139

پاکستانی لڑکیوں کو چین کیسے سمگل کیا جاتا تھا؟

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں خصوصاً صوبہ پنجاب میں ایسے چینی باشندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے جن پر پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے نام پر چین لے جا کر ان سے جسم فروشی کروانے کے الزامات ہیں۔

فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی یعنی ایف آئی اے کے مطابق لاہور، فیصل آباد اور دیگر علاقوں سے ایسے منظم گروہوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں دس سے زائد چینی باشندے شامل ہیں۔

اس حوالے سے بڑی کارروائی لاہور میں عمل میں آئی جہاں حال ہی میں ایف آئی اے نے ایک خاتون سمیت آٹھ چینی باشندوں اور ان کے چار پاکستانی سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔

ایف آئی اے پنجاب کے فیصل آباد ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد میؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد ‘ایک منظم گروہ کا حصہ تھے۔ یہ پاکستانی لڑکیوں کو بہتر مستقبل کا جھانسہ دے کر ان کی چینی لڑکوں سے شادی کرواتے تھے اور اس طرح انھیں چین لے جاتے تھے۔’

ان کا کہنا تھا کہ’چین لے جا کر ان پاکستانی لڑکیوں کو جسم فروشی کے کاروبار میں دھکیل دیا جاتا تھا۔’

جمیل احمد میؤ کا کہنا تھا کہ انھیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ‘جو لڑکیاں جسم فروشی کے کاروبار کے لیے موزوں نہیں رہتی تھیں، انھیں انسانی اعضا کی تجارت میں استعمال کیا جاتا تھا۔’

ان کے جسم سے یوٹرس یعنی بچہ دانی نکال کر اعضا کی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں بیچ دی جاتی تھی۔

پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے اس قسم کی شکایات سامنے آ رہی تھیں تاہم سرکاری طور پر کسی تحقیقاتی ادارے کی طرف سے کارروائی حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ اس کا آغاز ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد میؤ اور ان کے عملے کی طرف سے فیصل آباد میں ایسی ہی ایک شادی کی تقریب پر چھاپے سے ہوا۔

اس میں دو چینی باشندوں سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کے مطابق ‘گرفتار کیے گئے ان افراد سے تفتیش کی روشنی میں دیگر مقامات پر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔’

تحقیقاتی ادارے ان گروہوں تک کیسے پہنچے؟
جسم فروشی کے لیے انسانی سمگلنگ میں ملوث ان چینی گروہوں کا شکار بننے والی لڑکیوں کی صحیح تعداد کتنی ہو سکتی ہے، اس حوالے سے ایف آئی اے کے پاس مکمل اعداد و شمار تاحال میسر نہیں۔

تاہم ان کو موصول ہونے والی شکایات لانے والوں میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو چین سے واپس پاکستان آنے میں کامیاب ہو گئیں تھیں۔ ایف آئی اے نے تحقیقات کے دوران کم از کم ایک ایسی لڑکی سے پوچھ گچھ کی جو از خود سامنے نہیں آنا چاہتی تھیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں مقیم مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون براہِ راست میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں اور نہ ہی سامنے آنا چاہتی ہیں۔

ان کے والد نے مختصراً بات کی تاہم وہ بھی نہ تو اپنی شناخت ظاہر کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی ‘اس حوالے سے زیادہ بات کرنا چاہتے تھے۔‘ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘گذشتہ برس ان کی بیٹی کی شادی ایک چینی لڑکے سے کروائی گئی تھی۔ اس کے عوض لڑکی کے بھائی کو چین میں ایک کمپنی میں نوکری بھی دی گئی تھی۔’

تاہم چار ماہ قبل ان کی بیٹی پاکستان واپس آ گئی تھیں۔ وہ تقریباً تین ماہ تک چین میں رہیں لیکن وہاں ‘اس کے ساتھ بہت برا ہوا۔’

لڑکی کے والد کے مطابق واپس آنے کے بعد لڑکی کا بھائی بھی نوکری چھوڑ کر واپس آ گیا۔ ان کا کہنا تھا ان کا خاندان یا ان کی بیٹی اس حوالے سے بات نہیں کرنا چاہتے، تاہم واپس آنے کے بعد تحقیقاتی اداروں نے ان کی بیٹی سے بات کی تھی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد میؤ کے مطابق پاکستانی لڑکیوں کی چین سمگلنگ میں ملوث گروہ پنجاب کے علاقے لاہور، قصور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں متحرک تھے۔

