120

ٹیپو سلطان کون تھا؟ مورخین اور ماہرین کی رائے

وزیراعظم عمران خان نے تھرپارکر میں ہیلتھ انشورنس پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے پھر اٹھارویں صدی کے بہادر حکمران ٹیپو سلطان کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک ہفتہ پہلے 28 فروری 2019 کو پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے ٹیپو سلطان اور انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے بہادر شاہ ظفر کا موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے عوام برصغیر کے بہادر حکمران ٹیپو سلطان سے متاثر ہیں۔ وہ دشمن کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے نہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی طرح عزت و وقار پر سمجھوتہ کریں گے۔اپنے ساتھیوں اور مخالفوں کے سامنےانہوں نے کہا ہم نے دونوں بادشاہوں کے بارے میں سنا ہوا ہے لیکن ہمارے ہیرو ٹیپو سلطان ہیں جو کہا کرتے تھے شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔
آئیں تاریخ میں جھانکتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے ساتھیوں اور سیاسی مخالفین کے سامنے شیر میسور اور مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا موازنہ کیوں کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مرزا ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے 1837ء سے 1857ء میں ہتھیار ڈالنے اور گرفتاری تک بیس سال ہندوستان پر حکومت کی۔ فتح علی صاحب ٹیپو یا ٹیپو سلطان کی مملکت میسور پر حکومت سترہ سال 1782ء سے 1799ء تک رہی۔ دونوں میں ایک بات مشترک ہے دونوں کو ان کے سب سے زیادہ قابل اعتماد قریبی ساتھیوں نے دھوکہ دیا۔ ٹیپو سے اس کے فوجی جنرل میر صادق نے غداری کی۔ بہادرشاہ ظفر اپنے قریبی حلقے میں موجود انگریزوں کے مخبروں کے چکر میں آگئے۔ حکیم احسن اللہ خان اور مرزا الٰہی بخش نے انہیں دھوکہ دیا۔ ٹیپو سلطان حیدر علی اور فاطمہ فخرالنساء کا بڑا بیٹا تھا۔ اس کی والدہ آندھرا پردیش میں واقع کڑیاکے قلعہ کے گورنر میر معین الدین کی بیٹی تھی۔ ٹیپو سکہ سازی اور ایک نئے ریونیو سسٹم کی وجہ سے بھی مشہور ہے جس سے میسور کی ریشم کی صنعت نے بہت ترقی کی۔ ٹیپو کے دور میں میسور نے اقتصادی طور پر بہت ترقی کی وہاں اجرتیں اور معیار زندگی بہت بلند تھا۔ ٹیپو سلطان کا نام ارکاٹ (تامل ناڈو) کے ایک صوفی بزرگ حضرت ٹیپو مستان اولیاء کے نام پر رکھا گیا تھا۔(حوالے: انڈیا ٹوڈے کا 4 مئی 2015 کا مضمون’’دی سیون ان نون فیکٹس یو شڈ نو اباؤٹ دی ٹائیگر آف میسور، مسلم پولیٹیکل تھاٹ تھرو دی ایجز1562۔ 1947 ( غلام الانا)، گلوبل سلک انڈسٹری، اے کمپلیٹ سورس بک(آر ایل دتہ))ایسٹ انڈیا کمپنی سے جنگوں میں ٹیپو نے راکٹوں کے استعمال کا آغاز کیا۔ ایسے دو راکٹ جن پر دو تیز دھار بلیڈ لگے تھے، سرنگا پٹم میں انگریزوں کے ہاتھ آئے جو لندن کے رائل آرٹلری میوزیم میں موجود ہیں۔
