33

پاکستان مثبت رویہ جاری رکھے!

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں تنازع کشمیر اور دیگر معاملات پر صراحت کی کہ پاکستان کو دوطرفہ مذاکرات پر کوئی اعتراض ہے نہ کسی تیسرے فریق کی معاونت پر لیکن اس سمت میں پیش رفت نہ ہونے کا سبب بھارت کا منفی رویہ ہے، وہ خطے میں صورتحال کو مسلسل بگاڑنے کے اقدامات کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے جس طرزِ عمل کی بات کی ہے وہ ایسی حقیقت ہے جسے پوری دنیا بچشم سر دیکھ رہی ہے لہٰذا بین الاقوامی برادری کو اب خود فیصلہ کرنا چاہئے کہ کس کی ہٹ دھرمی علاقائی اور عالمی امن کی تباہی کے خطرات کو ہوا دے رہی ہے اور اسے روکنے کے لئے اسے اپنا کردار کس طور ادا کرنا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور او آئی سی، سب کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے آج بھی مؤثر ہونے پر متفق ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سکریٹریٹ نے اپنے ایک اعلامیہ میں غیر مبہم الفاظ میں تنازع کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کرتے ہوئے ان کے مطابق کارروائی کے لئے باہمی مذاکرات پر زور دیا ہے، یورپی یونین اور امریکی کانگریس میں بھی درپیش صورتحال پر غور کیا جانے والا ہے؛ تاہم مسئلے کے حل کے لئے ناگزیر ہے کہ دنیا اس
حقیقت کا ادراک کرے کہ اصل رکاوٹ بھارت کا منفی رویہ ہے جبکہ پاکستان ہمیشہ کھلے دل سے بات چیت کے لئے تیار رہا اور آج بھی ہے۔ داخلی پالیسیوں اور اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ میں دونوں ملکوں کی اکثریت اور حکمرانوں کے رویوں میں جو فرق پایا جاتا ہے عالمی برادری کو اسے بھی محسوس کرنا چاہئے۔ بھارت کو دنیا میں بالعموم ایک کشادہ دل سیکولر جمہوریہ سمجھا جاتا ہے جہاں عقیدے، رنگ، نسل اور زبان کے اختلافات کے باوجود تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور اقلیتیں پوری طرح محفوظ ہیں۔ یہ گمان اگرچہ ماضی میں بھی درست نہ تھا، اقلیتیں کم و بیش ہر دور میں بھارت میں بدترین امتیازی برتاؤ کا نشانہ بنتی رہی ہیں تاہم یہ کارروائیاں کسی قدر ڈھکے چھپے طریقوں سے ہوا کرتی تھیں لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور شیو سینا کے نظریات کے علمبردار نریندر مودی کے دور میں تو ایسی ساری احتیاطیں مکمل طور پر بالائے طاق رکھ دی گئی ہیں اور ہندو اکثریت کی بالادستی اور باقی سب کے حقوق کی کھلی پامالی کو برملا حکومتی پالیسیوں کا ہدف بنا لیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی 72سالہ تاریخ اس سے بالکل مختلف ہے۔ بھارت کی طرح حکومتی پالیسی سازوں اور ریاستی اداروں کی سرپرستی میں یہاں غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف کبھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور وقتی جذباتی اشتعال کے نتیجے میں عوامی سطح پر گنتی کے جو چند واقعات ہوئے ان میں ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی اور انہیں قانون کی گرفت میں لاکر کیفر کردار تک پہنچانے کی تمام ممکنہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے فرق کا ایک نہایت بھرپور اور خوشگوار مظاہرہ گزشتہ روز ہی عمر کوٹ میں ہندو برادری کے جلسے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر حکومتی شخصیات کی شرکت کی شکل میں ہوا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے بھارت اور پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے برتاؤ کے فرق کو بڑی فصاحت کے ساتھ ان الفاظ میں واضح کیا ’’عید کے روز کشمیر کے مسلمانوں پر عیدگاہ کے دروازے بند کر دیئے گئے، جمعہ کو مسجدوں کو تالے لگائے گئے، مودی تم سرینگر میں مسلمانوں کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے لیکن میں عمرکوٹ میں اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوں، پاکستان میں آج بھی مندر آباد ہیں، ہندوؤں کو مکمل مساوی حقوق حاصل ہیں، پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتی برادریوں کو ہر طرح کی آزادی ہے‘‘۔ تنازع کشمیر کے حل اور جنوبی ایشیا میں استحکام کے ذریعے عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے دنیا کو بھارت کے منفی اور پاکستان کے مثبت رویے کا احساس کرنا اور اپنے اقدامات میں اس حقیقت کو ملحوظ رکھنا ہوگا، اس کے بغیر بہتری کی راہوں کی تلاش ممکن نہیں۔

روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.