72

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا انسانی حقوق کونسل سے خطاب

صدر ایمبیسیڈر کولی سیک. ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق محترمہ بیچلیٹ

حاضرین کرام
معزز مندوبین

جناب صدر میں انسانی حقوق کونسل کی انتہائی قابلیت سے قیادت پر آپ او ر بیورو کا شکریہ اداکرتا ہوں۔

انسانی حقوق کی عالمی اقدار کے فروغ اور تحفظ کے لئے ہائی کمشنر محترمہ بیچلیٹ اوران کے دفتر کی خدمات کو بھی سراہتا ہوں۔

میرے لئے یہ بھی اعزاز کی بات ہے کہ میں آج انسانی حقوق کونسل سے خطاب کررہا ہوں جو عالمی انسانی حقوق کی محافظ ہے۔۔ جو اقوام متحدہ کا تیسرا فعال ستون ہے۔

جناب صدر

یہ وہ گھر ہے جہاں میں بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کی استدعا اور مقدمہ لے کر آیا ہوں جن کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو بھارت پاون تلے روند رہا ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ایک منظم انداز سے مقبوضہ خطے کے عوام کو ظلم وستم کا نشانہ بنایاجارہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔

دہائیوں سے بھارتی جبرو استبداد کا پہلے سے ہی شکار 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کوایک غیرقانونی آپریشن کے ذریعے گزشتہ چھ ہفتے سے عملا قید کردیاگیا ہے ۔۔۔اور اس عرصے میں ظلم وبربریت کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کی تعداد بڑھ کر دس لاکھ تک جاپہنچی ہے۔

جناب صدر آخر کس مقصد کے لئے ؟

جواب واضح ہے۔۔ ان حالات وواقعات نے ایک ملک کا اصل کردار بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے جو خود کو جمہوریت، وفاقیت اور سکیولرازم کا گڑھ بتانے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔

گزشتہ چھ ہفتوں سے بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو کرہ ارض کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی اشیائے ضروریہ اور ذرائع مواصلات تک رسائی ممکن نہیں۔ دکانوں پرسامان فراہم نہ ہونے سے اشیاءکی قلت ہوچکی ہے۔ ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی قلت ہے۔ بھارتی قابض افواج کے بلاامتیاز اور براہ راست بہیمانہ طاقت کے استعمال کی بناءپر بہت سارے زخمی ہونے والے افراد کو ہنگامی طبی امداد تک رسائی میسر نہیں۔
کشمیریوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت چھ ہفتے سے مسلسل گھروں میں نظربند اور قید ہے ، ان کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔

کس قانون کے بناء پر چھ ہزار سے زائد افراد،(جن میں سیاسی وسماجی کارکنان، طالب علموں اور پروفیشنلز شامل ہیں) کو گرفتار کیا گیا ہے؟۔۔ ان میں سے بہت سارے افراد کو جبری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اورجموں وکشمیر میں نافذ کالے قوانین کی آڑ میں بھارت کی دیگر جیلوں میں منتقل کردیاگیا ہے ۔

معزز مندوبین

صرف میں تنہا ءنہیں جو بھارتی بدترین بربریت اور انسانی حقوق کی کھلی پامالیوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرارہا ہوں۔ ۔

دنیا اس پر بول رہی ہے

غیرجانبدار، ممتاز عالمی میڈیا اور غیرجانبدار مبصرین جموں وکشمیر کے عوام پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و بربریت کی مسلسل رپورٹنگ کررہے ہیں۔ ۔

بی بی سی نے 29 اگست کو اپنی رپورٹ میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کی بھیانک تفصیل دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ رپورٹ، بے یارومددگار متاثرین کی بے بسی کا حال متاثرین کے اس بیان کو نقل کرکے دنیا کو دکھا رہی ہے جس میں وہ قابض متشدد افواج کے انسانیت سوز تشدد پر فریاد کررہے ہوتے ہیں ”ہمیں مت مارو، ہمیں قتل کردو۔“(میں نے یہ مضمون آپ سب کے مطالعے کے لئے تقسیم کرایا ہے)