انگریزوں نے ان کا ڈیزائن بہتر بنا کر فرانس کے نپولین کے خلاف استعمال کیا۔ نپولین انگریزوں کے خلاف ٹیپو سلطان کا اتحادی تھا۔ ٹیپو کی بحریہ میں 72 توپوں والے بیس جنگی جہاز اور 62 توپوں والے 20 فریگیٹ شامل تھے۔ ٹیپو نے ہمسایہ حکمرانوں سے بھی کئی جنگیں لڑیں جن میں مراٹھا میسور جنگ مشہور ہے جو بالآخر ایک معاہدے سے ختم ہوئی۔اس معاہدے کے تحت ٹیپو سلطان کو مراٹھوں کو 48لاکھ روپے تاوان جنگ ادا کرنا پڑا اور اپنے والد حیدر علی کے فتح کئے ہوئے علاقے واپس کرنے کے علاوہ سالانہ بارہ لاکھ روپے خراج ادا کرنا تھا۔(حوالے: راکٹس ان میسور اینڈ بریٹن (روڈن نرسیما رائو) بیٹلز آف دی آنر یبل ایسٹ انڈیا کمپنی، میکنگ آف دی راج(ایم ایس نروانے) اینگلو مراٹھا ریلیشن (سلندر ناتھ سین))انگریزوں اور میسور کی چوتھی جنگ کے دوران برطانوی فوجوں نے نظام حیدر آباد کے ساتھ مل کر ٹیپو سلطان کو شکست دی اور وہ مئی 1799ء میں مارا گیا۔ ٹیپو کی موت اس کے معتمد جرنیل میر صادق کی غداری سے منسوب کی جاتی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق محاصرے کے دوران میر صادق نے میسور کی فوج کا ایک بڑا حصہ میدان جنگ سے نکال لیا تھا جس وقت گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی۔ سپاہیوں سے کہا گیا کہ وہ جا کر اپنی تنخواہیں وصول کر لیں۔ اس سے ٹیپو سلطان کا دفاع کمزور ہوا اور اس کے نتیجے میں انگریزی فوج سرنگاپٹم کے مضبوط قلعے میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو گئی۔ ٹیپو دوسرے محاذ پر تھا یہ خبر ملنے پر وہ وہاں پہنچا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔ اندھیرا چھانے لگا تھا انگریزی فوج کے سپاہیوں کو میدان جنگ میں ٹیپو کی لاش تلاش کرنے کیلئے بھیجا گیا تو وہ گھبرا رہے تھے انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کا سب سے مضبوط دشمن مر چکا ہے۔ بالآخر ٹیپو کی لاش میسور کے دارالحکومت سرنگاپٹم سے مل گئی ٹیپو سے لڑنے والی فوج برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے چھبیس ہزار سپاہیوں چار ہزار یورپیوں اورہندوستانیوں پر مشتمل تھی۔ ان کے علاوہ نظام حیدر آباد نے دس بٹالین فوج اور سولہ ہزار گھڑ سوار بھیجے تھے۔ اس طرح انگریزی فوج پچاس ہزار سے زیادہ تھی جبکہ ٹیپو کے پاس قریباً تیس ہزار سپاہی تھے۔ جس وقت انگریزی فوج سرنگاپٹم کی دیواریں توڑ کر داخل ہو چکی تھی، فرانسیسی مشیروں نے ٹیپو کو مشورہ دیا کہ وہ ایک خفیہ راستے سے نکل جائے اس طرح مزید ایک دن لڑا جا سکتا ہے لیکن ٹیپو نے جواب دیا شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔ فوجی ا ور اقتصادی کامیابیوں کے باوجود ہندوئوں اورعیسائیوں پر مظالم کی وجہ سے ٹیپو ایک متنازعہ شخصیت بھی ہے۔ تھامس پالہیا وارانا رائو جیسے کئی مورخوں نے لکھا ہے کہ ٹیپو کے دور میں غیر مسلموں کو قتل کیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا اور اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے کئی مندر اور گرجا تباہ کرنے کے علاوہ غیر مسلموں کے ختنے کرنے کا حکم دیا تھا لیکن بی اے نیلیئرجیسے کئی دوسرے مورخ اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس نے نہ صرف اپنی انتظامیہ میں ہندو افسر رکھے تھے بلکہ 156مندروں کے لئے سرکاری امداد بھی دی۔ کئی جگہوں پر ذکر ہے کہ ٹیپو سلطان کا خزانچی کرشنا رائو اور ڈاک اورپولیس کا وزیر شامیا آینگر تھا مغل دربار میں اس کے چیف ایجنٹ مول چند اورسجن رائے تھے۔ (حوالے:انڈیا، ہسٹری ، ریلیجنز، وژن اینڈ کنٹری بیوشن ٹو دی ورلڈ (الیگزینڈر ورگز) انٹرنیشنل جرنل آف ملٹی ڈسپلنری ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، ٹیپوز انڈومنٹس ٹو ہندوز (سبارایا وجٹی) کیرالہ ڈسٹرکٹ گریٹیرز، ٹیپو سلطان ولن آرہیرو(سیتا رام گوئل)یہ دیکھتے ہوئے کہ مورخین نے ٹیپو سلطان کے کردار کے بارے میں مختلف قسم کی آرأ دی ہیں، جنگ گروپ اور جیو ٹیلیویژن نیٹ ورک نے تاریخ کے کچھ ممتاز پروفیسروں سے بات کرنے کا فیصلہ کیاجو اس موضوع پر اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعبہ سیاسیات کے سابق چئیر مین ، پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خاں نے کہا ٹیپو مثالی بہادری کے ساتھ برطانوی سلطنت سے لڑا، اپنے وطن کے دفاع کیلئے جان دے دی۔ ٹیپو پورے غیر منقسم ہندوستان کے ایک غیر متنازعہ ہیرو تھے اور اپنی شہادت کو 220 سال گزر جانے کے باوجود اب بھی ہیں۔ وہ انگریزوں سے سمجھوتہ کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے اپنی جان قربان کر دینے کو ترجیح دی۔یہ بالکل جھوٹا پروپیگنڈہ ہے کہ ٹیپو نے ہندوؤں پر کوئی مظالم کئےحقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سرکاری خزانے سے مند ر تعمیر کرائے۔ کئی ہندو مورخ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ویسے بھی ٹیپو کے زمانے میں میسور میں ہندوؤں کی آبادی مسلمانوں سے کافی زیادہ تھی۔
اب بھی ٹیپو پورے انڈیا کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ چند ماہ ہی پہلے کی بات ہے، کرناٹک کے ایک ہندو وزیر نے ٹیپو کے خلاف کوئی بات کردی ، جس پر اس قدر شدید رد عمل ہوا کہ اس وزیر کو اپنے الفاظ واپس لینا پڑے۔پنجاب یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومنٹیز اور چئیرمین شعبہ تاریخ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چاولہ نے کہا ٹیپو سلطان نے اپنے والد حیدر علی کے ورثے کو آگے بڑھایا۔ اگر بعض مورخین نے اس کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش نہ کی ہوتی تو وہ ایک عالمی ہیرو اور جنگجو مانا جاتا ، جو اپنے معمولی وسائل کے ساتھ برطانوی سلطنت سے لڑا۔ کئی غیر مسلم مورخین نے لکھا ہے کہ ٹیپو کے دور میں مکمل مذہبی آزادی تھی۔ ٹیپو کے خلاف ایسی باتیں بہت فضول لگتی ہیں کیونکہ منطقی طور پر یہ ممکن ہی نہیں کہ اس نے غیر مسلموں سے کوئی زیادتی کی ہو کیونکہ اس وقت ہندو خاصی اکثریت میں تھے۔ ڈاکٹر چاولہ نے کہا ہندو ٹیپو کی سرکاری مشینری کا حصہ تھے اور وہ ان کیلئے مندر تعمیر کراتا تھا۔جب وہ ایسٹ انڈیا کمپنی سےلڑ رہا تھا تو میسور کی پوری آبادی اس کے ساتھ تھی۔ہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے تہواروں میں خود شرکت کرتا تھا یا نہیں۔ اسے شیر کہا جاتا تھا۔ ثئیر پرسن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور بائیں بازو کے ممتاز صحافی ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ٹیپو کے وقت میسور میں کوئی زیادہ مسیحی نہیں تھے، اس لئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ان سے کوئی بد سلوکی کی جاتی تھی لیکن یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ ہندو اس کے غیظ و غضب کا شکار ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ایک انتہا پسند مسلمان تھا۔ اسی لئے برصغیر کے مسلمان اس کے مداح ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن، بی بی سی، رائیٹر، وائس آف امریکا اور ڈوئچے ویلے کے مبصر،تجزیہ کار اور پانچ بار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے عہدیدار منتخب ہونے والے ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ٹیپو سلطان ایک شاندار جنگجو تھا، جس سے اس کے اپنوں نے غداری کی۔ میں یہ کہ سکتا ہوں کہ اس کے دور میں میسور میں مذہبی رواداری نہیں تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ ایک اچھا مسلمان ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈیز سنٹر کے چئیر مین اور معروف ماہر سیاسیات ڈاکٹر امجد مگسی نے کہا ٹیپو سلطان ایک اعلیٰ کردار والے شخص تھے۔ وہ اپنے بہت معمولی وسائل کے باوجود بہت بہادری سے انگریزوں سے لڑے۔ وہ بھی دوسرے ریاستی حکمرانوں اور نوابوں کی طرح انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر بچ سکتے تھے لیکن انہوں نے میدان جنگ میں مقابلے کا فیصلہ کیا۔ اگر انہیں اپنے عوام اور تمام رعایا کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو وہ ایسی جرات نہ کرسکتے۔ اس لئے میں اس پروپیگنڈے کو سختی سے ردکرتا ہوں کہ ٹیپو نے غیر مسلموں سے مذہبی آزادی چھینی ہوئی تھی۔ڈاکٹر مگسی نے کہا ٹیپو کو ہندو، مسلمان تمان پاکستابؤنی اور بھارتی ہیرو سمجھتے ہیں۔ وہ ریاستی سطح پر ہیرو ہیں۔ ایسے لوگ کبھی کبھی ہی پیدا ہوتے ہیں۔بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں ملوث ہونے پر جلا وطن کرکے رنگوں (برما) بھیج دیا تھاجنگ آزادی کے دوران باغی فوجیوں نے دہلی پر قبضہ کرکے 52 انگریزوں کو قتل کر دیا تھا۔ زینت محل سمیت بہادر شاہ ظفر کی بیگمات اور دو بیٹوں سمیت بچ جانے والے افراد خانہ 7اکتوبر 1858ء کو بیل گاڑیوں میں برما روانہ ہوئے۔ لیفٹیننٹ اومانی کے سپاہی ان کے ساتھ تھے۔ 1857ء کی شورش میرٹھ سے شروع ہوئی تھی۔ باغی کشتیوں کے پل کے ذریعے دریائے جمناعبور کرکے دہلی میں داخل ہوئے۔ شہر پر قبضہ کرکے ا علان کیا کہ بہادر شاہ ظفر ان کا بادشاہ ہے اور عظیم مغل دربار بحال کریں گے۔ جس کے بعد باغیوں اور انگریزی فوج میں گھمسان کی لڑائی ہوئی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور ہندوستان کی پہلی جدوجہد آزادی کا خاتمہ ہوا۔ بہادر شاہ کو بغاوت میں تامل تھا وہ ویسے بھی بہت بوڑھا ہو چکا تھا اسے کئی لوگوں نے گمراہ کیا۔ خود اس کی ملکہ کا اصرار تھا کہ انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر لڑائی ختم کرو اس کے ایک بہادر فوجی کمانڈر بخت خاں نے مشورہ دیا کہ وہ چھپ جائے اورہتھیارڈالنے کی بجائے مزاحمت جاری رکھے لیکن یہ بہادر شاہ کی حماقت تھی کہ اس نے سوچا کہ انگریز اس پر رحم کریں گے۔ اس نے دہلی میں ہمایوں کے مقبرے پر ہتھیار ڈال دیئے ۔ میجر ولیم ہڈسن کی قیادت میں انگریزی فوج نے اسے 20ستمبر 1857ء کو ہمایوں کے مقبرے سے گرفتار کر لیا۔