42

پسماندہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی ترجیحات میں شامل ہے، پرویز خٹک

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پسماندہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی اور وہاں کے تمام علاقوں میں بڑے شہروں کی طرز پر میونسپل سہولیات کی فراہمی بھی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوںنے کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن کے چھ پسماندہ ترین اضلاع چترال، دیر لوئر، دیر اپر، ہری پور، ملاکنڈ اور شانگلہ میں یورپی یونین کے تعاون سے چار سال پہلے کمیونٹی ڈریون لوکل ڈویلپمنٹ (سی ڈی ایل ڈی) پروگرام شروع کیا گیاجس کا مقصدان اضلاع کے تمام شہری اور دیہی علاقوں میں سڑکوں و دیگر انفراسٹرکچر کی ترقی ، میونسپل خدمات کی فراہمی اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا تھا جو کامیاب رہااسلئے اب پہلے مرحلے کے کامیاب تکمیل کے بعد اس پروگرام کو صوبے کے مزید 6 اضلاع تک وسیع کیا جارہاہے جن میں کوہستان، بٹگرام ،ہری پور، تورغر، بونیر اور نوشہرہ شامل ہیںتاکہ یہ علاقے بھی ترقی کریں اور لوگوں کی پسماندگی دور ہو۔
وہ پی سی ہوٹل پشاور میں سی ڈی ایل ڈی پروگرا م کے توسیعی مرحلے کے آغاز کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔تقریب سے یورپی یونین کے سفیر جین فرنکوین کرٹین، سی ڈی ایل ڈی کے ٹیم لیڈر بریان فوسٹ، سینئر وزیر بلدیات ، عنایت الله خان، سیکرٹری منصوبہ بندی وترقیات ظاہر شاہ خان اور دوسروں نے بھی خطاب کیا اور صوبائی حکومت کی عوام دوست اصلاحات اور پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے صوبائی حکومت کے متعارف کردہ بلدیاتی نظام کو نہ صرف پاکستان بلکہ دُنیا کا بہترین اور تاریخ ساز بلدیاتی نظام قرار دیا۔تقریب میں سیکرٹری بلدیات ، مختلف ممالک سے یورپی یونین کے نمائندوں، متعلقہ 12 اضلاع کے ضلع ناظمین ، ڈپٹی کمشنروں اور ضلعی افسران و بلدیاتی نمائندوں کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے لوگوں اور زعماء نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
یورپی یونین نے سی ڈی ایل ڈی کے پہلے مرحلے کیلئے تقریباً7 ارب 68 کروڑ روپے جبکہ صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے 4 ارب 70 کروڑ روپے مہیا کئے تھے ۔دوسرے مرحلے کیلئے یورپی یونین نے تقریباً4 ارب12 کروڑ روپے جبکہ صوبائی حکومت نے تقریباً6 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 1457 ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے اور چھ اضلاع کے مجموعی 37 لاکھ لوگ مستفید ہوئے جبکہ دوسرے مرحلے کی بدولت صوبے کے منتخب چھ اضلاع میں بھی ترقی کی رفتار تیز ہو گی ۔
پرویز خٹک نے کہاکہ سی ڈی ایل ڈی صوبائی حکومت کی اپنی اصلاحاتی پالیسی کاتسلسل ہے جس نے مقامی کمیونٹی کو منصوبوں کی تشکیل اور عمل درآمد کے سلسلے میں بااختیار بنایا ہے۔ اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں یورپی یونین مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت بھی ا س کیلئے وسائل فراہم کر رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ چھ مزید پسماندہ اضلاع کی شمولیت سے تقریباًآدھے صوبے تک اس دائرہ کار کو بڑھایا گیا ہے ۔
اس کامیابی کیلئے صوبائی، ضلعی اور بلدیات کے حکام تعریف کے مستحق ہیں۔ ان کے فعال کردارنے ہی اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوںنے اس موقع پر صوبائی حکومت کی اصلاحات کا ذکر بھی کیا جو مقامی حکومتوں کی بہتری ، کمیونٹی کو با اختیار بنانے اور صوبے کے پائیدار ترقی کیلئے اُٹھائے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں سی ڈی ایل ڈی بنیادی پروگرام ہے جو مقامی آبادی کو اپنے ترقیاتی ترجیحات کے تعین اور مسائل کے حل کیلئے اقدامات اُٹھانے کے قابل بنا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ اس پروگرام کے توسیعی مرحلے کی منصوبہ بندی میںبراہ راست شامل رہے۔اُنہیں خوشی ہے کہ روزگار اور ویلج کونسلرز کے فرائض کو بھی توسیعی پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ صوبائی حکومت نے سی ڈی ایل ڈی پروگرام کیلئے مالی وسائل کی فراہمی سالانہ بجٹ میں یقینی بنادی ہے۔انہوںنے اس موقع پر ضلعی حکام، متعلقہ محکموں اور محکمہ بلدیات کے حکام کو پروگرام کامیاب بنانے کیلئے مل جل کر کام کرنے کی ہدایت کی۔
انہوںنے کہاکہ یہ بات بڑی حوصلہ افزاء ہے کہ مقامی تنظیموں کے نمائندے اس پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ یہی بات دراصل حکومت اور شہریوں کو قریب لانے کیلئے ہماری حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔پرویز خٹک نے کہاکہ سی ڈی ایل ڈی کے پہلے مرحلے کی کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ اس پروگرام نے صوبے کی ترقیاتی حکمت عملی تبدیل کردی ہے کیونکہ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں ہزاروں منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے جن سے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے۔
اسی طرح ترقیاتی منصوبہ بندی میں مقامی آبادی کے کردار کے بارے میں تکنیکی تربیت اور عملی تجربے سے سرکاری عملے کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سی ڈی ایل ڈی کے توسیعی مرحلہ میں صوبے کے دوسرے پسماندہ حصوں میں بھی مقامی آبادی کو ترقی کے نئے مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ سی ڈی ایل ڈی کی پالیسی کو عام کرنا حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
اس کے لئے ہم یورپی یونین کے کردار اور صوبے میں سی ڈی ایل ڈی کے طریق کار کے توسیع میں معاونت قابل تعریف ہے۔انہوںنے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت توسیعی پروگرام کیلئے درکار وسائل اپنے سالانہ بجٹ سے مہیا کرے گی ۔انہوںنے کہاکہ جس طرح ہم نے مل جل کر اس پروگرام پر عمل درآمد میں کامیابی حاصل کی ہے اسی طرح اجتماعی کوششوں سے ہم مزید کامیابیاں حاصل کریں گے ۔انہوںنے مزید یقین دلایا کہ صوبائی حکومت تیز اور پائیدار ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ ٹھوس اقدامات اُٹھانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیںرکھے گی ۔بعدازاں وزیراعلیٰ نے سی ڈی ایل ڈی کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے سلسلے میں فعال کردار پر مختلف ناظمین ، ضلعی افسران اور یورپی یونین کے نمائندوں میں شیلڈ تقسیم کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.