24

چیف جسٹس پہلے سیکرٹری قانون اور پھر جج کیسے بنے: نوازشریف

پاکستان کے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کو یہ تحقیقات بھی کرنی چاہییں کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو پہلے سیکریٹری قانون اور پھر جج کیسے بنایا گیا۔

اسلام آباد میں کمرہ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اب عوام، سول سوسائٹی، وکلا برادری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب اس بات پر متفق ہیں کہ عدلیہ میں اصلاحات ہونی چاہییں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ نیب یہ بھی تحقیقات کرے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو پہلے سیکریٹری قانون اور پھر جج کیسے بنایا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ہی سنہ1997 میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وفاقی سیکریٹری قانون تعینات کیا تھا۔

اور پھر سنہ 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا تھا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران عدلیہ ہمارا کس طرح ’خیال رکھ رہی ہے یہ سب کو معلوم ہے‘۔

سابق وزیر اعطم نے کہا کہ ’نیب مارشل لا کا قانون ہے لیکن غلطی ہوئی کہ اس کو ختم نہیں کر سکے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہمارے خلاف جس طرح کے کیسز بنائے گئے ہیں پاکستان کی تاریخ میں کسی کے خلاف نہیں بنے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’جب بدعنوانی کا معاملہ دور دور تک نہیں ہے تو یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے‘۔

نواز شریف نے گذشتہ روز بھی چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ ’میاں ثاقب نثار کا جوڈیشل مارشل لا‘ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں