33

پی ٹی آئی کی گیارہ نکاتی منشور ادھورہ ہے: نگہت اورکزئی


دی بنوں – پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ خیبر پختونخوا کی صوبائی صدر نگہت اورکزئی نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کا دعویٰ کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کی گیارہ نکاتی منشور ادھورہ ہے ان نکات میں خواتین کی ترقی اورنہ فارن پالیسی ہے نہ کشمیر پالیسی بلکہ یہاں تک کہ دہشت گردوں کے خوف سے عمران خان نے اپنے منشور میں ان کی تدارک کیلئے کوئی منصوبہ بندی بتائی ہے.
مولانا سمیع الحق کی سینیٹ انتخابات میں حمایت سے سب کچھ ثابت ہوا ہے طالبان کے روحانی باپ کو سپورٹ کیا گیا پی ٹی آئی نے ان گیارہ بکات کو خیبر پختونخوا میں پانچ سالوں میں پیش نہیں کیا اور نہ ہی ان پر کام کیا اصلاحات کے نام پر تمام سرکاری ادارے تباہ کر دیئے گئے گیارہ نکات قوم کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جنوبی اضلاع کے دورہ کے موقع پر خواتین ونگ کی اجتماعات بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اُنہوں نے کہا کہ آج کل کی خواتین میں شعور بیدار ہو چکا ہے ان پڑھ ، پڑھی لکھی ،میڈکل کلاس ، پرائمری کلاس سب خواتین کا سیاست کرنا جانتی ہیں اور ان کا سیاست پر بہت گہرا نظر ہے اور وہ یہ جانتی کہ پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی واحد نمائندہ جماعت ہے وہ یہ جانتی ہیں کہ یہ جماعت بے نظیر بھٹو شہید کی جماعت ہے جنہوں نے قوم کی خاطر اپنا خون بہایا اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری شاہ زیہ طہماس ، صوبائی نائب صدر مہر سلطانہ ، قاضی مسرت ، ابشر جدون ، بنوں ڈویژن کی صدر فرزان ریاض ، نور جہان ، صوبائی کونسلر پی پی پی ملک زاہد وزیر ، سابق ضلعی صدر پی وا ئی او پرویزاحمد ، ڈویژنل صدر پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن نعیم اللہ خان بھی ان کے ہمراہ تھے نگہت اورکزئی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں 53فیصد خواتین ہیں اور ان کا انتخابات میں اہم رول ہے خواتین کو چاہیئے کہ وہ اپنے اوپر پی ٹی آئی جیسے حکمران مسلط نہ کریں پی ٹی آئی کے پانچ سال ہم نے دیکھیں کہ نئے خیبر ختونخوا کا دعویٰ کرتے کرتے پرانے خیبر پختونخوا کو بھی کھنڈرات بنایایکساں تعلیمی نظام سے پہلے صوبے میںتعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں ہیلتھ کا شعبہ بھی وینٹی لیٹر پر ہے ہسپتالوں کی حالت دگر گوں ہو چکی ہے صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر ملازمین کو بے روزگار کیا گیا اور تمام شعبوں کے ملازمین اپنے حق کیلئے سڑکوں پر احتجاج پر رہے، سی پیک کے حوالے سے مولا نا فضل رحمن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بنوں ڈویژن کے عوام ان کا احتساب کریں کیونکہ اُنہوں نے ہی پورے ڈویژن کو سی پیک جیسی اقتصادی راہداری سے محروم بنایا فضل رحمان 2002سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں اور کشمیر کمیٹی چیئرمین وفاقی وزیر کے برابر ہو تا ہے عوام ان سے یہ سوال ضرور کریں کہ ان پندرہ سالوں میں کشمیر کیلئے کونسی بات کی ہم نے اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوام کے تمام مسائل پانی ، صحت حتیٰ کے دہشت گردی ، طالب نائزیشن کے خلاف آواز بلند کی ہے اوروزیر اعلیٰ کو درخواستیں دی ہیں مگر سی ایم نے اپنی آنکھوں پر نا انصافی کی پٹی باندھ لی ہے اپوزیشن کو فنڈز نہیں دے رہے بلند و بانگ دعوے کرنے والے فیل ہو گئے اور آج بی آر ٹی منصوبے کے آفسران اسی ڈر سے مستعفی ہو رہے کہ کل نیب کے شکنجے میں نہ آ جائیں انشاء اللہ پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.