33

ٹیسٹ میچ میں ٹاس کی رسم کو ختم کرنے کی تجویز

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے تجویز پیش کی ہے کہ ٹیسٹ میچوں میں سکہ اچھال کر ٹاس کرنے کو ختم کر دیا جائے جس پر سابق جنوبی ایشیا کے کپتانوں نے اس تجویز کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجویز پر غور نہیں کرنا چاہیے۔

سکہ اچھال کر ٹاس کرنے کی رسم پہلی بار انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 1877 میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس تجویز پر رواں ماہ ممبئی میں ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

اس تجویز کی توجیہہ یہ ہے کہ میزبان ٹیم کے مہمان ٹیم پر ایڈوانٹیج کو کم کیا جائے۔ میزبان ٹیم اپنے فائدے کی وکٹ بناتے ہیں جو اس کے کھلاڑیوں کے لیے سودمند ہوتی ہے اور اس وجہ سے کئی بار یکطرفہ میچ ہوتے ہیں۔

آئی سی سی کے اجلاس میں پیش کی جانے والی تجویز میں کہا گیا ہے کہ ٹاس ختم کر کے مہمان ٹیم کو موقع دینا چاہیے کہ وہ بیٹنگ یا فیلڈنگ کا فیصلہ کرے۔

انڈیا کے سابق کپتان بشن سنگھ بیدی نے مقامی میڈیا سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے اس تجویز کی سمجھ نہیں آ رہی۔ سب سے پہلے تو صدیوں پرانی رسم کے ساتھ کیوں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں؟‘

انڈیا ہی کے دلیپ ونگسارکر نے اعتراف کیا کہ وہ کافی مایوس ہیں کہ میزبان ٹیم اپنے فائدے کی وکٹ بناتی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ٹاس کی رسم کو ختم کر دینا اس کا حل نہیں ہے۔

’اگر اس تجویز کا واحد مقصد وکٹ کی تیاری میں میزبان ٹیم کو فائدہ پہنچانے سے روکنا ہے تو آئی سی سی نیوٹرل وکٹ بنانے والے کیوں نہیں تجویز کرتی۔‘

انھوں نے مزید کہا ’وکٹ بنانے والوں کا بھی ایک پینل بنا لیا جائے جیسے نیوٹرل امپائرز اور میچ ریفریز کا پینل ہے۔ کیوں اس رسم کو ختم کیا جا رہا ہے جس سے دونوں ٹیموں کو فیصلہ کرنے کا یکساں موقع حاصل ہوتا ہے۔‘

تاہم آسٹریلوی کھلاڑی اس تجویز کے حق میں ہیں۔ سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ اور سٹیو وا ٹاس کی رسم کو ختم کرنے کے حق میں ہیں جبکہ ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ مہمان ٹیم کو موقع دینا کہ وہ بیٹنگ یا فیلڈنگ کا فیصلہ کرے سے اچھا مقابلہ ہو گا۔

سابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان آصف اقبال نے انگریزی اخبار ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹاس کی رسم کو ختم کرنے کے خلاف ہیں۔

’میں اس تجویز کے حق میں نہیں ہوں۔ ہر مہمان ٹیم کو میزبان ٹیم کا موقع ملے گا اور اس کو بھی ہوم سیریز کا فائدہ ہو گا۔ بہترین ٹیم بننے کے لیے ٹیم کو ہوم سیریز اور دوسرے ممالک میں سیریز جیتنا ہو گی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.