اگلے ہی دن ہڈسن نے بہادر شاہ کے بیٹوں مرزا مغل ا ور مرزا خضر سلطان اورپوتے مرزا ابوبکر کو خود ہی گولی مار کرہلاک کر دیا۔ شہزادوں کے سر قلم کرکے بہادر شاہ ظفر کے سامنے لائے گئے۔ بہادر شاہ ظفر پر 41دن مقدمہ چلا۔ انیس بار سماعت ہوئی اکیس گواہ اور فارسی اور اردو کی ایک سو سے زیادہ دستاویزات انگریزی ترجمے کے ساتھ عدالت میں پیش کی گئیں۔(حوالے: دی لاسٹ مغل، دی فال آف دہلی 1857(ولیم ڈالرسپل) اے سمبل آف سٹیٹ پاور، لیوز آف دی ریڈ فورٹ ان انڈین پولیٹیکل ٹرائلز(کانیکا شرما) ریسرچ پیپر ری ریبل آرمی ان 1857، ایسٹ دی وین گارڈ آف دی وار آف انڈیپنڈنس آر اے ٹائرینی آف آرمز؟)مقدمہ دلی کے لال قلعے میں چلا۔ ظفر کو باغیوں کو اکسانے، انہیں مدد دینے اور برٹش حکومت کے خلاف لڑنے اور مسیحیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ 82سالہ بہادر شاہ ظفر نے اپنی صفائی میں کہا کہ وہ سپاہیوں کے سامنے مجبور تھا۔ لیکن اس کی نہیں سنی گئی۔ اس نے کہا کہ سپاہیوں نے اس کی سرکاری مہر خالی لفافوں پر لگا کر جعلسازی سے اسے بغاوت میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ بہادر شاہ کے سب سے معتمد آدمی وزیراعظم اور ذاتی طبیب حکیم احسن اللہ خاں نے اس سے غداری کی۔ معافی کے وعدہ پر اس نے عدالت میں بہادر شاہ کے خلاف گواہی دی۔ جیسے ہی خطرہ بڑھا تھا وہ دہلی سے بھاگ گیا تھا۔ مرزا غالب کے بعض خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکیم احسن اللہ خان ان کا قریبی دوست تھا۔ موخربھارتی اخبار ’’ہندو‘‘ نے یکم مئی 2014ء کو لکھا بلی ماراں میں حکیم احسن اللہ خاں کی حویلی اب بھی اپنی پرانی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے۔ حکیم بہادر شاہ ظفر کا ذاتی طبیب ہی نہیں قریب ترین مشیر بھی تھا اخبار نے مزید لکھا کہ پرشوتم سالوی کی کتاب ’’اے لانگ ڈران وار آف فریڈم‘‘ کے مطابق ناہر سنگھ نے بہادر شاہ سے کہا تھا کہ وہ ولبھ گڑھ میں چھپ جائے لیکن بہادر شاہ نے انکار کر دیا اور ہمایوں کے مقبرے پر پکڑا گیا لیکن ناہر سنگھ نے بہادر شاہ کے بیٹوں اور پوتے کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں فرنگی جوجیوں کو قتل کیا۔ بالآخر ناہر سنگھ کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور 21ستمبر 1858کو اس کی 35ویں سالگرہ کے دن پھانسی دے دی گئی۔ بادشاہ کے ایک اور معتمد مرزا الٰہی بخش نے بھی اس سے دھوکہ کیا اور میجر ہڈسن کو بتا دیا کہ وہ کہاں ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں مرزا الٰہی بخش بہادر شاہ کا سسر بھی تھا اسے بادشاہ کی سب سے چھوٹی بیگم زینت محل اور اس کے بیٹے کے ساتھ ترجیحی سلوک پر بھی غصہ تھا۔ مرزا الٰہی بخش کا نواسا بادشاہ کا جانشین بن سکتا تھا لیکن اسے ایک سال پہلے زہر دے کر مار دیا گیا تھا جس کا زینت محل پر شک تھا بہادر شاہ ظفر خود بھی مانا ہوا اردو شاعر تھا۔ مرزا غالب ، داغ دہلوی، مومن خان مومن اور ابراہیم ذوق جیسے بڑے شاعر اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ آخر میں ایک قابل ذکر بات، ٹیپو سلطان ان چند شخصیات میں سے ہیں جن کی یاد میں بھارت اور پاکستان دونوں نے خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.