اسی طرح،عالمی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے اپنی دوستمبر کی اشاعت میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں مظلوم اور بے گناہ کشمیریوں کے ساتھ برتی گئی انتہائی سفاکی اوران کی توہین و تذلیل کے حقائق کو بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح قابض بھارتی افواج انتہائی بے رحمی اور بے شرمی سے لوگوں کو برہنہ کرکے سرعام تشدد کا نشانہ بناتی ہیں۔

ایک اور رپورٹ میں پیلٹ گنز کے استعمال سے نشانہ بننے والے افراد کے بارے میں حقائق بیان کئے گئے ہیں جن کا قابض بھارتی افواج سال ہا سال سے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف اندھادھند استعمال کررہی ہے جس سے بڑی تعداد میں بے گناہ کشمیری زندگی بھر کے لئے بصارت سے محروم ہوچکے ہیں۔۔ اب یہ زخمی اس خوف سے ہسپتال جانے سے ہچکچا رہے ہیں کہ قابض بھارتی افواج ان کے خلاف انتقامی کاروائی کریں گی، انہیں گرفتارکرلیاجائے گا اور تشدد کا نشانہ بنایاجائے گا۔

معزز خواتین وحضرات

میں کسی گزرے زمانے یا قرون اولیٰ کی بات نہیں کررہا۔۔ یہ بربریت آج کے دن ہورہی ہے ۔۔ یعنی اکیسیویں صدی میں یہ تمام ظلم وستم ہورہا ہے۔

یقینا مجھے انسانی حقوق کونسل کو یہ یاد کرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سب کچھ متعدد عالمی انسانی حقوق سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے جس پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں۔

یہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی جابرانہ اور ظالمانہ تسلط میں رہنے والے مظلوموں کی سچی داستان ہے جسے دنیا سے چھپانے کے لئے بھارت مضطرب ہے۔ یہ ”دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت“ کا حقیقی چہرہ ہے۔ یہ اس ملک کا طرز عمل ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا آرزو مند ہے۔

جناب صدر

اس ظلم و تباہی کی جڑ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کو ان کا حق خوداردیت دینے سے بھارت کا مسلسل انکار ہے۔

سات دہائیوں سے چلا آنے والا یہ تنازعہ انصاف کے ساتھ سنگین مذاق ہے جو موجودہ بھارتی حکومت کے مذموم عزائم کی وجہ سے مزید سنگین تر ہوگیا ہے۔۔یہ غاصبانہ اقدام بھارتی حکمران جماعت کے منشور میں واضح درج ہے کہ۔۔ بندوق کے زور پر جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے۔
عالمی قانون کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے 5 اگست 2019ءکے بھارت کے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات غیر آئینی ہیں کیونکہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسلمہ تنازعہ تسلیم کررکھا ہے۔ ان غیرقانونی تبدیلیوں کی وجہ سے خود بھارت کے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس نے جموں وکشمیر پر غاصبانہ اور غیرقانونی قبضہ کررکھا ہے۔

یہ اقدامات چوتھے جینیوا کنونشن کے منافی ہیں جو مقبوضہ خطے سے آبادی کی کسی دوسری جگہ منتقلی اور وہاں کسی دوسری جگہ سے آبادی کو لاکر بسانے کے عمل کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھارتی دعویٰ قطعی جھوٹ ہے کہ یہ اقدامات اس کا ”اندرونی معاملہ“ ہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر 70 سال سے زائد عرصہ سے ایک مسلمہ تنازعہ کی صورت موجود ہے۔ 16 اگست کوجموں وکشمیر کے تنازعے پر ہونے والا سلامتی کونسل کا اجلاس اس امر کی تصدیق ہے۔

بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کونسل کے موضوع گفتگو میں محض ”ایک ملک کی مخصوص صورتحال“ نہیں۔بلکہ عالمی قانون ،ایک مقبوضہ اور متنازعہ خطے کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اس مقبوضہ خطے کی صورتحال کا براہ راست عالمی تشویش سے تعلق ہے۔یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔

معزز حاضرین

مقبوضہ جموں وکشمیر کی وادیاں، پہاڑ اور میدان مصائب وآلام کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور اس کی وادیاں ظلم وزیادتی کی صداؤں سے گونج رہی ہیں جہاں روانڈا، سریبرینیکا، روہنگیا اور گجرات میں ہونے والے قتل عام کی المناک یادیں تازہ کررہی ہیں۔

بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام اس وقت بدترین صورتحال سے نبردآزما ہیں۔

کچھ نے کہا ہے کہ ”کشمیر قبرستان کی طرح خاموش ہے۔“ اورکچھ کے مطابق یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔

مجھے وہاں نسل کشی کے بہیمانہ اورانسانیت سوز واقعات بیان کرتے ہوئے جھرجھری آرہی ہے لیکن اس کے باوجود میں مجبور ہوں کہ یہ حقائق لازماً آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ نسل کشی سے متعلق کنونشن کے حوالے سے مقبوضہ خطے میں کشمیری عوام ایک الگ قومی، نسلی اور مذہبی گروپ ہے جن کی زندگیوں ، عزت وآبرو اور بقاءکو ، قاتل، عورتوں سے نفرت کرنے اور دیگر عقائد کے ماننے والوں سے شدید نفرت رکھنے والی حکومت سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ امریکہ میں قائم ایک عالمی شہری تنظیم مقبوضہ جموں وکشمیر میں جینوسائیڈ الرٹ پہلے ہی جاری کرچکی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں صورتحال نسل کشی کے دس درجے پہلے ہی عبور کرچکی ہے۔

معزز مندوبین

مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم وزیادتیوں کو چھپانے کی کوشش میں انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے بھارت ”دہشت گردی“ اور ”سرحد پار دہشت گردی“ کا جھوٹا لیبل استعمال کررہا ہے ۔

پاکستان نے متعدد دوطرفہ اور کثیرالطرفہ طریقہ ہائے کار تجویز کئے ہیں جو بھارت کے خودساختہ دعوں کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں یہ تجویز بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کے مبصرین کی تعداد دوگنا کردی جائے جو لائن آف کنٹرول کی نگرانی کریں۔ بھارت ان تجاویز کو مسترد کرتا ہے۔

مجھے ڈر ہے کہ بھارت ایک مرتبہ پھر ”فالس فلیگ“ آپریشنز کرے گا اور ”دہشت گردی“ کے عفریت کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کرسکتا ہے اور پاکستان پر حملہ بھی کرسکتا ہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کا ایک بھارتی حربہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے لئے 2003ءمیں ہونے والے معاہدے کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں ہیں، مسلسل آزاد کشمیر میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بھارت نے تمام عالمی انسانی بنیادی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے کلسٹر بم اور بھاری ہتھیار استعمال کئے ہیں ۔ یہ عمل فوری بند ہونا چاہئے۔

جناب صدر

بھارتی جارحانہ اور ڈریکونین اقدامات کے نتیجے میں جوہری جنوبی ایشیاءاور اس سے آگے تک، امن وسلامتی کو لاحق سنگین خطرات سے، میں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کومسلسل صورتحال کا احساس دلایا ہے۔

ہم نے خطے میں وقوع پذیر صورتحال پر سلامتی کونسل کے ارکان کی مشاورت کا خیرمقدم کیا ہے۔

سلامتی کونسل جموں وکشمیر کے تنازعہ سے جڑے امن وسلامتی کے پہلووں سے آگاہ ہے، انسانی حقوق کونسل کو ایک بڑا کردار ادا کرنا پڑیگا اور اسے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدام اٹھانا ہونگے۔

میں انسانی حقوق کونسل کی توجہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جون 2018 اور جولائی 2019ءمیں جاری ہونے والی دو رپورٹس کی جانب مبذول کراتے ہوئے زور دوں گا کہ ان رپورٹس پر کونسل غور کرے۔

دونوں رپورٹس میں اس کونسل کو واضح سفارش کی گئی ہے کہ غیرجانبدار انکوائری کمشن تشکیل دیاجائے جو جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔

میں اس پلیٹ فارم پر پرزور انداز میں کہہ رہا ہوں کہ پاکستان ان رپورٹس میں دی جانے والی تجاویز کی تائید کرتا ہے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کونسل میں ان دونوں رپورٹس پر بالخصوص بحث ہونی چاہیے اور اس ایوان کو متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ بھارت، پاکستان اور انسانی حقوق کونسل ان سفارشات پر عمل درآمد کرے۔

اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو اسے انکوائری کمیشن کے مقبوضہ وادی جانے کے راستے میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہئیں جیسا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے سفارش کی ہے۔ پاکستان مجوزہ انکوائری کمیشن یا دیگر طریقہ ہائے کار کو اپنی طرف لائن آف کنٹرول تک رسائی دینے کے لئے تیار ہے جبکہ بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں بھی دوسری طرف بھارت رسائی دے۔
جناب صدر

انسانی حقوق کونسل کو کشمیری عوام کی حالت زار، خطرے کی سنگین علامات اور انسانی المیہ کے حل کے لئے فوری توجہ دینا ہوگی۔

اس مقصد کے لئے کونسل درج ذیل فوری اقدامات کرے

1۔ بھارت پر زور دیا جائے کہ فوری طورپر پیلٹ گنز کا استعمال اورقتل وغارت گری بند کرے، کرفیو اٹھائے، کمیونیکشن بلیک آوٹ ختم کرے، آزادی اور بنیادی شہری حقوق بحال کرے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو نشانہ بنانا بند کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، انسانی حقوق کے مختلف قوانین اور ضابطوں کے تحت ذمہ داریاں پوری کرے جیسا کہ عالمی قانون کے تحت تقاضا ہے۔ بھارتی ڈریکونین ایمرجنسی قوانین جموں وکشمیر میں لاگو رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی

2۔ بے گناہ کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنیگن خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے اقدامات کرے۔اس تناظر میں انکوائری کمشن تشکیل دیا جائے جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر نے تجویز کیا ہے۔

3۔ بھارت، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر کے دفتر کو اجازت دے کہ انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت، مینڈینٹ ہولڈرز، بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کریں اور ان سے متلعق اپنی رپورٹ سے مستقل بنیادوں پر کونسل کو آگاہ کرے۔

4۔ بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرے-

معززین کرام
آج میں نے انسانی حقوق کونسل کے دروازے پر دستک دی ہے جو انسانی حقوق پر عالمی ضمیر کی محافظ ہے تاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے لئے انصاف اور احترام کا تقاضاکروں۔

آج اجتماعی انسانیت ، وہ اصول جسے ہم سب تسلیم کرتے ہیں اور جو ہمیں انسان بناتا ہے، داؤ پر لگا ہوا ہے۔

سیاسی، تجارتی اور فروعی مفادات کی بناءپر ہماری سوچ اور اقدام کو متزلزل نہیں ہونا چاہئے۔
ہمیں اس معزز ادارے کو عالمی منظر نامے پر شرمندہ وشرمسار ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ کونسل کے بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان اخلاقی طورپر خود کو پابند سمجھتا ہے کہ ایسا کچھ ہونے سے روکے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے ہمیں اس المیے سے لاتعلق نہیں رہنا چاہئے جو ہماری آنکھوں کے سامنے اس وقت رونما ہورہا ہے۔ ہمیں فیصلہ کن انداز میں اور پوری ثابت قدمی سے آگے بڑھنا ہے۔

معزز حاضرین

ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ تاریخ ناکام، بربریت پر مبنی مہمات، حقائق کو تبدیل کرنے کے لئے آبادی کے تناسب کی جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ بھارت کو بھی اپنی کوشش میں منہ کی کھانی پڑے گی اور یہ کوشش ناکام ہوگی۔ لیکن آپ کی ذمہ داری ہے کہ بھارتی قابض افواج کو بے گناہوں کا مزید خون بہانے سے روکیں۔

سات دہائیوں سے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں کہ استصواب رائے کا حق دینے کا ان سے کیاگیا وعدہ پورا کیاجائے۔ اس خطرناک ترین مرحلے میں غیرقانونی قبضے کا شکار، لوگوں کی مدد اور دادرسی میں اگر ہم ایک بارپھر ناکام ہوئے تو یاد رکھنا چاہئے کہ تاریخ ایک ایسا منصف ہے جو کسی کو معاف نہیں کرتی۔

میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.