پی/ پی سی رول،سیاست اور لیڈرشپ کا کمال 63

پی/ پی سی رول، سیاست اور لیڈرشپ کا کمال

تحریر: انتظار خان میرزاعلی خیلوی

سکندر اعظم جو بچپن سے اتنے کمالات کا مالک نہیں تھا۔ وہ ارسطو کا شاگرد رہا۔ ارسطو سے جنگی معرکوں کے بارے میں مشورہ لیتا۔ 20 سال کی عمر تک سکندر میں کوئی کمال نہ تھا لیکن اسکو ارسطو جیسے استاد اور ماں جیسی موٹیویٹر ملی۔ جس نے بے جان سکندر کی روح و جان میں جنگجویانہ و قائدانہ صلاحیتیں پیدا کیں۔ سکندر اعظم کی پوری شخصیت، نفسیات ،فتوحات اور اسکی پوری زندگی سے میں نے ایک چیز سیکھی کہ وہ تمام امور باہمی مشورے سے کرتا اور استادوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتا۔ اسکی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اجتماعیت کا قائل تھا۔ وہ P/PC Rule پر لاشعوری طور پر کاربند تھا۔ ایشیائی جنگوں و فتوحات کے لئے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پوری جائیداد اپنے جرنیلوں، سپہ سالاروں اور بے کس و نادار ساتھیوں میں بانٹ دیں۔ جس پر اسکی ماں سخت ناراض ہوئی اور رونے لگی۔ آپ نے ماں سے کہا کہ یہ خیرات و تقسیم دراصل وہ ٹیکس میں ادا کر رہا ہوں جو میں نے آپ جیسی ہستی کے پیٹ میں 9 مہینے گذارے۔ اس حیران کن جملے پر اسکی ماں خاموش ہو گئی۔

اب آتے ہیں P/PC Rule پر۔ کامیاب لوگوں نے اپنی کامیابی کے نچوڑ اس رول میں رکھا ہے۔ P سے مراد پراڈکٹ اور PC سے مراد پراڈکٹ کیپیبیلیٹی۔ یعنی جس چیز سے آپ کو پراڈکٹ مل رہا ہے۔ اس چیز کی دیکھ بال و مرمت اور اسکی صلاحیت بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش۔ مثال کے طور پر ایک گاڑی والے کو گاڑی سے رزق مل رہا ہے۔ تو وہ کامیاب انسان تب مانا جائے گا جب وہ گاڑی سے پیسہ کمانے کا کام لے لیکن ساتھ ساتھ گاڑی کی موجودہ صلاحیت کو برقرار رکھنے بلکہ اسکو موجودہ سے بہتر بنانے پر تھوڑی رقم کمائی ہوئی رقم سے خرچ کرے۔ لیکن اگر وہ مسلسل گاڑی چلاتا رہے اور اس پر کچھ خرچ نہیں کر رہا تو ایک روز گاڑی کام دینا بند کرے گا یا کم کام دینے پر آئے گا۔ ایک سیاستدان کے لئے اسکے ورکرز ،اسکے سپورٹرز اسکےPC ہیں ۔ یعنی اسکے ورکرز اسکے لِئے میدان بناتے ہیں۔ اسکو بام عروج تک پہنچاتے ہیں۔ اسکو ووٹ دیتے ہیں۔ اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے لئے سیاسی میدان بناتے ہیں۔ اسی کے لئے لڑتے جھگڑتے ہیں۔ غمی شادی اسی کے لئے قربان کرتے ہیں۔ انہی قربانیوں سے، اجتماعی قربانیوں و صلاحیتوں کا ایک پراڈکٹ نکلتا ہے جسے سیاستدان کی سیاسی اڑان، سیاسی عزت اور سیاسی کامیابی کہتے ہیں۔ سیاستدان اگر پی/ پی سی رول والا ہو۔ عقلمند ہو۔ تو وہ اپنے ورکروں کو اٹھاتا ہے۔ انکی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ اضافہ تب ہوتا ہے جب سیاستدان ورکروں کے جذبات، انکی قربانیوں ،انکی لگائی ہوئی صلاحیتوں اور لگے ٹائم کی قدردانی کریں۔ دنیا میں سادہ فارمولا طے ہے کہ قدر کے بدلے قدر۔ عزت کے بدلے عزت۔ اگر لیڈر اپنے ورکروں کی قدردانی نہ کرے۔ انکی قربانیوں کا احساس نہ کرے۔ انکے ساتھ چال و چالاکی کرے۔ تو یہ ورکروں کا نقصان نہیں یہ لیڈر کی کم عقلی ہے۔ اسکی Short-Sightedness ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سونے کی مرغی کے انڈے کا انتظار کرنے والے عقل مند ہیں اور جو سونے کی مرغی ذبح کرے اسکی قسمت میں وقتی کامیابی تو آسکتی ہے۔ لیکن وہ اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار نہیں رکھ سکتا۔ لہذا اپنے ورکروں کی قدر کی جائے اس سے پہلے کہ وہ اپنا پیار و محبت واپس لیں۔

تحریر: انتظار خان میرزاعلی خیلوی . ای میل intizarkhan_85@yahoo.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.