پراجیکٹس مکمل نہیں ایک تو ان کو مکمل کرنا ہو گا کیونکہ بعض پراجیکٹس پی ایس ڈی پی میں شامل کر کے اس پر صرف افتتاحی تختیاں لگائی گئی ہیں ۔ جبکہ بعض آدھے مکمل ہیں۔ ان کے لئے بھی تو پیسہ چاہئیے ۔ اوپر سے ہمارے اتنے ریسوسیز نہیں جتنا خرچہ ہے ۔

دوسری بات یہ کہ پاکستانی چور ڈاکووں کا جو باہر کا پیسہ آف شوز کمپنی کی مد میں پڑا ہے۔ اسے لانا اتنا آسان کام نہیں۔ اس پر کئی سال لگیں گے ۔ کیونکہ ایف بی آف نے آف شوز کمپنی مالکان سے 2 سال بعد 6 ارب روپے کی پہلی ریکوری کر دی ہے.

لہذا ڈیم کی اشد ضرورت کے پیش نظر فی الفور اپنی مرضی سے ڈیم فنڈ کے لئے چندہ لینا انتہائی اچھی بات ہے ۔ اگر عمران خان قرضہ نہیں لینا چاہتا . تو انہوں نے واقعی پاکستان کا محب وطن ہونے کا ثبوت دیا ۔ اور اگر فرض کر لے قرضہ لیا بھی گیا تو ہم جیسے لوگوں کی مخالفتوں اور پوسٹوں کی بھر مار سے ایک اور ایشو پیدا ہو جائے گا ۔ کیونکہ بعض لوگوں کو مثبت کام پر منفی کمنٹس کی عدد سی ہو گئی ہے . اب جب اپنی مرضی سے چندہ مانگنے کی بات ہوئی ۔ تو اس میں کوئی خارج اور کراہت کی بات نہیں ۔ پیسہ ہمارا ، ڈیم بھی ہمارا ۔

بعض لوگوں نےچندے چندے ، کچکول کچکول کا واویلا مچایا ہوا ہیں ۔ عمران خان ڈیمز اپنے لئے نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لئے بنانا چاہتا ہے کیونکہ اگر تاریخ دیکھ لیا جائے تو 1968 کے بعد پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں بنا ہے۔ لہذا تنقید کے بجائے دل کھول کر ڈیم فنڈ میں چندہ جمع کریں ۔

ڈیم فنڈ کے بارے میں ھسب ذیل لینک یا ویب سائٹ پر رپورٹس یا آپ ڈیٹ دیکھا جا سکتا ہے۔
Fundhttp://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=2757&print=True
تمام دنیا میں لوگ مخلص ، دیانتدار ، صادق و آمین اور اپنے مٹی و وطن سے محبت رکھنے والوں کو چندہ دیتے ہیں ۔ اس لئے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان کے مشترکہ حسب ذیل اکاونٹ نمبر تمام پاکستانی دل کھول کر اس مہم میں اپنی استعداد کے مطابق صدقہ دیکر بھر پور حصہ لیں۔
Bank: State Bank of Pakistan
Account Name: SUPREME COURT OF PAKISTAN DIAMER BASHA AND MOHMAND DAM FUND
Account No: 03-593-299999-001-4
IBAN: PK06SBPP0035932999990014

اس کے علاوہ پاکستان بھر میں تمام نیٹ ورکس سے اپنے موبائل سے مسیج میں dam لکھ کر 8000 پر بھیج دینے سے 10 روپے ڈیم فنڈ میں جمع ہو جائے گے.

اسلامی تاریخ میں پانی کے لئے پہلا فنڈ :
اسلامی تاریخ کا روشن کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مدینہ کا واحد کنواں بئر رومہ تھا اہلیان مدینہ اور صحابہ کرام کو میٹھے پانی کیلئے بڑی دقّت تھی میٹھے پانی کا واحد کنواں ایک یہودی کی ملکیت میں تھا وہ یہودی جس قیمت پر چاہتا مہنگے داموں پانی فروخت کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس کنویں کو خرید کر اللہ کے راستے میں وقف کر دے اس کیلئے جنت کی بشارت و خوشخبری ہے حضرت عثمانؓ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کر دیا اور رسالت مآ ب صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی بشارت پائی. لہذا پانی کے لئے فنڈ جمع کرنا سنت بنوی بھی ہے.

بقلم خود رحمت یو ایس ٹی بنوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.