34

پی ٹی ایم کو غیر سیاسی رہنا ہوگا

حالیہ اسلام آباد دھرنے و پختون لانگ مارچ کی کامیابی کے بعد نقیب اللہ مسعود مرحوم کے لئے منعقدہ پختون دھرنے کے منتظمین نے پختون تحفظ موومنٹ کے نام پر ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے۔ جس کا جھنڈا بھی مختص کیا گیا ہے۔ منظور پشتین اور اورنگذیب خان جیسے نوجوانوں نے اسلام آباد دھرنے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا تھا جو حالصتا” غیر سیاسی اور بے لوث تھا۔ اس تحریک کو زبردست پزیرائی ملی۔عالمی میڈیا و مقامی میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر دھرنے کے منتظمین کو نمایاں کیا گیا۔ وزیر اعظم و آرمی چیف تک انکی رسائی و ملاقاتیں ہوئیں۔
اس قدر مقبولیت کے بعد اب تحریک کے کیش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کیش دو طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔
1۔ اگر اخلاص سے کام لینا ہو تو اس تحریک کو پختونوں کی بقا انکی ترقی و تحفظ کے لِئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ ایک بہترین طریقہ سے اس تحریک کو غیر سیاسی رکھ کر پختونوں کے مشترکہ و اجتماعی مقاصد کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے۔
2۔دوسری صورت یہ ہے کہ اس تحریک کو سیاسی بنا کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ اگر اس تحریک کو سیاسی بنایا جاتا ہے تو لکھ لو کہ یہ تحریک بہت کم زندگی جئے گی اور اپنی موت آپ مرے گی۔ تازہ و سادہ مثال دیتا ہوں 2010 میں پختونخوا کے نام پر ہزارہ میں بابا حیدر زمان نے ایک تحریک شروع کی۔ یہ تحریک بہت کامیاب تھی اور ہزارہ کے اقوام نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا اور بابا حیدر زمان کو قطعی طور پر امپاور کیا کہ وہ ہزارہ کے مشترکہ مفاد کے لئے بلا چون و چراں اسکا ساتھ سپاہیوں کی طرح دیں گے۔ لیکن بابا حیدر زمان جیسا سادہ آدمی اس مقبولیت و حمایت کو پال نہ سکا، سنبھال نہ سکا اور جھٹ پٹ اس تحریک کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ کروایا۔ 2013 کے عام الیکشن میں حصہ لیا اور ایسی شکست کھائی کہ تحریک خود بخود تحلیل ہو گئی۔
نوجوان منظور پشتین اینڈ کمپنی سے درخواست ہے کہ وہ بھی اس تحریک کو پولیٹیسائز نہ کرے۔ اسے غیر سیاسی رہنے دیں تو ہم سب کی امیدوں کا یہ چراغ جلتا رہے گا۔ اگر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تو دیوار پر لکھی تحریر یہی ہے کہ ناکامی و نامرادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں