21

ڈونلڈ ٹرمپ اورکم جونگ ان کی جلد ملاقات ہو گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان مئی میں ملاقات کریں گے۔ یہ مہینوں کی تند و تیز بیان بازی کے بعد حیرت انگیز پیش رفت ہے۔ اس ملاقات کی خبر سب سے پہلے جنوبی کوریا کے حکام نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دی۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کو شمالی کوریا کے رہنما کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ کِم ‘ایٹمی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے پرعزم ہیں۔’

انھوں نے کہا: ‘اگر صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کی ملاقات ہو تو کوریائی جزیرہ نما کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔’

اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ ’زبردست پیش رفت ہے‘ لیکن شمالی کوریا پر اس وقت تک پابندیاں برقرار رہیں گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

اس سے پہلے امریکہ کہتا رہا ہے کہ شمالی کوریا سے بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب اس کا موقف ہے کہ یہ پیش رفت ایک بڑی کامیابی ہے۔

جنوبی کوریا کے سلامتی کے مشیر چنگ ایوینگ نے وائٹ ہاؤس کے باہر کہا کہ ’میں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ہماری ملاقات میں کیا ہوا اور انھوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمہ کا وعدہ کیا ہے۔‘

’کِم نے وعدہ کیا کہ اب شمالی کوریا مزید کوئی میزائل نہیں بنائے گا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’صدر ٹرمپ نے اس بریفنگ پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مئی کے مہینے تک کم جونگ ان سے ملیں گے اور ایک مستقل معاہدہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

شمالی کوریا انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ اپنے جوہری عزائم کے باعث دہائیوں سے تنہا ہے۔

اب تک امریکہ کے کسی صدر شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے اس سے یہ ملاقات نہایت اہم ہو گی۔

تاہم بی بی سی کی نامہ نگار لورا بائکر نے کہا ہے کہ اب تک شمالی کوریا نے براہِ راست ایسا کچھ نہیں کہا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے گا یا وہ ایسا کرنا چاہتا ہے۔

کم جونگ ان کو پروپیگینڈا میں کامیابی ملی جبکہ امریکی صدر بھی فاتح محسوس کر رہے ہوں گے جن کی پالیسیز نے دونوں کو مذاکرات کی میز تک پہنچا دیا۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا ان مذاکرات کے بدلے کیا چاہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں