86

پاکستانی ماہرین کا کارنامہ: ایسا پلاسٹک تیار کر لیا جسے کھایا بھی جا سکتا ہے

کبھی آپ نے اپنے اردگرد نظر دوڑا کر دیکھا ہے؟ یہ موبائل فون جس پر آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہیں۔ رات کا کھانا جس پلیٹ میں کھایا ہے یا وہ شاپنگ بیگ جس میں آپ مہینے بھر کا سودا سلف بازار سے لے کر آتے ہیں۔ یا وہ کھلونے جن سے آپ کے بچے کھیلتے ہیں۔ کوئی چیز بھی تو ایسی نہیں جس میں پلاسٹک استعمال نہ ہوا ہو۔

لیکن یہی پلاسٹک جب استعمال کے بعد تلف کیا جاتا ہے تو اپنی مخصوص ساخت کی وجہ سے ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں سال تک ماحول میں موجود رہ کر اُسے آلودہ کرتا ہے۔

اب ایک پاکستانی نے اِس مسئلے کا حل نکالا ہے اور ایسا پلاسٹک تیار کیا ہے جو نہ صرف بائیو ڈیگریڈیبل ہے بلکہ اُسے کھایا بھی جا سکتا ہے۔

ماحول دوست پلاسٹک
اِس منفرد پلاسٹک کی تیاری کا خیال کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انجم نواب کو آیا۔ ڈاکٹر انجم نے بی بی سی کو بتایا کہ بائیو ڈیگریڈیبل اور ایڈیبل (جسے کھایا بھی جا سکے) کی اصطلاح آج کل ایک ہی معنی میں استعمال ہوتی ہے۔

’آسان الفاظ میں اگر کوئی چیز بائیو ڈیگریڈیبل ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد جب اُس کو پھینک دیا جائے گا تو فضا میں موجود جراثیم اُسے ختم کر دیں گے۔‘

ڈاکٹر انجم نواب نے بتایا کہ اگر جراثیم کسی چیز کو ختم کر سکتے ہیں تو پھر اِسے انسانوں کے کھانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

’یہ پلاسٹک کیونکہ قدرتی اجناس سے کشید کیے جانے والے اجزا سے تیار کیا گیا ہے لہذا اِسے کھایا بھی جا سکتا ہے۔ ایسے پلاسٹک کو نیم گرم پانی میں گھول کر بھی تلف کیا جا سکتا ہے۔‘

ماحول دوست پلاسٹک کے برعکس پیٹروکیمیکلز کے ذریعے تیار کیے جانے والے پلاسٹک کو فضا میں موجود جراثیم ختم نہیں کر سکتے اور اس سے تیار کی جانے والی اشیا سیکنڑوں سال تک ماحول میں موجود رہتی ہیں اور آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔

ماحول دشمن پلاسٹک
ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تین سو ملین ٹن پلاسٹک کا اضافہ ہو رہا ہے جس میں سے پچاس فیصد صرف ایک بار استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر وقار احمد بتاتے ہیں کہ کراچی جو دنیا کے چند بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، روزانہ پندرہ ہزار ٹن کچرا پیدا کرتا ہے جس میں سے پچاس فیصد سے زائد پلاسٹک ہوتا ہے۔

ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق یہ پلاسٹک بوتلوں، شاپنگ بیگز اور سٹائروفوم سے بنی اشیا کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کچرے میں سے کچھ تو لینڈ فلز میں ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے جبکہ بقیہ ندی نالوں کے ذریعے سمندر میں پہنچ کر مچھلیوں کی خوراک بن جاتا ہے اور پھر فوڈ چین کا حصہ بن کر انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک کے استعمال سے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر وقار احمد کہتے ہیں کہ کوڑے کرکٹ کو تلف کرنے کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث اکثر لوگ کچرے کو جلا دیتے ہیں۔ اِس سے زہریلی گیسیں دھوئیں کی صورت میں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں اور ماحول کو آلودہ کرتی ہیں۔

’اِس کے علاوہ پولیتھین بیگز کی وجہ سے سیوریج کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں جبکہ پلاسٹک کی تھیلے اکثر برساتی نالوں اور پانی کی گزرگاہوں کو بلاک کر دیتے ہیں۔‘

آموں کا موسم
جامعہ کراچی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انجم نواب کا پی ایچ ڈی کا مقالہ کھانے پینے کی اشیا کی پیکجنگ کے لیے قدرتی اجناس کے فضلے سے تیار کیے جانے والے پلاسٹک کی تیاری پر تھا۔

’اُس زمانے میں آموں کا سیزن چل رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ آم کی گٹھلی سے بائیو ڈیگریڈیبل اور ایڈیبل پلاسٹک تیار کرنے کا تجربہ کیا جائے۔‘

