64

پاکستانی فوج نے ’اختیارات کے ناجائز استعمال‘ پر تین میجر برطرف کر دیے

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر رینک کے ان تین افسران میں سے دو کو دو برس قید بامشقت کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان افسران پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

فوج کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ان پر عائد کردہ الزامات ثابت ہونے پر ان کی نوکری سے برخاستگی اور قید کی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم آئی ایس پی آر کے بیان میں نہ تو ان افسران کی شناخت ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تفصیل ہے کہ یہ افسران نظم و ضبط کی کیسی خلاف وزری میں ملوث تھے یا انھوں نے اختیارات کا غلط استعمال کب اور کہاں کیا۔

یہ رواں برس دوسرا موقع ہے کہ فوج کی جانب سے کسی افسر کو اختیارات کے غلط استعمال کے جرم میں ملازمت سے برخاست کیا گیا ہے۔

اس سے قبل رواں برس اگست میں بھی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ فوجی عدالت نے ایک حاضر سروس میجر کو اختیارات کے غلط استعمال ہر عمرقید کی سزا سنائی ہے جس کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے توثیق کی ہے۔

اس میجر پر مبینہ طور پر بلوچستان میں ایک بچے کے اغوا اور اس کے والدین سے تاوان کا مطالبہ کرنے اور رقم لینے کے باوجود مغوی کو رہا نہ کرنے کے الزامات تھے۔

اس وقت فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا تھا کہ میجر کے خلاف اقدام محکمانہ احتساب کے نظام کے تحت اٹھایا گیا اور پاکستانی فوج ادارہ جاتی احتساب پر یقین رکھتی ہے۔’

اس سے قبل مئی 2019 میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر پاکستانی فوج کے ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو 14 سال قید بامشقت جبکہ سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اس وقت فوج کا حصہ تھے جب جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف تھے۔ اپنے فوجی کیریئر کے دوران انھوں نے بطور بریگیڈیر ٹرپل ون بریگیڈ کمانڈ کی تھی۔

بطور میجر جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز جیسے نہایت اہم عہدے پر تعینات رہے ہیں۔ ملک بھر میں ہونے والے فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی فوج کے اسی ڈائریکٹوریٹ کی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے بطور لیفٹیننٹ جنرل بہاولپور کور کی کمان کی جبکہ سٹاف اپائنٹمنٹ میں وہ ایڈجوٹینٹ جنرل تعینات رہے۔ یہی فوج کا وہ شعبہ ہے جو فوج میں ڈسپلن اور احتساب کا عمل برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوجی قوانین کے مطابق سزا کا تعین کرتا ہے۔

سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان بریگیڈ کی کمان کے علاوہ جرمنی میں پاکستان کے دفاعی اتاشی تعینات رہ چکے ہیں۔ انہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ راجہ رضوان علی حیدر 10 اکتوبر 2018 کو اسلام آباد کے علاقے جی 10 سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کے اہلخانہ نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔

عدالت کے استفسار پر وزارتِ دفاع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ مذکورہ سابق فوجی افسر فوج کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.