85

پسٹل گولی والی انگوٹھی پہنے والی لیلی خالد

ہاتھ کی انگلی میں پسٹل کی گولی والی انگوٹھی پہنے والی لیلی خالد تاریخ کی پہلی فلسطینی خاتون ہائی جیکر ہیں ۔۔
لیلی خالد نےاسرائیلی ائر لائن کا جہاز ہائی جیک کیا۔ لیلی کو جب معلوم ہوا کہ امریکہ میں اسرائیل کا سفیر اسحاق رابن روم سے تل ابیب جانے والی ٹرانس ورلڈ ائیرلائنز کی فلائٹ 840 میں سفر کرے گا ۔۔

تب لیلی خالد اپنے فلسطینی ساتھی کے ساتھ روم پہنچ کر اس پرواز کی مسافر بنی اور یہ جہاز اغوا کر کے دمشق لے گئی جب انہیں یہ علم ہوا کہ جہاز میں اسحاق رابن جہاز میں موجود نہیں تو انہوں نے تمام مسافروں کو جہاز سے اتار دیا اور جہاز کا اگلا حصہ بم دھماکے سے تباہ کر دیا ۔۔
لیلی خالد کو دمشق ائر پورٹ پر گرفتار کیا گیا ۔ جنہیں شام کے صدر نور الدین کے حکم پر رہائی ملی اس واقعہ سے لیلی خالد نے وہ شہرت پائی جو چے گویرا کو نصیب ہوئی ۔لیلی خالد حریت پسند تنظیم پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کی ممبر تھی ۔۔
گرفتاری کے بعد لیلی خالد نے اپنے چہرے کے پلاسٹک سرجری کروائی اور اگلی ہائی جیکنگ کے لیے تیاری کی لیلی خالدایمسٹرڈم کے ائیرپورٹ پر اسرائیلی ائیرلائنز کے جہاز میں سوار ہونے کے لیے پہنچی۔۔ انہیں اسرائیلی افسران نے روکا ۔۔
اور نہایت باریک بینی سے ان کے بیگوں کی تلاشی لی ۔۔لیکن انہیں کچھ نہ ملا۔۔
لیلی خالد اپنی بہترین حکمت عملی سے ایک گرنیڈ جہاز میں لے جانے میں کامیاب رہی ۔۔
لیلی نے بغیر کسی مسافر کو نقصان پہنچاۓ جہاز لندن کے ہیتھرو آئیر پورٹ پر اتروا لیا ۔۔
28 دن کی جدو جہد میں اسرائیل سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے ساتھ اپنے وطن فلسطین پہنچ گئیں ۔۔
فلسطین مائیں جب حمل سے ہوتی ہیں ۔۔
تب وہ اپنی کوکھ میں لیلی خالد جیسی بہادر بیٹیاں مانگتی ہیں ۔۔
لیلی خالد آج بھی حیات ہیں اور فلسطین کو اپنا عشق مانتے ہوۓ ۔۔
اسرائیلی مزاحمت کے سامنے ڈٹ کے کھڑی ہےاور ہزاروں لیلائیں تیار کر رہی ہیں جو ارض مقدس کی حفاظت کے لیے فلسطینی بیٹے پیدا کر رہی ہیں ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.