79

پی ٹی آئی کے بعد پیپلزپارٹی بھی تقسیم

دی بنوں: پی ٹی آئی کے بعد پیپلزپارٹی بھی تقسیم ،پاکستان پیپلز پارٹی این اے35ضمنی الیکشن کی امیدوارسیدہ یاسمین صفدر اور کارکنوں نے این اے35بنوں پر جے یو آئی کے ساتھ ڈویژنل صدر شیراعظم وزیر اور سابقہ صدر حاجی ظفر علی خان اسمعیل خانی کے اتحاد کے فیصلے کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا پیپلز پارٹی کا ہنگامی اجلاس پیپلز سیکرٹریٹ بنوں میں منعقد ہوا جسمیں مختلف ونگز کے کارکنوں اور عہدیداروں نے شرکت کی اجلاس سے خاب کرتے ہوئے این اے35ضمنی الیکشن کی ٹکٹ ہولڈر سیدہ یاسمین صفدر اور سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری صفدر نے کہا کہ پیپلز پاٹی کے ڈویژنل صدر اورخیبر پختونخوا سمبلی کے پارلیمانی لیڈر شیراعظم وزیر اور سابقہ صدر حاجی ظفر علی خان اسمعیل خان بمع منور ذاد خان اور شاہ زیب نے پارٹی کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا 25جولائی کے عام انتخابات میں بھی یاسمین صفدر پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہی تھی اس وقت بھی شیراعظم نے جے یو آئی اور اکرم خان درانی سے غیر اعلانیہ اتحاد کیا تھا اور کسی سٹیج پر بھی این اے کی سیٹ پر پیپلز پارٹی این اے26کی امیدوار سیدہ یاسمین صفدر کیلئے ووٹ نہیں مانگا بلکہ ذاتی مفادات کیلئے کھلم کھلا اکرم خان درانی کیلئے مہم چلائی جبکہ بلدیاتی انتخابات میں بھی تحصیل نظامت کی سیٹ جیتنے کیلئے 49میں سے 48سیٹیں جے یو آئی کو دیں اب ضمنی الیکشن میں بھی ذاتی مفادات کیلئے ٹکٹ ہولڈر امیدوار یاسمین صفدر کو اعتماد میں لئے بغیر جے یو آئی کے ساتھ سودا کیا ہے لیکن ہمیں ٹکٹ مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر نے دیا ہے اور صوبائی جنرل سیکرٹری فیصل کریم کنڈی نے بار برا ہمیں ہدایت کی ہے کہ آپ کو ٹکٹ ملا ہے آپ الیکشن لڑیں شیراعظم وزیر کو صاف صاف کہدیا ہے کہ اگر وہ جے یو آئی کیلئے جلسہ منعقد کرتا ہے یا جے یو آئی کیلئے مہم چلاتے ہیں تو اسکے وہ خود ذمہ دار ہوں گے انہوں نے کہا کہ ہم پارٹی قائدین کے حکم کے پابند ہیں شیراعظم وزیر ذاتی مفاد کیلئے ہم پر سودے بازی نہ کریں اگر پارٹی کے مرکزی قائدین ہمیں الیکشن سے دستبردار ہونے کا حکم دیں گے تو ہم مرکزی قائدین کا فیصلہ تسلیم کریں گے بصورت دیگر شیراعظم وزیر کے فیصلے کو نہیں مانتے انہوں نے کہا کہ بنوں میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی کمی نہیں لیکن پارٹی میں میرصادق اور میر جعفر کا کردار ادا کرنے والے مقامی قائدین کی وجہ سے پارٹی تباہی کے دہانے پر پہنچی ہے شیراعظم وزیر بھی 2013میں آزاد حثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑچکے ہیں اور4ہزار ووت لئے ہیں جبکہ یاسمین صفدر نے25جولائی کے الیکشن میں چند ہفتے کے مختصر مہم پر بغیر کسی وسائل اور ضلعی وڈویژنل قائدین کی حمایت کے بغیر10ہزار ووٹ لئے ہیں ہمیں شیراعظم وزیر کی حمایت کی ضرورت نہیں لیکن ان کو این اے کی سیٹ پر سودے بازی کی بھی اجازت نہیں دیں گے اجلاس سے برزگ رہنما خان ماما،بخت نیاز ایڈوکیٹ،ڈاکٹر گلزار،یوسف خان،نفیس خان،بسم اللہ جان،ہارون،سہیل،اسحاق،امجد،یعقوب خان ودیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہم نظریاتی ورکرز ہیں ہم سرکی خیل ہاؤس کے فیصلے کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے اب بنوں کے فیصلے بنوں میں ہوں گے ۔اور اس مرتبہ انشاء اللہ یاسمین صفدر کو 25جولائی سے زیادہ ووٹ پڑیں گے۔اور ہم سیدہ یاسمین صفدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ خاتون ہوتے ہوئے بھی انہوں نے بھی مخالفین کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑا اور پارٹی کا علم بلند رکھا۔جبکہ بعض مقامی عہدیدار اپنے گھروں پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا لگانے کی جرائت بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.