28

چترال میں خواتین خودکشیاں کیوں کر رہی ہیں؟

رفعت اللہ اورکزئی

چترال کے علاقے بونی کے باشندے بلبل محمد خان کی نوجوان بیٹی راحیلہ نے چند ماہ قبل منگنی ٹوٹ جانے کی وجہ سے پھندا ڈال کر اپنی جان لے لی۔ راحیلہ کے والد یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ آخر اتنی معمولی سی بات پر ان کی بیٹی کیونکر اتنے بڑے اقدام پر مجبور ہو گئیں؟

وقت گزرنے کے باوجود اس خاندان کے لیے راحیلہ کی دردناک موت بھلانا ممکن نہیں۔

بلبل محمد خان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال راحیلہ کی منگنی چترال سکاؤٹس میں تعینات ایک اہلکار سے ہوئی اور ان کے منگیتر نے انھیں ایک موبائل فون بھی لے کر دیا جس کے بعد دونوں روزانہ گھنٹوں فون پر باتیں کرتے تھے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ایک دن اچانک ان کے منگیتر نے فون کیا اور منگنی توڑنے کا اعلان کیا لیکن ان کی بیٹی کے لیے یہ پیغام موت کا ہرکارہ ثابت ہوا کیونکہ اگلے ہی دن اس نے گھر کے اندر پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ ان کے مطابق بیٹی کے منگیتر کو بعد میں پولیس نے گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف آج کل عدالت میں کیس زیر سماعت ہے۔

خیبر پختونخوا کے سب سے پرامن سمجھے جانے والے ضلع چترال میں حالیہ برسوں میں عورتوں کی خودکشیوں کے واقعات تسلسل سے پیش آ رہے ہیں۔

حقوق انسانی کی غیر سرکاری تنظمیوں کے مطابق گذشتہ سات سالوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسا ماہ گزرا ہو گا جس میں کسی عورت نے اپنی زندگی کا خاتمہ نہ کیا ہو۔

حیران کن طور پر جان دینے والی عورتوں میں شادی شدہ خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔

چترال میں جاری خودکشیوں کے واقعات کے وجوہات جاننے کے ضمن میں ابھی تک کوئی باقاعدہ یا جامع تحقیق نہیں کی گئی ہے
نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ, ہیومن رائٹس پروگرام چترال کے چئیرمین
چترال میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس پروگرام کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ چھ سالوں کے دوران ضلعے بھر میں تقریباً 150 سے زیادہ خواتین نے خود اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2011 میں 18 خواتین نے خودکشی کی۔ 2012 میں یہ تعداد کم رہی لیکن 2013 میں پھر بڑھ کر 19 تک جا پہنچی۔ گذشتہ سال اور رواں سال میں خودکشیوں کے واقعات ایک مرتبہ پھر بڑھتے جارہے ہیں۔ تین دن پہلے بھی دو شادی شدہ خواتین نے دریائے چترال میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔

ہیومن رائٹس پروگرام چترال کے چئیرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ چترال میں جاری خودکشیوں کے واقعات کی وجوہات جاننے کے ضمن میں ابھی تک کوئی باقاعدہ یا جامع تحقیق نہیں کی گئی ہے جس معلوم ہو سکے کہ ان کے واقعات کی بڑی وجوہات کیا ہیں۔

’جو ہماری تحقیق ہے اس کی وجوہات تو معمولی نوعیت کی ہیں جن میں زیادہ تر منگنی ٹوٹنا، مرضی کے مطابق شادی نہ ہونا، تعلیم یا محبت میں ناکامی اور گھریلو تشدد وغیرہ شامل ہیں۔‘

بیشتر واقعات میں خواتین دریائے چترال میں چھلانگ لگا کر اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ مقامی انتظامیہ نے خودکشیوں کے مسلسل واقعات پر قابو پانے کے لیے حال ہی میں ایک مرکز بھی قائم کیا ہے جس کا مقصد خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کو روکنا ہے۔

چترال کے ضلعی پولیس سربراہ منصور امان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو اس سلسلے میں جامع تحقیق ہونی چاہیے کہ آخر خواتین اپنی جانیں کیوں گنوانے پر مجبور ہیں کیونکہ ابھی تک ایسی کوئی تحقیق سامنے نہیں آئی جس سے وجوہات معلوم ہو سکیں۔

انھوں نے کہا کہ خودکشیوں کے واقعات ایک سنگین ضرور مسئلہ ہے لیکن اسے روکنا صرف حکومت کی بس کی بات نہیں بلکہ اس ضمن میں علاقے کے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا۔

پولیس سربراہ کے مطابق جو مرکز قائم کیا گیا ہے ان میں تمام مقامی خواتین سٹاف کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ شکایت کرنے والے افراد کو کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ علاقے کی خواتین کے مطالبے پر ضلع بھر کے تمام سکولوں میں خودکشیوں سے متعلق آگاہی مہم بھی شروع کی جا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ علما اور مذہبی افراد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ ان واقعات کا فوری تدارک ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.