30

چین: والدین کی موت کے چار سال بعد بچے کی ولادت

چین میں ایک ایسے بچے کی ولادت ہوئی ہے جس کے اصل والدین چار سال قبل ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے اور اس کو جنم دینے والی خاتون اس کی سروگیٹ یا متبادل ماں ہے۔

ہلاک ہونے والے جوڑے نے اس امید پر اپنے ایمبریوز منجمد کروا لیے تھے کہ وہ آئی وی ایف (بچوں کی پیدائش کا مصنوعی طریقہ) سے اولاد حاصل کر سکیں۔

حادثے کے بعد اِن کے والدین کے مابین طویل عرصے تک جاری رہنے والی قانونی جنگ کے جمے ہوئے ایمبریوز کو استعمال کرنے کی اجازت ملی۔

اخبار دی بیجینگ نیوز نے سب سے پہلے اس واقعے کی خبر دی کہ دسمبر میں اس بچے کی پیدائش ہوئی ہے اور اس کی متبادل ماں کا تعلق لاؤس سے ہے۔

اس بچے کے والدین نے نانجنگ ہسپتال میں ایمبریوز محفوظ کرنے کے لیے منفی 196 ڈگری کے درجہ حرارت پر مائع نائٹروجن ٹینک میں رکھوایا ہوا تھا۔

مرنے والے جوڑے کے والدین کے مابین قانونی جنگ کے بعد انھیں ان ایمبریوز کو استعمال کرنے کی اجازت ملی۔

عدالت سے اجازت ملنے کے بعد دوسری مسئلہ اس وقت کھڑا ہوا جب یہ معلوم ہوا کے نانجنگ کا ہسپتال محفوظ کیے ہوئے ایمبریوز کو صرف اسی صورت میں نکالے گا اگر اس بات کا ثبوت ہو کہ کوئی دوسرا ہسپتال اسے محفوظ کرنے کے لیے تیار ہے۔

لیکن کیونکہ اس معاملے میں قانونی طور پر مکمل وضاحت نہیں ہے اس لیے چین میں کوئی اور ایسا ادارہ ڈھونڈنا دشوار تھا اور چین میں متبادل ماں کے ذریعے پیدائش غیر قانونی ہے اس لیے مسئلے کا واحد حل کے لیے ملک سے باہر دیکھنا ضروری تھا۔

مرنے والے جوڑے کے والدین نے متبادل ماؤں کے حوالے سے قائم ایک ایجنسی سے رابطہ کیا اور لاؤس کی جانب رخ کیا جہاں یہ کام قانونی ہے۔

لاؤس میں متبادل ماں میں وہ ایمبریو منتقل لکیا گیا اور گذشتہ سال دسمبر میں بچے کی ولادت ہوئی۔

ٹیان ٹیان نامی بچے کی شہریت کی میں ہونے والے ابہام کو ختم کرنے کے لیے اس خاتون نے چین کا سفر کیا جہاں اس نے بچے کو جنم دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.