44

ٹرمپ: اگر ڈیموکریٹس نے تحقیقات کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے کانگریس کے ایوان زیریں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد کہا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا تو وہ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی نے بھی کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس انتظامیہ کی نگرانی نہ کریں۔

بدھ کو ہونے والی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی سے کہا کہ وہ قانونی کاروائی میں ساتھ کام کریں اور انفراسٹرکچر، تجارت اور صحت کے معاملات میں ساتھ چلیں۔

لیکن انھوں نے مزید کہا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے خلاف قانونی جنگ کا عمل شروع کیا تو وہ اور رپبلکن پارٹی خاموش نہیں رہیں گے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوان نمائندگان میں جیت کے بعد توقع ہے کہ نینسی پیلوسی سپیکر کا عہدہ سنبھالیں گی۔ انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ صدر کے ساتھ مفاہمت چاہتی ہیں لیکن ان کی جماعت اپنا موقف نہیں بدلے گی۔

صدر ٹرمپ نے انتخابات کے نتائج کو اپنی ٹویٹ میں ‘شاندار کامیابی’ قرار دیا تھا اور کہا کہ ان کی جماعت نے سینیٹ میں اپنی اکثریت کو بہتر بنا کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔

انھوں نے اپنی جماعت کے ان ممبران کا بھی مذاق اڑایا جنھوں نے صدر ٹرمپ کی کھل کر حمایت نہیں کی اور انتخابات میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے سی این این کے صحافی کا اجازت نامہ معطل
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ سے پریس کانفرنس میں بحث کرنے کے بعد نیوز چینل سی این این کے نمائندے جم اکوسٹا کا صحافتی اجازت نامہ معطل کر دیا۔

پریس کانفرنس میں صحافی نے صدر ٹرمپ سے وسطی امریکہ سے چلنے والے تارکین وطن کے قافلے کے بارے میں سوال کیا جس پر صدر نے ان کو کہا کہ وہ بہت برے اور بدتمیز شخص ہیں اور وہ مائیک چھوڑ دیں۔

وائٹ ہاؤس کی ایک اہلکار نے صحافی سے مائیک لینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ صحافی جم اکوسٹا کا اجازت نامہ معطل کرنے کی وجہ ان کے سوالات نہیں بلکہ ‘اس نوجوان لڑکی کو ہاتھ لگانا تھا۔’

انھوں نے ٹویٹ میں کہا:’ ہم بالکل بھی برادشت نہیں کریں گے کہ ایک رپورٹر نے وائٹ ہاؤس کی اہلکار کو ہاتھ لگایا جو صرف اپنا کام کر رہی ہے۔ ہم اس واقعے کے بعد رپورٹر کا اجازت نامہ معطل کر رہے ہیں۔’

صحافی جم اکوسٹا نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ امریکی خفیہ سروس نے انھیں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔

جہاں ایک طرف وسط مدتی انتخابات میں ہلچل مچی ہوئی تھی، وہیں دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ملک کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔ بدھ کو ٹویٹ کے ذریعے انھوں نے کہا: ہم اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو ان کی خدمات کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کے لیے نیک دعائیں کرتے ہیں۔’

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے متعدد بار جیف سیشنز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ انھوں نے 2016 امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات کی تفتیش میں حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔

جیف سیشنز نے بھی مستعفی ہوتے ہوئے اپنے خط میں یہ واضح کیا کہ نوکری چھوڑنے کا فیصلہ ان کا اپنا نہیں تھا۔

‘محترم صدر، میں آپ کی درخواست پر اپنی استعفی جمع کرا رہا ہوں۔ بطور اٹارنی جنرل، ہم نے پوری کوشش کی کہ قانون کی حکمرانی ہو اور اصولوں کی پاسداری ہو۔’

واضح رہے کہ گذشتہ سال جولائی میں صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو کہا: ‘جیف سیشنز کو اس تفتیش سے خود کو الگ نہیں کرنا چاہیے تھا اور نوکری لینے سے پہلے مجھے بتانا چاہیے تھا کہ وہ خود کو اس تفتیش سے الگ کر لیں گے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.