46

چین امریکی اہداف پر ’حملوں کی مشق‘ کر رہا ہے: پینٹاگون

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی فوج امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بحر الکاہل کے علاقے میں ’حملہ کرنے کی تیاریاں‘ کر رہی ہے۔

کانگریس کو پیش کی جانے والی پینٹاگون کی یہ سالانہ رپورٹ کہتی ہے کہ چین مسلسل اپنی عسکری صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور اب اس کا دفاعی بجٹ 190 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو کہ امریکی دفاعی بجٹ کا ایک تہائی حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا: ’گذشتہ تین سالوں میں پیپلز لبریشن آرمی نے تیزی سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور میری ٹائم علاقوں میں مشقیں کی جس سے لگتا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کی تیاریوں کا حصہ ہے۔‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ چین ان تیاریوں سے کیا ثابت کرنا چاہ رہا ہے۔

اس رپورٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’چین تائیوان پر زبردستی قبضہ کرنے کے لیے بھی انتظامات کر رہا ہے۔‘

’چین اپنی زمینی افواج تیار کر رہا ہے کہ وہ جنگ کریں اور جیت حاصل کریں۔ اور اگر امریکہ نے دخل اندازی کی، تو چین اس کو روکنے کی کوشش کرے گا اور چاہے گا کہ مختصر دورانیے کی مگر تیز شدت کی جنگ ہو جس میں وہ کامیابی حاصل کر سکے۔‘

چین تائیوان کو اپنے حصہ تسلیم کرتا ہے لیکن امریکہ اس کی آزادی کا حامی ہے۔

امریکی اور چینی عسکری حکام کی آپس میں گفتگو ہوتی رہی ہے تاکہ آپس کے تناؤ کو کم کیا جائے لیکن یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہیں۔

چین جنوبی بحیرۂ چین (ساؤتھ چائنا سی) کے علاقے میں اپنی فوجی تنصیبات میں اضافہ کرتا چلا آرہا ہے اور کئی مقامات پر اپنے بمبار طیارے اتار چکا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ نے جاپان میں اپنی فوجیں تیار رکھی ہوئی ہیں۔

ان تمام حالات کے باوجود، گذشتہ جون جیمز میٹس امریکہ کے پہلے سیکریٹری دفاع تھے جنھوں نے 2014 کے بعد چین کا دورہ کیا۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق اندازہ ہے کہ چین کا عسکری بجٹ اگلے دس سالوں میں بڑھ کر 240 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں چین کے خلائی پروگرام کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے سائبر حملوں کے قواعد میں نرمی:
دوسری جانب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے سائبر حملوں کے قواعد میں نرمی کی اجازت دی دے ہے جنھیں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں تیار کیا گیا تھا۔ ان قواعد و ضوابط کی روشنی میں سائبر حملے کرنے سے پہلے کئی سرکاری محکموں کو شامل کرنا ضروری تھا۔

واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت دباؤ میں ہے۔ گذشتہ جون ہی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن نے ایک مبینہ چینی سائبر حملے کی تفتیش کرنا شروع کی تھی جو امریکی بحریہ کے ایک کنٹریکٹر پر کیا گیا تھا اور جس کی وجہ سے خفیہ معلومات چرا لی گئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.