38

پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ سے واخان کا پرخطر تجارتی سفر

دی بنوں: افغانستان میں برف پوش پہاڑوں پر مشتمل دور افتادہ واخان راہداری کو زمانہ قدیم سے تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ شاہراہ ریشم کا بھی حصہ رہی ہے۔سطح سمندر سے 16 ہزار 3 سو فٹ کی بلندی پر واقع واخان راہداری پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ سے متصل ہے اور یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے علاوہ چین اور تاجکستان سے بھی منسلک ہے۔نزہ کے تاجر صدیوں سے قراقرم پہاڑی سلسلے پر ارشاد پاس جیسے راستوں سے گزرتے ہوئے واخان کے مقامی قبائلیوں کے ساتھ تجارت کرتے ہی اس مشکل راستے پر تاجر مال بردار جانوروں کے ذریعے نقل و حرکت کرتے ہیں۔ تجارتی قافلے میں شامل فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار کو تاجر افضل بیگ نے بتایا کہ اس راستے پر کبھی بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور یہ کسی بھی وقت آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے
واخان کے علاقے میں واخائی قبیلہ آباد ہے اور تاجروں سے یاک اور مال مویشیوں کے بدلے میں تجارتی سامان خریدتا ہے
اس دشوار گزار پرخطر راستے پر سفر کے دوران تاجروں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور طوفان کی صورتحال میں حد نگاہ چند فٹ تک ہی رہ جاتی ہے اور تاجروں کو آگے چلنے والے گھوڑوں کی آوازوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے
تاجر اسلم بیگ نے بتایا کہ تجارتی راستے میں آنے والے غاروں میں تاجروں کی باقیات ملتی ہیں جو سفر کے دوران موسم کی سختیوں کی وجہ سے مارے گئے اور ان کے اپنے چھ ساتھی برفانی تودوں کی زد میں آ کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسلم بیگ کے مطابق ان کے چھ ساتھیوں کی لاشیں ایک برس گزرنے کے بعد بھی نہیں ملی ہیں
اسلم بیگ کے مطابق وخان کے مقامی افراد کے پاس پیسے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس زیادہ مالی وسائل ہوتے ہیں۔ ہنزہ کے تاجر واخان کی جانب سفر کے دوران آرام کر رہے ہیں
ماہر بشریات عزیز علی داد کے مطابق یہ راہداری افغانستان کو چین، پاکستان، تاجکستان سے جوڑتی ہے اور زمانہ قدیم میں ان ملکوں کی سرحدوں پر آباد قبائل اس راہداری کو ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال کرتے تھے
انھوں نے بتایا کہ افغانستان میں سویت یونین کی مداخلت کے بعد تجارتی رشتے ٹوٹ گئے لیکن ہنزہ اور واخان کے درمیان تعلق برقرار رہا اور اس کی وجہ ارشاد پاس جیسے چند قدیم راستے ہیں جن پر لوگ سفر کرنے کی جرات کرتے ہیں
ماہر بشریات عزیز علی داد کے مطابق دونوں جانب کے لوگوں کی ثقافت اور زبان مشترکہ ہے اور دونوں جانب رشتہ داریاں بھی ہیں
تاجر اسلم بیگ کے مطابق یہاں تین گرم ٹوپیوں کو ایک بھیڑ، دس کلوگرام چائے ایک یاک کے بدلے اور پانچ کلوگرام آٹا کی قیمت ایک یاک ہے
واخان میں سب سے قیمتی چیز یاک کے دودھ سے حاصل کردہ مکھن ہے
مکھن کے ایک پیکٹ اور چار بھیڑوں کے بدلے میں بٹن، گھڑیاں، جرابوں کے چھ جوڑے اور چند اونی ٹوپیاں خرید سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دو یاک ادھار پر دیے گئے ہیں اور اس کے بدلے میں خاندان کا ایک فرد رواں برس ہنزہ جائے گا اور وہاں سے آٹا اور چاول خرید کر لائے گا۔ اسلم بیگ کے مطابق یہ اعتماد کا یہ رشتہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ تجارت کی تاریخ ہےواخان کی سرحد چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملتی ہے اور اسی وجہ سے چین ان دنوں افغانستان سے یہاں ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ شدت پسندوں کو اس راستے کے ذریعے سنکیانگ میں مداخلت سے روکا جا سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.