پاکستان میں آم کافی مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور پراسیسنگ پلانٹس سے نکلنے والا فضلہ جانوروں کی خوراک کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔’

ڈاکٹر انجم نواب بتاتی ہیں کہ پلاسٹک کی تیاری میں آم کی گٹھلی کھول کر اُس میں سے بیج نکالا جاتا ہے اور پھر اُس بیج سے سٹارچ یا نشاستہ کشید کیا جاتا ہے۔ اِس کے بعد اُس سٹارچ میں مختلف اجزا شامل کر کے پلاسٹک کی شکل دے دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر انجم کا دعویٰ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایڈیبل بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک تیار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن جامعہ کراچی میں تیار کیا جانے والا پلاسٹک اس لیے مختلف ہے کہ یہ آم کی گٹھلی سے تیار کیا جا رہا ہے۔

ماحول دوست پلاسٹک کا استعمال
ماہرین کا خیال ہے کہ ایڈیبل بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر انجم نواب کہتی ہیں کہ اِس پلاسٹک کے شاپنگ بیگز تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا میں استعمال ہونے والی رواتی پیکجنگ کو اِس پلاسٹک سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

‘ہم نے مصالحاجات کی موجودہ المونیم کی پیکنگ کو ماحول دوست پلاسٹک سے تبدیل کر کے دیکھا تو اُن کی شیلف لائف میں قابلِ ذکر اضافہ ہو گیا۔’

ڈاکٹر انجم نواب کا دعوی ہے کہ اُن کے کام کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔

‘میں نے ملکی اور غیرملکی کانفرنسوں اور سیمیناز میں اِس ریسرچ پر مقالے پیش کیے ہیں۔ اِس کے علاوہ میرے مقالات عالمی معیار کے ریسرچ جریدوں انٹرنیشنل جرنل آف بائیولوجیکل میکرو مالیکیولز، سٹارچ اور جرنل آف فوڈ پراسیسنگ اینڈ پریزرویشن میں شائع ہو چکے ہیں۔

صنعتی شعبے کی دلچسپی
ڈاکٹر انجم نواب بتاتی ہیں کہ اُن کی تحقیق فی الحال تجرباتی سطح پر ہے۔

‘ہم اِس منصوبے کو آزمائشی سطح پر چلانے کے لیے فیزیبلٹی بنا رہے ہیں۔ اِس کے بعد اِس پلاسٹک کو بڑے پیمانے پر تیار کر کے عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ صنعتی شعبے نے بھی اِس منصوبے کے لیے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس وقت ہمارے پاس کئی پیشکشیں موجود ہیں۔’

ڈاکٹر انجم کا کہنا ہے کہ ایڈیبل بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کی لاگت ابتدا میں کچھ زیادہ ہو گی۔

‘کیونکہ ماحول دوست پلاسٹک کی تیاری میں آم کا فضلہ استعمال کیا گیا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی لہذا اُمید ہے کہ ہم اِس پلاسٹک کی لاگت کافی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اِس طرح ایڈیبل بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کی قیمت عام پلاسٹک کے برابر ہو جائے گی۔’

پلاسٹک بیگز پر پابندی
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پلاسٹک بیگز کی وجہ سے ہونے والی آلودگی کے باعث حکومت کی جانب سے پابندی کا اطلاق کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے 14 اگست 2019 کے بعد اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں پلاسٹک کے تھیلے بنانے، بیچنے اور خریدنے والوں پر پانچ ہزار سے پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

مارچ 2019 میں خیبرپختونخوا میں بھی پلاسٹک بیگز پر پابندی لگا دی گئی جبکہ مئی 2019 میں حکومتِ بلوچستان نے شاپنگ بیگز کی خرید و فروخت روک دی۔

حکومتِ سندھ نے بھی اس سال اکتوبر سے صوبے بھر میں پولیتھین بیگز کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پولیتھین کے بجائے بائیو ڈیگریڈیبل یا کاغذ کے بنے تھیلے استعمال کریں۔

پلاسٹک کا مکمل خاتمہ
ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں لیکن اگر اِس کے استعمال کو کم بھی کر لیا جائے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

‘حکومت اور عوام دونوں کو چاہیے کہ پلاسٹک کے استعمال کو کم کر کے دیگر ذرائع پر انحصار کریں۔ مثلاً کپڑے کے تھیلوں اور شیشے کی بوتلوں کا استعمال روایتی پلاسٹک کی جگہ لے سکتا ہے۔’

ڈاکٹر انجم نواب دعوی کرتی ہیں کہ ایڈیبل بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک مرّوجہ پلاسٹک کا انتہائی موزوں متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اِس پلاسٹک کے استعمال سے نا صرف گلی کوچوں میں بکھرے کچرے میں کمی ہوگی بلکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.