24

چائلڈ پورنوگرافی پر پاکستان میں ’پہلا فیصلہ‘

چند ماہ پہلے قصور میں چھ سالہ زینب کے اغوا اور جنسی درندگی کے بعد قتل کی ہنگامہ خیز میڈیا کوریج کے عین درمیان جب ایک معروف ٹی وی اینکر کا پاکستان میں انٹرنیشنل چائلڈ پورن گینگ سے متعلق بیان سامنے آیا تو پورے ملک میں سراسیمگی پھیل گئی۔

بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والی تفتیش میں یہ بیان جھوٹ ثابت ہوا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

تاہم جمعرات کو پاکستان میں پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت ہونے والے پہلے اور تاریخی فیصلے نے بین الاقوامی چائلڈ پورن گینگ کے وجود سے متعلق خبروں پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

لاہور میں سائبر کرائمز سے متعلق ایک مقامی عدالت نے گزشتہ سال اپریل میں بچوں کی جنسی وڈیوز اور تصاویر کے مکروہ دھندے میں ملوث ہونے کے الزام میں سرگودھا سے گرفتار ہونے والے ملزم سعادت امین عرف انکل منٹو کو سات سال قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو ایک سال مزید قید کاٹنا ہو گی۔

اپنے فیصلے میں جج محمد عامر بیٹو نے چائلڈ پورن کے دھندے کو ایک ایسا مکروہ فعل قرار دیا جس سے معاشرے پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پورنوگرافک مواد کو حاصل کرنے کے دوران بچوں کو ناقابلِ تصور درندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم سعادت امین نے نومبر 2016 میں دس سے بارہ سال کی عمر کے بچوں کی عریاں تصاویر بنا کر ناروے میں رہنے والے سویڈش شہری کے ہاتھ فروخت کی تھی۔

انھیں ناروے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طرف سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر سرگودھا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت ان کے قبضے سے بچوں کی 65 ہزار عریاں وڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی تھی۔

بعد میں تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جین لنڈسٹروم نامی شخص سعادت امین کے واحد انٹرنیشنل کلائنٹ نہیں تھے بلکہ وہ اس سے پہلے اٹلی، امریکہ اور برطانیہ میں موجود اپنے گاہکوں کو چائلڈ پورن سپلائی کرتے رہے ہیں۔

اس کے بدلے سعادت امین کو بیرون ممالک سے ویسٹرن یونین اور منی گرام کے ذریعے ڈالروں میں بھاری رقوم کی ادائیگی کی گئی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انھیں بیرونِ ملک اپنے گاہکوں سے 138 ٹرانزیکشنز کے ذریعے 23 ہزار ڈالر سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔

انگلینڈ کے شمال مشرقی قصبے سکنتھارپ کے ایک رہائشی کی طرف سے سعادت امین کو 78 مرتبہ رقوم بھیجی گئیں جس کی بنیاد پر انھیں سعادت امین کا سب سے بڑا گاہک بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

برطانوی پولیس کے مطابق سعادت امین کے وہ مبینہ گاہک 28 جنوری 2012 کو اپنی کار ایک ویران جگہ پر پارک کرنے کے بعد روپوش ہو گئے تھے اور تمام تر کوششوں کے باوجود ان کے روپوشی کا معمہ حل نہیں ہو سکا ہے۔

مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے رکن اور ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے کیونکہ ان کے مطابق 2016 میں پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت چائلڈ پورنوگرافی پر یہ پہلا فیصلہ ہے۔

انھوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ ملزم سعادت امین کو اس ایکٹ کے تحت ممکنہ طور پر طویل ترین سزا دی گئی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے آصف اقبال نے کہا کہ اس مقدمے کے بارے میں اہم بات ایک مختصر مدت میں اس کا اپنے انجام کو پہنچنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسے مقدمے کو ناروے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا لیکن وہاں پر چلنے والا مقدمہ ابھی تک ٹرائل کے مختلف مدارج طے کر رہا ہے جبکہ یہاں پر ملزم کو سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.