26

چیف جسٹس ثاقب نثارکاملک کی بقا بارے دو ٹوک موقف


اسلام آباد ( دی بنوں) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں ہے . ہمیں کسی سے محاذ آرائی نہیں کرنی، ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے بے انصافی کی رمق رہی ہے، ہم نے معاشرے سے بے انصافی کے خاتمے کا آغاز کردیا ہے، قانون کی عملداری اور مضبوط جوڈیشل سسٹم ضروری ہے، عدلیہ کی کارکردگی ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے، صاف پانی اور سستا انصاف جیسے مسائل یہ سب میری کاوش اور جدوجہد ہے، جج کو اپنی عزت خود بھی کرانی چاہیے، ٹھوک بجا کر انصاف کریں،قاضی کیلئے خوف، مصلحت اور مفاد زہر قاتل ہیں۔

جمعرات کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جج کی مجبوری یہ نہیں کہ اسے کیا کہنا ہے بلکہ یہ سوچنا ہے کیا نہیں کہنا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ چیزوں سے سو فیصد اتفاق ہے. ملک میں قانون کی حکمرانی ہو کیونکہ ملک کی بقا قانون کی حکمرانی سے منسلک ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے بے انصافی کی رمق رہی ہے. ہم نے معاشرے سے بے انصافی کے خاتمے کا آغاز کردیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی عملداری اور مضبوط جوڈیشل سسٹم ضروری ہے.انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اب تک 43 ریفرنسز نمٹا چکے ہیں تاہم جون تک تمام ریفرنسز کو نمٹا دیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے شرکا سے خطاب میں بھرپور انداز میں خوش آمدید کہنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تقریب میں غیر معمولی عزت سے نوازا گیا۔ چیف جسٹس نے نوجوان وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو محنت کرتے ہوئے لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن جیسے نامور اور صفت اول کے وکلا کی فہرست میں شامل ہونا چاہیے اور اگر آپ سخت محنت کریں گے تو یہ موقع آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.