33

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: ’یہ سورج انگلینڈ میں ہی ڈوب تو نہ جائے گا‘

محمد عامر ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی سکواڈ کا حصہ نہیں تاہم یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ان کا کارکردگی کی بنیاد پر اس بارے میں حتمی فیصلہ ہو گا
بسا اوقات کچھ ضمنی مباحث ایسے ہوتے ہیں کہ وسیع تر بیانیے سے بھلے براہِ راست جڑے ہوئے نہ ہوں، مگر دل پذیری کچھ ایسی ہوتی ہے کہ وسیع تر بیانیے سے کہیں زیادہ توجہ سمیٹ لیتے ہیں۔

ورلڈ کپ کے سکواڈ کا اعلان ہوا تو سارے کے سارے پاکستان کے دیدے پھٹے رہ گئے، ہائیں یہ کیسے ہو گیا کہ پاکستان نے محمد عامر کے بغیر ورلڈ کپ کھیلنے کا سوچ بھی لیا۔

یعنی وہ محمد عامر جس کی خاطر پانچ سال دعائیں مانگی گئیں، جس کی خاطر شبِ انتظار آنکھوں میں ہی کٹ گئی، جس کی واپسی کا اس قدر انتظار تھا کہ پچھلے ورلڈ کپ سے پہلے بھی پی سی بی ایڑیاں رگڑتا رہ گیا کہ کاش آئی سی سی تھوڑی سی نرمی کر دے اور شاید وہ واپس آ جائے۔

گو محمد عامر کی واپسی ضرور ہوئی مگر جب ہوئی، تب تک وہ ٹین ایج والا جذبہ ہوا ہو چکا تھا۔ لائن و لینتھ پہ گرفت کمزور پڑ چکی تھی۔ توقعات کا بوجھ بڑھ چکا تھا۔ اور اسی بوجھ تلے ماضی کا سپر سٹار اپنے مستقبل کی راکھ کرید رہا تھا۔

بہت مباحث ہوئے۔ کچھ نے کہا کہ وہ توانائی باقی نہیں رہی جو 2010 کے لارڈز سے پہلے تھی۔ تو کچھ نے کہا کہ اس کی بولنگ پہ کیچ بہت ڈراپ ہوتے ہیں۔ مگر وہیں کچھ یہ دلیل بھی لے آئے کہ بھئی کیچ تو وسیم اکرم کی بولنگ پہ بھی بہت ڈراپ ہوتے تھے۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کیچز بھی ڈراپ ہونا بند ہو گئے مگر وکٹیں پھر بھی مل کے نہ دیں۔

اسی دوران وہ ایونٹ آیا کہ جس نے محمد عامر کے بے رنگ کرئیر میں روشنی بھر دی۔ سارے خدشات دم توڑ گئے۔ سارے ناقدین اور سبھی دلائل جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ وسیم اکرم تک نے کہہ ڈالا کہ انھیں اپنی جوانی کے دن یاد آ گئے۔

چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان نے اپنے تئیں تو ایک پہاڑ سا ہدف کھڑا کیا تھا لیکن انڈیا کی بیٹنگ لائن کے لیے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ بڑی بات تھی تو صرف یہ کہ نئے گیند کے ساتھ محمد عامر ایسی تباہی مچا ڈالیں گے جو کسی کے گمان میں بھی نہ ہو گی۔ اور تو اور وراٹ کوہلی بھی کرئیر میں پہلی بار مسلسل دو گیندوں پہ دو بار آؤٹ ہو گئے۔

طویل، صبر آزما انتظار کے بعد یہاں محمد عامر کو سکھ کا سانس ملا۔ تنقیدی مباحث سمٹ گئے۔ سبھی کو لگا کہ اب شاید وہ محمد عامر واپس آ گیا ہے جس کے لئے سالہا سال دعائیں کی گئی تھیں۔

مگر چیمپئینز ٹرافی کے فائنل کے بعد پھر وہی قصہ خود کو دہرانے لگا۔

نوبت بہ ایں جا رسید کہ اس چیمپئینز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے اب تک ون ڈے کرکٹ میں محمد عامر صرف پانچ وکٹیں حاصل کر پائے ہیں۔ اور یہی امر بنیاد ہے ورلڈ کپ سکواڈ سے ان کی بے دخلی کا۔

لیکن ایک دریچہ بہر حال کھلا ہے اس سیریز کی صورت میں، جہاں اگر محمد عامر کھیل پاتے ہیں تو ورلڈ کپ سکواڈ میں ان کی واپسی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

گو کہ اس سیریز میں اور بھی بہت کچھ داؤ پہ لگا ہو گا مگر پھر وہی بات کہ بعض مباحث دلکش ہی اتنے ہوتے ہیں کہ وسیع تر بیانیے پہ غالب آ جاتے ہیں۔

سو دیکھنا یہ ہے کہ 2010 میں انگلینڈ ہی میں طلوع ہونے والا ’ستارہ‘ کیا پھر سے دمک پائے گا یا وہیں کسی گمنامی کی گرد میں ڈوب جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.