42

’ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دے دیا تھا‘

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف جوابی عسکری کارروائیوں کی منظوری دی تاہم جمعے کی صبح انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا۔

وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا تھا کہ ’مٹھی بھر‘ اہداف کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن مبینہ طور پر ‘اپنے ابتدائی مراحل’ میں تھا جب ٹرمپ نے امریکی فوج کو رک جانے کا حکم دیا۔

اخبار کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی جاسوس ڈرون کو ایران کی جانب سے جمعرات کے روز مار گرائے جانے کے ردِ عمل میں تھیں۔

نیویارک ٹائمز کا مزید کہنا تھا کہ جوابی حملوں کے لیے جمعے کا سورج طلوع ہونے سے پہلے کا وقت منتخب کیا گیا تھا تاکہ ایرانی افواج یا پھر شہریوں کو متوقع خطرے کو کم رکھا جا سکے۔

فی الوقت یہ واضح نہیں ہے کہ مبینہ حملے اب بھی کیے جا سکتے ہیں یا یہ کہ منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے امریکہ کے مبینہ حملوں کی تفصیلات ابتدائی طور پر جمعرات کو رات گئے شائع کی تھیں۔ اس کے بعد کئی امریکی میڈیا اداروں نے آزادانہ طور پر یہ خبر رپورٹ کی۔

اخبار کا کہنا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے امریکی عسکری اور سفارتی حکام امید کر رہے تھے کہ طے شدہ اہداف یعنی ایرانی ریڈار اور میزائل سسٹمز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اخبار نے ایک نامعلوم سینیئر انتظامی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “طیارے فضاء میں اور بحری جہاز اپنی پوزیشنز سنبھال چکے تھے مگر پھر رک جانے کا حکم آنے پر کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا۔”

ڈرون کے ساتھ کیا ہوا؟
جمعرات کی صبح پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے ایک امریکی ‘جاسوس’ ڈرون کو جنوبی صوبے ہرمزگان کے علاقے کوہِ مبارک کے نزدیک ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مار گرایا ہے۔

بعد میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے امریکی بحریہ کا وسیع بحری علاقے پر نظر رکھنے والا طیارہ براڈ ایریا میری ٹائم سرویلینس (BAMS-D) گرا دیا ہے۔

مگر امریکی ملٹری کے حکام کا دعویٰ ہے کہ ڈرون اس وقت آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی فضائی حدود میں موجود تھا۔

اس کے جواب میں امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے جمعرات کو ایک ہنگامی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے امریکی ایئرلائنز کو تہران کے زیرِ انتظام پانیوں کے اوپر اڑان بھرنے سے منع کر دیا۔

ایف اے اے کے مطابق جس وقت امریکی ڈرون گرایا گیا اس وقت ’اس علاقے میں متعدد سویلین طیارے آپریٹ کر رہے تھے۔‘

ایران کا دعویٰ ہے کہ ایک بغیر پائلٹ کا طیارہ جمعرات کی صبح اس کی فضائی حدود میں داخل ہوا جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس کے طیارے کو بین الاقوامی فضائی حدود میں گرایا گیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تناؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران پر خطے میں موجود آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اپنے نیوکلیئر پروگرام کی بین الاقوامی طور پر طے شدہ حدود کو عبور کرے گا۔

‘بہت بڑی غلطی’
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘

اس سے پہلے امریکہ نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے اس کا ایک فوجی ڈرون مار گرایا ہے۔

امریکی حکام نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے ان کے ایک فوجی ڈرون کو آبنائے ہرمز کے اوپر بین الاقوامی فضائی حدود میں زمین سے فضا میں داغے گئے ایک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ڈرون یو ایس نیوی آر کیو فور اے گلوبل ہاک تھا۔

آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟
ایران کا موقف
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک امریکی جاسوس ڈرون کو مار گرایا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی افواج نے ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں کوہِ مبارک کے نزدیک آر کیو 4 گلوبل ہاک ڈرون کو نشانہ بنایا۔

کوہِ مبارک، جہاں ایران کے مطابق اس نے جمعرات کو ڈرون مار گرایا، آبنائے ہرمز کے نزدیک ہے جو کہ تیل کی بین الاقوامی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے امریکی ڈرون کی تباہی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تہران بیرونی جارحیت کے خلاف کھڑا ہے۔

جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون گرا کر انھوں نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔

’ہماری سرحدیں ہمارے لیے سرخ لکیر کی مانند ہیں اور جو بھی دشمن انھیں پار کرنے کی کوشش کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔‘

’ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ ہم کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘

یہ پیشرفت پینٹاگون کی جانب سے خطے میں مزید 1000 فوجی تعینات کرنے کے اعلان کے کچھ ہی دن بعد ہوئی ہے۔

واشنگٹن نے حال ہی میں ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں بارودی سرنگوں کے ذریعے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔

اس کے بعد تناؤ میں مزید اضافہ پیر کے روز ہوا جب ایران نے اعلان کیا کہ اس کے پاس موجود کم سطح تک افزودہ یورینیئم اگلے ہفتے 2015 میں بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والی حد عبور کر لے گا۔

ایران نے یورینیئم افزودگی امریکا کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں کے ردِعمل میں شروع کی۔

امریکہ نے گذشتہ سال تاریخی جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا تھا۔

دیگر شخصیات کاردِ عمل

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ’ایک ایسا سانحہ ہو گا جس کے نتائج کی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے بھی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تناؤ بڑھانے سے زیادہ سے زیادہ گریز کریں۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی ضرورت نہیں ہے جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے صدارتی نامزدگی کے صف اول کے امیدوار جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمتِ عملی کو ’خود کش سانحہ‘ قرار دیا ہے۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما چک شومر نے کہا ’صدر شاید جنگ نہ چاہتے ہوں مگر ہمیں فکر ہے کہ وہ اور انتظامیہ جنگ تک پہنچ جائیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.