51

پرستار جن کے دم سے کرکٹ کے میدانوں میں رونقیں ہیں

صوفی عبدالجلیل ( چاچا کرکٹ )
اسے اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کا جذبہ کہیں یا خود کو دوسروں سے منفرد رکھنے کی ایک ادا، کرکٹ کے میدانوں میں چند چہرے ایسے بھی ہیں جو اتنے ہی مقبول ہیں جتنے کہ خود کرکٹ کے کھلاڑی۔

ان ’خاص‘ پرستاروں سے کھیل کے مداح اسیِ طرح ملتے ہیں جیسے مشہور و معروف کرکٹرز سے جبکہ ان کے ساتھ تصویریں اور سیلفیاں بنانے کی بے تابی بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کرکٹرز کے ساتھ تصویریں بنانے کی۔

ورلڈ کپ ہو اور یہ خاص پرستار اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے مختلف روپ دھارے انگلینڈ میں نہ ہوں ایسا ممکن نہیں ہے۔

صوفی عبدالجلیل ( چاچا کرکٹ )
پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے صوفی عبدالجیل کو دنیا چاچا کرکٹ کے نام سے جانتی ہے۔

اگرچہ انہوں نے پہلی بار اسٹیڈیم میں پہنچ کر پرجوش نعرے اس وقت لگائے تھے جب سنہ 1968 میں انگلینڈ کی ٹیم کالن کاؤڈرے کی قیادت میں لاہور میں ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔

البتہ صوفی عبدالجلیل کو صحیح معنوں میں شہرت شارجہ کے کرکٹ میدانوں میں ملی جب وہ سنہ1997 میں وہاں کھیلے گئے چار قومی ٹورنامنٹس میں پہلی بار سبز لباس پہن کراسٹینڈ میں نظر آئے۔ ان کے نعروں اور جملے بازی نے سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔

صوفی عبدالجلیل نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نعروں اور فقرے بازی میں تبدیلی کی ہے۔ کسی زمانے میں جب وہ گراؤنڈ میں داخل ہوتے تھے تو ان کے ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے ہاتھ میں مالٹے کی تھیلی ہوا کرتی تھی اور وہ زوردار آواز لگاتے تھے جدھر دیکھو پاکستان ہی پاکستان ہے۔ لیکن بعد میں وہ اپنے مخصوص لہجے میں آواز لگانے لگے ’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔ پاکستان زندہ باد‘۔

سدھیر کمار گوتم (سچن)
بھارتی کرکٹ کا جانا پہچانا چہرہ جو اپنے اصل نام سدھیر کمار گوتم کے بجائے سچن کے نام سے مشہور ہے۔

ان کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ اپنے جسم پر بھارتی پرچم کے رنگ پینٹ کرتے ہیں جس پر تندولکر اور ان کا شرٹ نمبر دس لکھا ہوتا تھا جس میں انھوں نے اب یہ اضافہ کر دیا ہے ’مس یو تندولکر‘۔

سدھیر کمار گوتم سچن تندولکر کے دیوانے ہیں اور اسی دیوانگی میں انھوں نے اپنے شہر بہار سے سائیکل پر تین ہفتے کا سفر طے کر کے ممبئی ٹیسٹ میں سچن تندولکر سے ملاقات کی ٹھانی تھی۔ آج اس بات کو پندرہ برس بیت چکے ہیں اور سدھیر کمار بھارتی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر گراؤنڈ میں موجود ہوتے ہیں۔

سچن تندولکر اگرچہ ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن آج بھی وہ سدھیر کمار کے غیر ملکی دوروں کے سلسلے میں مالی مدد کرتے رہتے ہیں۔

سدھیر کمار گوتم کی زندگی کا نہ بھلا دینے والا واقعہ ورلڈ کپ کا فائنل تھا جس میں بھارت نے سری لنکا کو شکست دی تھی اور فائنل کے بعد سچن تندولکر نے ظہیر خان کو بھیج کر خاص طور پر سدھیر کمار کو ڈریسنگ روم میں بلوایا تھا اور ورلڈ کپ ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے تصویریں بنوائی تھیں۔

سدھیر کمار گوتم سنہ 2006 میں سائیکل پر پاکستان آئے تھے۔ واہگہ کی سرحد پر ان کی سائیکل روک لی گئی تھی بعد میں اجازت ملی تو سدھیر کمار پاکستان میں سائیکل پر خوب گھومے پھرے تھے اور پاکستانیوں کی مہمان نوازی کو وہ اب تک نہیں بھولے ہیں۔

شعیب علی (بنگال ٹائیگر)
شعیب علی بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے زبردست مداح ہیں لیکن وہ اپنے اصل نام کے بجائے بنگال ٹائیگر کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

شعیب علی کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے ورلڈ کپ میں آنا چاہتے تھے لیکن انھیں ویزا نہیں مل سکا۔

ڈھاکہ میں رہنے والے شعیب علی کار مکینک ہیں لیکن چاچا کرکٹ اور سدھیر کمار کو دیکھ کر کرکٹ کا شوق ایسا بڑھا کہ گاڑیوں کی ڈینٹنگ پینٹنگ چھوڑ کر اپنے جسم پر ہی پینٹنگ شروع کر دی۔

وہ اپنے جسم پر بنگلہ دیشی پرچم کے ساتھ ٹائیگر کی دھاریاں پینٹ کرتے ہیں اور میدان میں شیر کی طرح دھاڑتے بھی ہیں۔

ابتدا میں انہوں نے یہ سب کچھ اپنے گھر والوں سے چھپ کر کیا انھیں پتہ ہی نہ چلا کہ گراؤنڈ میں بنگال ٹائیگر کا روپ دھارنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا بیٹا ہے۔

شعیب علی نے کرکٹ کے شوق میں ایک بار بغیر پاسپورٹ بھارت کی سرحد بھی پار کر ڈالی جس کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔

گیان سینا نائیکے
گیان سینا نائیکے سری لنکا کی ٹیم کے سپر فین ہیں۔ وہ سنہ 1998 سے اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے میدانوں کا رخ کر رہے ہیں اس دوران سری لنکا کے تمام ہی کرکٹرز سینا نائیکے سے ملتے رہے ہیں نہ صرف یہ بلکہ دوسرے ملکوں کے کرکٹرز بھی سینا نائیکے کی بہت عزت کرتے ہیں۔

سینا نائیکے کی زندگی کا سب سے یادگار واقعہ بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی کی شادی کی دعوت میں انھیں خصوصی طور پر مدعو کیا جانا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.