43

پنجاب کے ایک گاؤں میں ایڈزکے 150 مریض

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے ایک گاؤں کوٹ عمرانہ سے ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے جن کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ گذشتہ ماہ اس گاؤں سے 2700 سے زائد نمونے حاصل کیے گئے تھے۔

اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ان میں سو سے زائد افراد میں ایچ آئی وی اور ایڈز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس طرح جنوری سے اب تک سرگودھا کے اس ایک گاؤں سے سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔

مقامی محکمہ صحت کے حکام کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں جیسے نتائج آتے رہیں گے ویسے ہی یہ تعداد مزید بڑھے گی۔

سرگودھا کے مقامی محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سو سے زائد مریضوں کو سرگودھا میں کوٹ مومن میں قائم کردہ سپیشل سینٹر میں رجسٹر کیا جا چکا ہے۔

یہ خصوصی سینٹر گذشتہ ماہ لیے گئے نمونوں کے ابتدائی نتائج آنے کے بعد قائم کیا گیا تھ، جب 35 کیس سامنے آئے تھے۔

یہاں ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں کو رجسٹر کرنے کے بعد مفت علاج معالجہ فراہم کیا جاتا ہے۔ کوٹ عمرانہ یہاں سے محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایچ آئی وی کی ادویات نہ صرف یہ کہ بازار سے مہیا نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو انتہائی مہنگی بھی ہیں اس لیے ان کو ماہانہ کورس کی بنیاد پر علاج کے ساتھ یہ ادویات سرکاری طور پر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

’اطائیوں سے ٹیکے لگوائے‘
ان کا کہنا تھا کہ اب تک رجسٹر ہونے والے زیادہ تر مریضوں میں ایچ آئی وی وائرس کی منتقلی کے وجہ اطائی ڈاکٹر نظر آتا ہے۔

’تقریباً 90 فیصد سے زیادہ مریضوں نے یہی بتایا ہے کہ انھوں نہ اطائیوں سے ٹیکے لگوائے ہیں۔‘

ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی دیگر بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے سپیشل میڈیسن یونٹ سرگودھا شہر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سنہ 2008 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں بھی مختلف علاقوں سے آنے والے ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض پہلے سے رجسٹر ہیں۔

سپیشل میڈیسن یونٹ کے انچارج ڈاکٹر سکندر حیات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ درست ہے کہ اطائی ایچ آئی وی اور ایڈز کے وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب ہو سکتے ہیں۔

’ضلع سرگودھا میں اس وقت تقریباً آٹھ ہزار کے قریب اطائی موجود ہیں۔ ہر گاؤں میں تقریباً 5 سے 6 ایسے جعلی ڈاکٹر موجود ہیں اور یہ لوگ زیادہ تر لوگوں کو استعمال شدہ سرنج سے ٹیکے لگاتے ہیں جو ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب میں اطائیوں کے خلاف آپریشن کرنا یا ان کا خاتمہ کرنا پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا کام ہے جو ڈاکٹروں کو منظم کرنے کے علاوہ اسی مقصد کے لیے سنہ 2010 میں قائم کیا گیا تھا۔

’اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ایک ہی گاؤں سے اتنے زیادہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض سامنے آنا اور ان میں وائرس کے پھیلاؤ کا سبب اطائی ہونا تشویش ناک ہے۔‘

ان کا کہنا تھا وہ خود اور ضلع سرگودھا کے دیگر ڈاکٹر اس ماہ کی 28 تاریخ کو ہیلتھ کمیشن کی اس مبینہ نااہلی کے خلاف احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’اگر اتنے عرصے میں کام کیا ہوتا تو ہمیں ہزاروں لوگوں میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روک سکتے تھے۔‘

تاہم پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ضلع سرگودھا کے ریجنل منیجر عامر سلیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کے ان کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر مختلف دیہاتوں میں اطائیوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔

’میرے خیال میں روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 25 ایسے اطائیوں کے دواخانے بند یا سیل کیے جا رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اطائیوں کا مسئلہ اتنا بڑا بھی نہیں ہے جتنا اس کو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ کمیشن 2010 میں قائم ہوا تھا تاہم اس نے باقاعدہ کام کرنا اور اطائیوں کے خلاف آپریشن کا آغاز 2014 میں کیا تھا۔

’ہمیں گذشتہ 8 برس کا طعنہ تو دیا جاتا ہے مگر اس سے پہلے جو 60 برس تک مسائل اکٹھے ہوتے رہے اس کو نہیں دیکھا جاتا۔

اتنے بڑے پیمانے پر ان کو ختم کرنے میں وقت تو لگتا ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیمیں اطائیوں کے خلاف متحرک ہیں۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق صوبہ بھر میں 6369 اطائیوں کے دفاتر یا دواخانے سیل کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.