105

پاکستان میں ماحول دوست پینگولین کی 70 فیصد سے زائد آبادی معدوم

سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی رائے کے مطابق پاکستان کے جنگلی حیات میں سب سے زیادہ پینگولین کی غیر قانونی خرید و فروخت کی گئی ہے۔ محتاط رائے کے مطابق پینگولین کی 70 سے 80 فیصد آبادی ختم ہوچکی ہے۔ اس صورتحال میں اگر اس کے بچاؤ کے خصوصی انتظامات نہ کیے گے تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ پاکستان میں سے پینگلولین مکمل طور پر معدوم ہی نہ ہو جائے۔

حسن علی صوبہ پنجاب محکمہ وائلڈ لائف کے اعلیٰ اہلکار ہیں۔ جنھوں نے پینگولین کے حوالے سے نیپال میں خصوصی تربیت بھی حاصل کررکھی ہے اور آج کل وہ لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا پینگولین تقریبا پورے ملک میں پایا جاتا ہے مگر اس کی بڑی آماجگاہیں چکوال، پوٹھوار ریجن، پنجاب کے علاقوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، صوبہ خیبر پختون خوا، بلوچستان، سندھ، اور گلگت بلستان میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ چند سال قبل تک پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں پینگولین کا کھلے عام شکار اور خرید و فروخت کی گئی تھی۔ اس غیر قانونی خرید و فروخت کا سب سے زیادہ شکار علاقے چکوال اور کشمیر تھے۔ اب تو کسی حد تک معاملہ قابو میں ہے مگر اس کی خرید و فروخت میں منظم مافیا ملوث ہے جو جدید طریقوں سے ممکنہ طو رپر اب بھی غیر قانونی کاروبار کررہے ہوں گے جبکہ محکمے کے پاس اتنے وسائل اور تجربہ موجود نہیں کہ اس پر مکمل طور پر قابو سکے۔‘

’ایک اندازے کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے محکمہ دس میں سے ایک غیر قانونی شکار اور خرید و فروخت کو روک پایا ہے۔‘

بی بی سی نے پینگولین کے غیر قانونی شکار کے حوالے سے چاروں صوبوں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان محکمہ وائلف لائف سے رابطے قائم کرکے ریکارڈ پر پینگولین کی خرید و فروخت کا ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ماسوائے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کسی نے بھی ایسے کوئی اعداد وشمار مہیا نہیں کیے۔

محکمے کے ذرائع کے مطابق پینگولین کی خرید و فروخت پر کئی چالان اور مقدے درج ہوئے ہیں مگر ان کا ریکارڈ تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کشمیر کے مطابق مجموعی طو رپر 32 کیسز پکڑے گئے ہیں جس میں 3,40,000 روپیہ جرمانے وصول کیے گئے ہیں۔

تاہم ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان کے واجد علی کے مطابق سال 2011 اور 2012 میں پوٹھوار رینج میں پینگولین کی نسل کشی کا عرصہ رہا تھا۔ اس دوران صرف ضلع چکوال سے 60 پینگولین کا غیر فطرتی طور پر ہلاک کیا جانا ریکارڈ پر ہیں۔ سال 2011 سے لے کر 2014 تک محتاط اندازے کے مطابق دس ہزار پینگولین کی سمگلنگ کی گئی تھی۔

واجد علی کے مطابق ان کے ایک سروے کے دوران چکوال ضلع میں 30 سال سے زائد عمر کے کچھ لوگوں نے پینگولئین کو دیکھا ہوا تھا اس سے کم عمر لوگوں نے کبھی بھی پینگولین نہیں دیکھا تھا جس کا واضح مطلب ہے کہ علاقے سے پینگولین کا تقریبا صفایا ہوچکا ہے۔

محمد سکندر کشمیر کے ضلع بھمبیر کے رہائشی ہیں۔ وہ محکمہ وائلڈ لائف میں واچر کی حیثیت سے طویل خدمات انجام دینے کے بعد گذشتہ دنوں ہی ریٹائر ہوئے ہیں۔ انھیں جنگلی حیایت کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کئی آپریشن کرنے پر کئی ایوارڈ دیے گے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کیا جاتا ہے۔

محمد سکندر کے مطابق سال 2011 سے پہلے پینگولین کی سمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے بارے میں کبھی بھی نہیں سنا تھا۔ اس وقت یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اس شریف سے جانور کی بھی کوئی سمگلنگ ہوتی ہے۔

جب اس کی سمگلنگ کا آغاز ہوا تو شروع کا عرصہ تو سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ کیا ہورہا ہے۔ پورے علاقے میں باتیں کی جاتی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ پینگولین پکڑ لو اس کی قیمت چالیس ہزار تک مل رہی ہے مگر مجھے بعد میں پتا چلا کہ یہ اسی ہزار روپیہ تک بھی فروخت ہوتا رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال پر محکمے نے بھی نوٹس لیا اور ہمیں اس کے غیر قانونی کاروبار کوروکنے کا حکم ملا جس کے بعد کئی آپریشن کیے گے۔ اس آپریشن کے دوران میں نے پولیس کی مدد سے ایک ملزم کو رنگے ہاتھوں بھی پکڑا تھا جو کہ رہنے والا تو جہلم کا تھا مگر ہمارے علاقے میں مچھلی کی ریڑھی لگاتا تھا جس کی آڑ میں وہ پینگولین کے غیر قانونی شکار اور خرید و فروخت کا دھندہ کرتا تھا۔

