81

پاکستان، انڈیا کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے مابین بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مل کر مسائل کا حل تلاش کریں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں بہت سی رپورٹس ملی ہیں۔ ’صورتحال خوفناک ہے، تاہم بہتر ہو گا اگر دونوں ملک مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں۔‘

اس سے پہلے امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رابرٹ پیلاڈینو نے ایک بریفنگ میں پلوامہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور دہشتگردوں کی پشت پناہی نہ کریں اور ان کی پناہ گاہیں ختم کریں۔‘

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی دونوں جوہری طاقتوں کو ‘حتی الامکان’ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔

سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدادمات اٹھائیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی خدمات اور تعاون کی بھی پیشکش کی ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آئے ہیں جب انڈیا نے پاکستان کی جانب سے پلوامہ حملے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

‘پاکستان دہشت گردی کا محور، تحقیقات کی پیشکش بےمعنی’
نئی دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پلوامہ حملے پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی اور پٹھان کوٹ کے حملوں کے بھی ثبوت دے چکا ہے لیکن ان معاملات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اس حملے کو دہشت گری بھی نہیں مانا اور نہ ہی متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے پلوامہ حملے کا ارتکاب کرنے والے دہشت گرد اور جبیش محمد کے دعوے کو نظر انداز کر دیا جنھوں نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

’یہ سبھی کو پتہ ہے کہ جیش محمد اور اس کے سربراہ پاکستان میں ہیں۔ پاکستان کے لیے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے یہی ثبوت کافی ہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے ‘نئے پاکستان اور نئی سوچ کی بات کی ‘ کیا یہی نیا پاکستان ہے جس میں حکومت کے وزرا اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کا شکار حافظ سعید جیسے دہشت گرد کے ساتھ پلیٹ فارم شیئر کرتے ہیں۔ ‘

عمران خان کی جانب سے بات چیت کی پیشکش پر انڈیا نے کہا کہ وہ صرف اس ماحول میں بات کرے گا جب فضا پوری طرح دہشت گردی اور تشدد سے پاک ہو۔

انڈیا نے پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ وہ دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ ‘یہ حقیقت سے پرے ہے۔ بین الاقوامی برادری کو معلوم ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا محور ہے ۔’

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے دہشت گردانہ حملے کے بارے انڈین حکومت کے سخت موقف کو آئندہ پارلیمانی انتخابات کے پیرائے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔

بیان میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے بجائے پلوامہ کے دہشت گردوں اور پاکستان میں سرگرم دوسری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی کرے۔

انڈین میڈیا نےبھی عمران خان کے بیان پر منفی در عمل ظاہر کیا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عمران خاں نے پاکستان کی فوج کی ترجمانی کی ہے۔

پلوامہ حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعللقات انتہائی کشیدہ ہیں اور تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ وزریر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘پاکستان سے بات چیت کا وقت اب نکل چکا ہے ۔ اب کاروائی کا وقت ہے ‘ ۔

وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سے جب پوچھا گیا کہ انڈیا کس طرح کی کارروائی کی بات کر رہا ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مزید تفصیلات شیر نہیں کر سکتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.