چین میں شادی میں مشکلاات پیش آتی ہیں اور کثر چینی مردوں کے لیے یہ بھی تقریباً ضروری ہوتا ہے کہ جب وہ رشتہ لے کر آئیں تو ان کے پاس اپنی زمین بھی ہونی چاہیے
پاکستانی لڑکیوں کو کیسے سمگل کیا جاتا تھا؟
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد میؤ کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا تاہم متاثرہ خواتین میں مسلمان لڑکیاں بھی شامل تھیں۔

‘اگر لڑکی مسیحی ہوتی تھی تو یہ (گروہ) چینی لڑکے کو مسیحی اور اگر مسلمان ہوتی تھی تو اسے مسلمان ظاہر کرتے تھے۔’ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان ‘زیادہ تر اس حوالے سے تصدیق نہیں کرتے تھے۔’

ایف آئی اے کے افسر کے مطابق یہ گروہ باضابطہ طور پر لڑکیوں کی سمگلنگ کا کام کرتا تھا اور چینی باشندوں کے ساتھ ان کے پاکستانی سہولت کاروں میں ایک وکیل کے علاوہ ایک پادری، ایک مترجم بھی شامل تھا۔

اس گروہ کے افراد نے ڈیوائن گارڈن لاہور کے علاقہ میں تین گھر کرائے پر لے رکھے تھے۔ شادی سے قبل ان کا وکیل سہولت کار انڈیپینڈنٹ کنسِنٹ سرٹیفیکیٹ یعنی آزادانہ اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا سرٹیفیکیٹ تیار کر کے لڑکیوں سے اس پر دستخط کرواتا تھا۔

گروہ میں شامل لاہور سے گرفتار ہونے والی چینی خاتون کینڈس سنہ 2017 سے پاکستان میں مقیم تھی۔ وہ لڑکیوں کی نشاندہی وغیرہ میں بھی شامل تھی۔

سرٹیفیکیٹ پر دستخط کروانے کے بعد پادری کی مدد سے لڑکی کی چینی لڑکے سے شادی کروائی جاتی تھی جس کے حوالے سے تقریب بھی منعقد کی جاتی تھی۔ اس کے بعد ایک ماہ کے لیے لڑکی کو ڈیوائن گارڈن کے علاقے میں واقع گھر میں رکھا جاتا تھا۔

’شادی کر کے لے جاتے ہیں اور وہاں نہ جانے کیا کرواتے ہیں‘
اس دوران اس کے شناختی کارڈ پر نام کی تبدیلی اور سفری دستاویز کی تیاری کی جاتی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ لڑکی کو چینی زبان بولنا سکھایا جاتا تھا۔ ایک ماہ بعد لڑکی کو لڑکے کے ساتھ چین بھیج دیا جاتا تھا۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کے مطابق چین میں ان لڑکیوں کو جبری جسم فروشی کے کاروبار میں ڈال دیا جاتا تھا۔ چین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ جو خواتین جسم فروشی کے لیے موزوں نہیں رہتی تھیں انھیں اعضا کی تجارت میں استعمال کیا جاتا تھا۔

تاہم پاکستان میں چین کے سفارتخانے نے رواں برس ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے ‘اعضا کی تجارت کا کاروبار’ چین میں ہونے کی سختی سے تردید کی تھی۔ تاہم انھوں نے لڑکیوں کو شادی کر کے چین سمگل کرنے والے گروہوں کے متحرک ہونے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔

فیصل آباد اور لاہور سے گرفتار ہونے والے چینی باشندوں کو ابتدائی تفتیش کے بعد جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کے مطابق چینی باشندوں نے دورانِ تفتیش جرم قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس چینی باشندوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے ‘موزوں شواہد اور گواہان موجود ہیں۔’

تاہم ان تحقیقات کے حوالے سے کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں جن میں زیادہ تر ایسے ہیں جن کے جوابات جاننے کے لیے تحقیات کا دائرہ کار چین تک بڑھائے بغیر ثبوت اکٹھے کرنا مشکل ہو گا۔

خصوصاً انسانی اعضا کی سمگلنگ کے حوالے سے ملنے والی معلومات پر ٹھوس شواہد سامنے نہیں لائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.