’میں اس کے پاس کاہگ بن کر گیا اور کہا کہ مجھے تیار پینگولین چاہیے ہے تو وہ مجھے لے کر اپنے ٹھکانے پر چلا گیا۔جہاں پر اس نے بڑی بڑی کڑاہیاں رکھی ہوئی تھیں جن میں پانی موجود تھا اس نے پانی کے نیچے آگ جلا کر اس کو انتہائی تیز گرم کیا۔ اس کے پاس تین، چار بوریاں رکھی ہوئی تھیں جن میں اس نے زندہ پینگلولئین بند کررکھے تھے۔ ایک بوری کو اٹھایا اور زندہ پینگولئیں کو کڑاہی میں ڈال دیا۔‘

’جب پینگولئین کو کھولتے ہوئے پانی میں ڈال گیا تو اس نے تکلیف سے ایک نا قابل بیان چیخ ماری اور اس کی لمبی زبان باہر نکل آئی۔‘

محمد سکندر کا کہنا تھا کہ موقع پر ہم نے اس کو پولیس کی مدد سے گرفتار کرلیا تھا اور اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پینگلولئین کی خرید و فروخت میں جہاں مقامی لوگ ملوث ہیں وہاں پر خانہ بدوشوں نے اس کام میں خصوصی مہارت حاصل کی تھی، زیادہ تر خانہ بندوش ہی اس کام میں ملوث ہیں۔

محمد سکندر کے مطابق اس کو پکڑنے کے کئی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پینگولین جہاں زمین میں اپنا ٹھکانہ بل بناتا ہے وہ دور سے نظر آجاتا ہے۔ یہ لوگ اس کے بل میں گرمی پیدا کرنے والی گولیاں پھینک دیتے ہیں، جب وہ گھبرا کر باہر نکلتا ہے اس کے بڑے بڑے ناخن باہر بچھے جال میں پھس جاتے ہیں۔ اسی طرح اس کے بل کی کھدائی بھی کی جاتی ہے اور انہیں پکڑنے کے لیے شکاری کتے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

پینگولین کا استعمال
محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے اعلیٰ اہلکار حسن علی، محکمہ وائلڈ لائف کشمیر کے سابق اہلکار محمد سکندر اور ڈبیلو ڈبیلو ایف کے واجد علی کے مطابق پینگولین کا چین میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ویت نام اور دیگر ممالک کے علاوہ پاکستان میں بھی اس کا استعمال موجود ہے۔

پینگولین سے نکلنے والے اسکیل یا سپیے کے علاوہ دیگر اعضا کو چین کی مقامی ادوایات میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں اس کو عورتوں، بچوں کے امراض کے علاوہ جنسی امراض کی ادوایات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چین اور ویت نام میں اس کا گوشت مرغوب غذا ہے۔ اس کو جنگلی گوشت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں اس کے گوشت کی قیمت اس وقت دو سو امریکی ڈالر فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس گوشت سے تیار کردہ ڈشیں تو بہت زیادہ مہنگی ہیں۔

ان کے مطابق اس کی کھال کو چین میں مختلف قسم کے مہنگے ملبوسات کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جو پوری دنیا میں شوق سے استعمال ہوتے ہیں۔

محمد سکندر کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقے میں یہ بات بھی مشہور ہوئی تھی کہ اس کی کھال کو بلٹ پروف جیکٹ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم حسن علی اور واجد علی کے مطابق اس بات کے ابھی تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان سے پینگولین چین ہی سمگل ہوتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے اندر بھی اس کو مقامی طریقہ علاج میں جنسی امراض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کا اسکیل یا سپی مال ومویشیوں وغیرہ کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کو ان کے گلے میں ڈالنے کا رواج پاکستان کے مختلف دیہاتوں میں کافی مقبول ہے۔

ماحولیات پر پڑنے والے اثرات
ماہرین کے مطابق پاکستان میں پینگولین کو دیہاتی علاقوں میں زیادہ تر سلا کے نام سے پہنچانا جاتا ہے۔ یہ دودھ دینے والا جانور ہے۔ اس کی خوراک زمین پر رینگنے والے کیڑے اور دیمک ہے۔

محکمہ ماحولیات صوبہ خیبر پختوں خوا کے سابق اسٹنٹ ڈائریکٹر نعمان رشید کے مطابق پینگولین ہماری زمین، کھیتوں، فصلوں، باغات، درختوں، جنگلات، عمارتوں وغیرہ کا قدرتی رکھولا ہے۔ یہ اپنے روز مرہ کے رویہ کے باعث زمین پر رینگے والے مختلف کیڑوں اور دیمک کو ایک مخصوص تعداد سے بڑھنے نہیں دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی تعداد بڑھنے سے مختلف شکایات سامنے آرہی ہیں جس میں فصلوں، باغات کا خراب ہونا، عمارتوں کا دیمک سے متاثر ہونا یہاں تک کے ہمارے مال مویشیوں کے لیے جو چارہ استعمال ہوتا ہے اس میں بھی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

واجد علی کے مطابق انھوں نے چکوال کے علاقے میں سروے کے دوران پتا چلا کہ جن علاقوں میں پینگولین کی آماجگاہیں تھیں وہاں اس کے خاتمے یا نایاب ہونے کی وجہ سے اب مکانوں میں دیمک کا مسئلہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے جبکہ مختلف قسم کی فصلوں اور باغات کو بھی نقصاں پہنچ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.