23

پاکستان کے دریا خشک کیوں ہو رہے ہیں؟

پاکستان میں صوبوں کے مابین پانی تقسیم کرنے والے ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی یعنی ارسا کا کہنا ہے کہ سردیوں میں برف باری اور بارشیں کم ہونے کی وجہ سے خریف میں پانی کے ذخائر 40 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں۔

ارسا کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے سبب خدشہ ہے کہ منگلا ڈیم بھی پوری طرح بھر نہیں پائے گا۔

اسلام آباد میں ارسا کی تکنیکی کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جس میں چاروں صوبوں کے نمائندے موجود تھے۔

اجلاس میں ممبران نے بتایا کہ خریف میں فصلوں اور دریاں میں پانی کا بہاؤ کم رہے گا اور خریف سیزن کے آغاز میں دریاؤں میں 17 ملین ایکڑ فٹ کم پانی آئے گا۔

دریاؤں کے بہاؤ میں کمی
اس مرتبہ موسمِ سرما میں پہاڑوں پر برف باری کم ہوئی ہے اور بارشیں بھی معمول سے کم ہوئی ہیں۔ بارشوں اور برف باری کم ہونے کے سبب دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول سے کم ہو گا۔

ارسا کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 95 ملین ایکٹر فٹ رہنے کا امکان ہے جبکہ اوسطً اس موسم میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 112 ملین ایکڑ فٹ تک ہوتا ہے۔

گذشتہ سال دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 107 ملین ایکڑ فٹ تک ہوتا تھا۔

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے سبب پاکستان میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں 15 سے 20 فیصد کمی آئی ہے۔

منگلا ڈیم بھر نہیں سکے گا
ارسا کے حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں سب سے زیادہ کمی دریائے جہلم میں ہو گی اور دریائے جہلم میں پانی کی آمد نو ملین ایکڑ فٹ رہنے کی توقع ہے۔

دریائے جہلم پر بننے والے منگلا ڈیم میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد 6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اگر منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کیا گیا تو فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی دستیاب نہیں ہو گا۔

ارسا کے مطابق اُن کی سب سے پہلے ترجیح فصلوں کی کاشت کے لیے پانی چھوڑنا ہے اور اگر پانی کے آمد کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ اپنی انتہائی حد سے نیچے ہی رہے گا۔

ارسا کے حکام نے بتایا کہ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30 دن کی ہے۔ دنیا بھر میں دستیاب پانی کا 40 فیصد ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان دستیاب پانی کا محض 10 فیصد ذخیرہ کرتا ہے۔

پانی ذخیرہ کرنے کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سالانہ 29 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینکتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اوسطاً یہ شرح 8.6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

اربوں روپے مالیت کا پانی سمندر کی نذر
پاکستان میں آبی ذخائر نہ بننے کی وجہ سے سالانہ 21 ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔

اس سے قبل ارسا نے سینیٹ کے پالیسی فورم کے اجلاس میں بتایا تھا کہ ہر سال ضائع ہونے والے اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے منگلا ڈیم جتنے تین بڑے ڈیم درکار ہیں۔

پاکستان میں پانی ذخیرے کرنے کے لیے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا میں بھی مٹی بھرنے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.