74

پی ٹی ایم جلسہ: حقائق اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے لاہور میں جلسے سے خطاب میں ماورائے عدالت قتل اور گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے ‘ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن (یعنی حقائق اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کیا اور ساتھ ساتھ کراچی میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔

لاہور کے تاریخی موچی دروازے سے ملحق موچی باغ میں بڑی تعداد میں پی ٹی ایم کے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ ‘ہم ماورائے عدالت قتل، گمشدہ افراد اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ‘ٹرتھ اور ری کنسیلیئشن کمیشن’ (یعنی حقائق اور مفاہمت کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں اور آرمی پبلک سکول کے شہدا کے ورثا کو بھی اسی کمیشن سے انصاف دلوائیں گے۔’

اپنے مطالبات کی فہرست دہراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے کراچی میں ماورائے عدالت قتل میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کا تقاضہ کیا اور پولیس افسر راؤ انوار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

‘ہمارے مطالبے کو پورے پاکستان نے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا۔’

ماورائے عدالت قتل کے خاتمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں ہے کہ ‘جو کوئی غلطی کرے اسے عدالت میں پیش کرو، لیکن ہزاروں پشتونوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا’۔

اس کے علاوہ منظور پشتین نے جبری گمشدگی کے خلاف بھی اپنے احتجاج کا ذکر کیا۔

‘مختلف طریقوں سے لوگوں کو مارا گیا۔ ہم آپ کو گاؤں کا نام، اور تاریخ بتاتے ہیں آپ جا کر معلوم کر لیں کیا کیا ہوا ہے۔ ہم جھوٹے گندے لوگ نہیں ہیں جو بے بنیاد الزام لگائیں۔ ہم سچے لوگ ہیں اور ہمیشہ سچ بیان کریں گے۔’

اپنی تنظیم اور اپنے بارے میں کی جانے والی تنقید کو جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں اور ان کے والد، بھائی اور دوستوں کو بھی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

‘دو دو شہریتیں رکھنے والے ہماری شہریت پر شک کرتے ہیں۔ ہم لوگ بہت پر امن لوگ ہیں لیکن یہ مت بھولنا کہ ایک بار ظلم کے خلاف اٹھ گئے تو جان کی پروا نہیں کریں گے۔’

پاکستانی میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی ایم کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں بات کی۔

‘ہم پاکستان میڈیا کی عزت کرتے ہیں، احترام کرتے ہیں لیکن آپ لوگ بہت منافقت کرتے ہو۔ آپ ہمارے مخالفین کا ایک ایک لفظ دکھاتے ہو لیکن ہمارے موقف اور ہماری صفائی نہیں دکھاتے اور ہمارے جوابات کو جگہ نہیں ملتی۔’

اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بتاتے ہوئے منظور پشتین نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ماہ کی 12 تاریخ کو کراچی میں جلسہ کریں گے۔

‘ہم کراچی میں جلسہ کریں گے اور اس دن کریں گے جس دن مشرف نے لوگوں کا قتل کیا تھا۔‘

منظور پشتین کی آمد سے قبل جلسے میں موجود بی بی سی پشتو کے نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حنا جیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘تمام گمشدہ افراد کو سامنے لایا جائے۔’

گمشدہ افراد کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی آمینہ جنجوعہ نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس جلسے میں گمشدہ افراد کی حمایت میں شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے اپنے شوہر کی واپسی کے لیے جدو جہد کر رہی ہیں لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ بڑی تعداد میں سول سوسائٹی کے افراد بشمول خواتین نے جلسے میں شرکت کی۔

اس سے قبل پشتون تحفظ موومنٹ کے منتظمین نے الزام عائد کیا تھا کہ جلسے کے مقام پر لاہور انتظامیہ کی جانب سے گندا پانی گرا دیا گیا تھا جبکہ گذشتہ رات ان کے چند رہنماؤں کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا لیکن چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.