27

پاکستان کی سمندری حدود کہاں تک؟

بحریہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سمندری زون میں انڈین آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا گیا اور اسے پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

بین الاقوامی سمندری حدود کیا ہے؟

اس بارے میں پاکستان بحریہ کے سابق ایڈمرل افتخار راؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی سمندری حدود کو مختلف زونز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

اس ملک کے ساحلی پٹی پر ایک بیس لائن ( Baseline) بنائی جاتی ہے۔ اس بیس لائن سے 12 ناٹیکل مائل سمندر کی جانب تک ‘ٹیریٹوریل واٹر’ ( Territorial Waters) یعنی دفاعی سمندری حد ہوتی ہے۔ یہ بلکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے زمینی سرحد اور یہ پہلی سمندری حد ہوتی ہے۔

دوسری سمندری حد میں ان 12 ناٹیکل مائل کے بعد مزید 12 ناٹیکل مائل کا علاقہ ‘کنٹی گیوس زون’ ( Contiguous Zone) یعنی متصل علاقے کا پانی کہلاتا ہے جو مجوعی طور پر 24 ناٹیکل مائل بنتا ہے۔ اس میں اس ملک کےکسٹمز اور تجارت کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تیسری حد (Special Economic Zone) ‘خصوصی اقتصادی زون’ کہلاتی ہے اور یہ حد اس ملک کی بیس لائن سے 200 ناٹیکل مائل آگے تک ہوتی ہے۔ اس حد میں صرف وہی ملک کوئی اقتصادی سرگرمیاں کر سکتا ہے جیسا کہ سمندر میں معدنیات کی تلاش کا کام، ماہی گیری وغیرہ۔

اس سے بھی مزید آ گے پھر’ایکسٹینشن آف کانینٹل شیلف’ ( Extension of Continental Shelf) کی حدود شروع ہوتی ہے۔ اس میں بھی اقوام متحدہ کے تحت اس ملک کو کچھ سمندری حقوق حاصل ہوتے ہیں۔

پاکسان کے سمندری پانی کی حدود کیا ہے؟

پاکستان کی سمندری حدود کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاک بحریہ کے سابق ایڈمرل افتخار راؤ نے بتایا دیگر ممالک کی طرح پاکستان کی سمندری حدود کا تعین بھی اسی طرح کیا گیا ہے۔

ہماری ساحلی پٹی سے متصل بین الاقوامی طور پر ظاہر کی گئی بیس لائن سے 12 ناٹیکل مائل تک ‘ٹیریٹوریل واٹر’ یعنی دفاعی سمندری حد ہے۔

اسی طرح بتدریج 24 ناٹیکل مائل تک ‘کنٹی گیوس زون’، 200 ناٹیکل مائل تک ‘خصوصی اقتصادی زون’ اور ‘ایکٹینشن آف کانینٹل شیلوز’ تک پاکستان کی سمندری حدود ہے۔ پاکستان نے ‘ایکسٹینشن آف کانینٹل شیلوز’ کے لیے اقوام متحدہ کو درخواست دی تھی جو منظور ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی مشترکہ پانی یا حدود کیا ہے؟
کہ کسی بھی ملک کے ‘ٹیریٹوریل واٹر’ یعنی دفاعی سمندری حدود اور ‘کنٹی گیوس زون’ میں کسی اور ملک کے جنگی جہاز یا آبدوز کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم غیر ممالک کے تجارتی بحری جہازوں کو اس پانی سے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی۔

ایڈمرل راؤ کا کہنا تھا کہ سمندر تو بہت بڑا ہے لہذا خصوصی اقتصادی زون یعنی 200 ناٹیکل میل سے آگے موجود سمندری پانی کو ‘کومن ہیرٹیج آف مین کائنڈ’ ( Common Heritage of Mankind) یعنی انسانیت کا مشترکہ اثاثہ قرار دیا گیا ہے۔ وہ سمندر تمام ممالک کے لیے مشترکہ ہے اس پانی میں کسی بھی ملک کے کوئی بھی جہاز جا سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ‘خصوصی اقتصادی زون کے سمندری پانی میں کوئی دوسرا ملک کوئی اقتصادی سرگرمی نہیں کر سکتا البتہ اس پانی سے کسی بھی دوسرے ملک کے تجارتی اور جنگی بحری جہاز گزر سکتے ہیں۔ البتہ آبدوز کو زیر سمندر گزرنے کی اجازت نہیں اگر اس کو گزرنا ہے تو اس کو پانی کے سطح پر رہتے ہوئے گزرنا ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ اس کو ’انوسنٹ پیسیج‘ (Innocent Passage) یعنی معصومانہ راہداری کہا جاتا ہے۔ جو کہ اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق ہے۔

امن یا کشیدگی: دشمن کے جنگی جہاز کو روکنے کا طریقہ کار کیا؟
اس بارے میں سابق ایڈمرل افتخار راؤ کا کہنا تھا کہ اگر ہم انڈین آبدوز کے پاکستانی سمندری حدود میں داخلے کی مبینہ کوشش کے واقعہ پر بات کریں تو یہ آبدوز پاکستان کی دفاعی سمندری حدود میں نہیں تھی۔

لیکن ہماری خصوصی اقتصادی زون کی سمندری حدود کے اندر تھی لہذا جیسا کہ آجکل کشیدگی کے دن ہیں تو ہم اگر اس آبدوز کا سراغ لگانے کے بعد نشانہ بناتے، تو ہم پر کوئی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہ ہوتی۔ کیونکہ ایک آبدوز کا نہ صرف سراغ لگانا بلکہ اس پر نظر رکھنا بھی مشکل ہے۔

اس بارے میں پاکستان بحریہ کے سباق ایڈمرل احمد تسنیم کا کہنا کہ اس پر طریقہ کار ملکی حالات اور حکومت پالیسی پر بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں جنگی بحری جہاز اور آبدوز میں فرق ہے کیونکہ بحری جنگی جہاز سمندری سطح پر دکھائی دیتا ہے اور اس کو امن کے دنوں میں وارننگ دی جاتی ہے۔ مگر آبدوز کا مقصد جاسوسی کرنا ہے خفیہ معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے اس کے لیے طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ کبھی اس کا پیچھا کیا جاتا ہے اور کبھی اس کو وارننگ جاری کی جاتی ہے۔

سابق ایڈمرل افتخار راؤ کہنا تھا کہ پاکستان بحریہ نے انڈین آبدوز کا نہ صرف سراغ لگایا بلکہ اس ہر نظر رکھ کر اس کو پانی کی سطح کے قریب آنے پر مجبور کیا اور انڈیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم جنگی جنون میں شدت کے خواہش مند نہیں ہیں۔ اور اسی لیے پاکستان بحریہ نے ان کو واپس ان کے پانیوں میں دھکیل دیا۔

انڈین آبدوز کا پاکستان کی سمندری حدود میں کہاں سراغ لگایا گیا اس پر پاکستان بحریہ کی جانب سے تو کوئی سرکاری بیان نہیں دیا گیا لیکن سابق ایڈمرل افتخار راؤ اور ایڈمرل احمد تسنیم متفق ہے کہ انڈین آبدوز کو پاکستان کی خصوصی اقتصادی زون کی سمندری حدود میں تقریباً 100 ناٹیکل مائل پر پکڑا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈین آبدوز کی جانب سے پاکستانی حدود میں داخلے کی مبینہ کوشش کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان اور انڈیا کے مابین سرحدی کشیدگی عروج پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.