33

پاکستان میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ کیا ہے؟

پاکستان میں منگل کو انٹر بینک تجارت میں ڈالر کی قدر بڑھ کر 115.50 روپے تک پہنچ گئی جس کے بعد کرنسی کا کاروبار کرنے والوں اور ماہرین نے اس شک کا اظہار کیا کہ اس کی وجہ بین الاقوامی فنانشل اداروں سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے گئے وعدے ہیں۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ مارکیٹ میں اس کی بڑھتی ہوئی طلب ہے لیکن سٹیک ہولڈرز نے اس وجہ کو زیادہ قابل قبول نہیں سمجھا۔

واضح رہے کہ جولائی 2017 میں ڈالر کی قیمت 106 روپے تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس بات کی جانب اشارہ کرتا رہا ہے کہ ڈالر کی موجودہ قیمت اس کی قدر کی صحیح عکاسی نہیں کرتی اور اس کے مطابق اسے 120 سے 125 روپے تک لے جانا ہوگا۔

‘میرا خیال ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔’

ظفر پراچہ نے حکومتی اہلکاروں کو اس پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ غیر ملکی دوروں میں بین الاقوامی اداروں سے وعدے کر کے آجاتے ہیں لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہوتی کہ وہ عوام کو سچ بتا سکیں۔

‘قدر میں پانچ فیصد اضافے کا نتیجہ مہنگائی کے طوفان کی صورت میں آئے گا۔’ ظفر پراچہ نے مزید کہا کہ اس کا اثر مختلف جگہ پر نظر آئے گا۔

’ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اثر عام عوام پر آسکتا ہے، خاص طور پر جب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو اور یہ اضافہ مہنگائی ساتھ لے کر آئے گا‘
دوسری جانب ماہر اقتصادیات صفیہ آفتاب نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں واضح طور پر درج تھا کہ پاکستان کے ذرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہت کمی آ گئی ہے جس سے انھیں قرضوں کی ادائیگی میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا: ‘میرا خیال ہے کہ ڈالر کی قیمت میں یہ اضافہ سٹیٹ بینک کی جانب سے کیا گیا ہے جیسا انھوں نے دسمبر میں کیا تھا۔’

صفیہ آفتاب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔

‘ڈالر کی قدر میں اضافے کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ شاید درآمدات کچھ کم ہو جائیں اور برآمدات میں اضافہ ہو لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔’

صفیہ آفتاب نے کہا کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اثر عام عوام پر آسکتا ہے، خاص طور پر جب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو اور یہ اضافہ مہنگائی ساتھ لے کر آئے گا۔

ادھر ظفر پراچہ نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم درآمدات پر انحصار کرتے ہیں اور حکومت کو ایسا کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے سٹیک ہولڈرز سے بات کرنی چاہیے کیونکہ اس سے سب متاثر ہوتے ہیں۔

‘ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے ملک سے سرمایہ چلا جاتا ہے اور سرمایہ دار یہاں آنا نہیں چاہتے اور یہ ہر طرح سے نقصان دہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.